افسانہ

دوسرا گناہ

اس دن الیملک دستر خوان سے بھوکا اٹھا، اس نے زمران کے سامنے رکھی ہوئی روٹی پر نظر کی، پھر دسترخوان پر چنی ہوئی روٹیوں کو اور لوگوں کو دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا اور یہ وہ لوگ تھے جو دور کی زمین سے چل کر یہاں پہنچے تھے، ان کی زمین ان پر تنگ ہو گئی تھی، انہوں نے اپنے معبدوں اور مقبروں اور ...

مزید پڑھیے

ہندوستان سے ایک خط

عزیز از جان سعادت و اقبال نشان برخوردار کامران طول عمرہ بعد دعا اور تمنائے دیدار کے یہ واضح ہو کہ یہ زمانہ خیریت تمہاری نہ معلوم ہونےکی وجہ سے بہت بے چینی میں گزرا۔ میں نے مختلف ذرائع سے خیریت سے خیریت بھیجنے اور خیریت منگانے کی کوشش کی مگر بے سود۔ ایک چھٹی لکھ کر ابراہیم کے ...

مزید پڑھیے

۳۱ مارچ

اس محبت کی مدت دس مہینے تیس دن ہے۔ یعنی یکم مئی ۵۸ء کو اس کا آغاز ہوا اور ۳۰مارچ ۵۹ء اس کا انجام ہوا۔ اصل میں اس کاانجام مارچ کی آخری تاریخ کو ہونا تھا۔ اس صورت میں حساب سیدھا ہوتا اور محبت کی مدت گیارہ مہینے ہوتی۔ گھپلا اس وجہ سے پیدا ہوا کہ حسن مارچ کو تیس دن کا مہینہ سمجھے ہوئے ...

مزید پڑھیے

کایا کلپ

شہزادہ آزاد بخت نے اس دن مکھی کی صورت میں صبح کی۔۔۔ اور وہ ظلم کی صبح تھی کہ جو ظاہر تھا چھپ گیا، اور جو چھپا ہوا تھا وہ ظاہر ہوگیا، تو وہ ایسی صبح تھی کہ جس کے پاس جو تھا وہ چھن گیا اور جو جیسا تھا ویسا نکل آیا۔ اور شہزادہ آزاد بخت مکھی بن گیا۔ شہزادہ آزاد بحت نے پہلے اس بات کو ایک ...

مزید پڑھیے

پتے

اگلے دن وہ پھر اسی گلی میں گیا اور اسی دروازے کو کھٹکھٹایا، پھر وہی کومل پیروں والی ڈیوڑھی پہ آئی اور پھر اس نے نیچی نظروں کے ساتھ بھکشا پاتر آگے کر دیا اور بھکشا لے کے چلا گیا۔ یہی اس کا نیَم تھا۔ کتنی ڈیوڑھیوں سے کتنی ناریوں کے ہاتھوں سے اس نے بھکشا لی تھی مگر کبھی نظر اٹھا کے ...

مزید پڑھیے

اجنبی پرندے

شکل اس کی گھڑی گھڑی بدلتی کبھی روشن دان کی حد سےنکل کر تنکوں کا جھومر دیوار پر لٹکنے لگتا، کبھی اتنا باہر سرک آتا کہ آدھا روشن دان میں ہے، آدھا خلا میں معلق، کبھی اکا دکا تنکے کا سرکشی کرنا اور روشن دان سے نکل چھت کی طرف بلند ہوکر اپنےوجود کا اعلان کرنا۔ چڑا چڑیا گھونسلے سے نکل ...

مزید پڑھیے

یاں آگے درد تھا

اس کالج کی عمارت عجیب بے تربیتی سے بنی ہے، ایک طرف سب سے الگ تھلگ مثلث کی شکل میں چند کمرے بنے ہوئے ہیں، پھر اس سے بالکل ہٹ کر کمروں کی ایک مختصر سی قطار نظر آتی ہے، اس کے ختم پر یہ احساس ہوتا ہے کہ کالج کی عمارت ختم ہو گئی، لیکن اس سے تھوڑے ہی فاصلہ پر کمروں کا ایک اور ہجوم ہے۔ جس ...

مزید پڑھیے

بادل

وہ بادلوں کی تلاش میں دور تک گیا۔ گلی گلی گھومتا ہوا کچی کوئیا پہنچا۔ وہاں سے کچے رستے پر پڑلیا اور کھیت کھیت چلتا چلا گیا۔ مخالف سمت سےایک گھسیارا گھاس کی گٹھری سر پر رکھے چلا آرہا تھا۔ اسے اس نے روکا اور پوچھا کہ ’’ادھر بادل آئے تھے؟‘‘ ’’بادل؟‘‘ گھسیارے نے اس تعجب سے کہا ...

مزید پڑھیے

پسماندگان

ہاشم خان اٹھایئس برس کا کڑیل جوان، لمبا تڑنگا، سرخ و سفید جسم آن کی آن میں چٹ پٹ ہو گیا۔ کمبخت مرض بھی آندھی و دھاندی آیا۔ صبح کو ہلکی حرارت تھی، شام ہوتے ہوتے بخار تیز ہو گیا۔ صبح جب ڈاکٹر آیا تو پتہ چلا کہ سرسام ہو گیا ہے۔ غریب ماں باپ نے اپنی سی سب کچھ کر ڈالی۔ دن بھر میں ڈاکٹر ...

مزید پڑھیے

کچھوے

ودّیا ساگر چپ ہو گیا تھا۔ اس نے بھکشوؤں کو اونچی آوازوں سے بولتے سنا، لڑتے دیکھا اور چپ ہوگیا، سنتا رہا، اور چپ رہا، پھر ان کے بیچ سے اٹھا اور نگر سے باہر نگر باسیوں سے ایک شال کے پیڑ کے نیچے سمادھی لگا کر بیٹھ گیا، اور کنول کے ایک پھول پر نظریں جمائیں جو پھولا، مسکایا اور مرجھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 168 سے 233