افسانہ

اگر

’’سیمی ایک کپ چائے تو بنا دو۔ پلیز‘‘ ’’اس وقت؟ یہ کون سا وقت ہے چائے پینے کا ؟ رات کو نیند بھی نہیں آئے گی۔‘‘ سیمی جو کہ پوری طرح ناول میں گم تھی اسے یہ بے وقت کی راگنی بہت کھلی۔ ’’میرا ابھی موڈ ہے چائے پینے کا تو کیا اب میں صبح کا انتظار کروں ؟‘‘ ’’افوہ۔۔۔ سارے دن میں ایک ...

مزید پڑھیے

ظالم محبت

دوسرے دن میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ حسین صبح اپنی سحر انگیز آنکھوں کو کھول رہی ہے۔ باغ کی طرف کے دریچے کھلے ہوئے تھے اور آفتاب کی اچھوتی کرنیں گرجنے والے نیلے سمندر پر مسکرا رہی تھیں۔ باغیچے میں راگ گانے والے پرند مصروف نغمہ تھے مگر میرا دل اس دل فریب صبح میں بھی پریشان تھا۔ ...

مزید پڑھیے

ممی خانے میں ایک رات

اُس شب میں بڑی دیر تک اپنی تجربہ گاہ میں مردوں کی چیرپھاڑ میں مصروف رہا۔ رات بہت گرم اور بے حد ویران تھی۔ لیبارٹری کے دریچوں کے باہر اندھیرا جیسے تکان سے نڈھال ہوکر لمبے لمبے سانس لے رہا تھا۔ نہ آسمان پر کہیں چاند تھا نہ زمین پر کسی قسم کی آواز۔ دور دور تک تاریکی اور ویرانی ...

مزید پڑھیے

ہمجنس با ہمجنس

(۱) میں اپنے کتب خانے میں برقی چراغ کے آگے اس لمبے چوڑے خط کو لیے حیران کھڑی تھی۔ خط بہت طویل تھا۔ ہر سطر مسرت و انبساط میں ڈوبی ہوئی تھی، ’’دیکھنا پیاری روحی! تم فوراً یہاں چلی آؤ۔ اس مسرت وشادمانی کے زمانے میں تمہاری غیرموجودگی نہایت نازیبا ہے۔ ہم لوگ کوہِ زیتون پر آج ...

مزید پڑھیے

صنوبر کے سائے

میں جب سے ان پہاڑی علاقوں میں آئی تھی ’’نہر روحناک‘‘ کی رعنائیوں کا ذکر ہر خاص و عام سے سنتی تھی، لوگ کہتے، اس کے صنوبر کے سایوں سے ڈھکے ہوئے کناروں پر سہا نے خوابوں کی رومان جھلملاتی ہے۔ پہاڑی خانہ بدوشوں کا بیان تھا کہ نا معلوم پہاڑوں کی بلندیوں نے ایک مقام پر آسمان کے نیل ...

مزید پڑھیے

جنازہ

(۱) جنوری کی ایک سرد رات باہر آسمان پر بادل ایک خاموش استقلال سے مسلط تھے۔ چمن کے سوکھے پتے دریچے کے باہر خنک ہوا سے رہ رہ کر بے قرار ہورہے اور شور مچا رہے تھے۔ ایسے وقت میں میں اپنی حسین نشست گاہ میں ایک اونچے برقی لمپ کے نارنجی رنگ۔۔۔ کے نیچے ایک مخملی آرام دہ کرسی پر بیٹھی تھی ...

مزید پڑھیے

وہ قدیم اداس رات

وہ قدیم اداس رات، ہائے! وہ بچھڑے ہوئے وقت کی ایک بہت پرانی مگر بہت ہی اداس اورالمناک رات جس کی سیاہی، جس کی خاموشی اور جس کی اداسی آج بھی، آج اتنے سالوں بعد بھی میری روح کو آمادہ گریہ کر رہی ہے اور قلب پر ایک عجیب کیفیت طاری کر دیتی ہے۔ شاید اس رات کے مختصر اورناتمام حالات سے ...

مزید پڑھیے

بیمار غم

ابھی تو زردی ہے رخ پہ کم کم،ابھی سے روتے ہیں سارے ہمدم یونہی جو چندے رہی تپ غم، تو پھر لہو بھی نہیں رہے گا اسے لاکر اس کی خواب گاہ میں لٹا دیا گیا۔ رات گرم تھی اور ویران۔ اس کی خواب گاہ کی دیواریں ہلکے آسمانی رنگ کی تھیں۔ اس پر سیاہ رنگ میں چینی کسانوں کی تصویریں پینٹ کی ہوئی تھیں ...

مزید پڑھیے

یاد رفتگان

(رات کے سناٹے میں) کچھ خبر ہے تجھ کو اے آسودہ خواب لحد شب جو تیری یاد میں ہم تا سحر رویا کے رونے والے تیرے تجھ کو عمر بھر رویا کے روزوشب رویا کئے شام و سحر رویا کےا پیارے رفیق! مجھے ڈر ہے کہ آج کی رات بھی۔۔ اپنی الم انگیزی اور ماتمی نشانات کے سبب کتاب زندگی کا اک یادگار باب بنےگی! ...

مزید پڑھیے

وہ طریقہ تو بتا دو تمہیں چاہیں کیونکر؟

بہار کی ایک سنہری صبح میں صوفی اطمینان سے بیٹھی نفسیاتی مباحثہ کی ایک کتاب کے دلائل کو فی کے گھونٹوں کی امداد سے دماغ میں اتارنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اچانک ریحانی اپنے کالج کا بلیز پہنے ہانپتے ہوئے دریچے میں سے اندر کمرے میں کود پڑا۔ ’’تم۔۔۔!‘‘ ’’میں!‘‘ صوفی، ’’چوروں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 171 سے 233