افسانہ

احسان منزل

یہ اس زمانے کا ذکر ہے کہ جب علامہ راشدالخیری ابھی زندہ تھےاور رسالہ’’عصمت‘‘ ہر مہینے باقاعدگی سے احسان منزل میں پہنچتا تھا۔ ’’عصمت‘‘ کی خریداری بھی دراصل احسان منزل کی تاریخ کا بہت اہم واقعہ ہے، یہ پرچہ جب پہلی مرتبہ احسان منزل میں پہنچا تو سارے محلہ میں ایک شور پڑ گیا۔ جس ...

مزید پڑھیے

بگڑی گھڑی

سامنے والی دوکان سے رحیم جو اس بحث پر مستقل کان لگائے ہوئے تھا موتی چور کے لڈو گوندھتے گوندھتے اونچی آواز میں بولا، ’’ابو نجومی تیرا علم کیا کہوے ہے۔‘‘ گم متھان سینک سلائی ابو نجومی نے کہ دیر سے اکڑوں بیٹھا سلیٹ پر خانے بنائے اور مٹائے جا رہا تھا ہاتھ کو روکا، آنکھیں بند کر ...

مزید پڑھیے

مردہ راکھ

کہتے ہیں کہ اس برس سواری نہیں آئی تھی، یہ بڑا علم گم ہونے کے ایک سال بعد کا واقعہ ہے، بڑا علم پہلے گروی رکھا گیا تھا، پھر سونے کے کئی علم دے کر اسے عین نو محرم کو چھڑایا گیا، جب وہ سجا کر بلند کیا گیا تو دیکھا کہ وہ سرخ انگارہ ہو گیا ہے، سرخ انگارہ پنجہ پہلے بہت دیر تک تھراتا رہا۔ ...

مزید پڑھیے

نرناری

مدن سندری کتنی خوش تھی کہ دیوی نے اس کی سن لی، نہیں تو بھیا اور پتی دونوں ہی کو وہ کھو بیٹھی تھی۔ بھیا جب سدھارنے لگا تو اس کی خوب بلائیں لیں۔ گوپی نے بھی اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، دعا دی، دعالی، اور چلا گیا۔ گوپی کے چلے جانے کے بعد بھی مدن سندری دیوی کے گن گاتی رہی، دھا ول اس کی ہاں ...

مزید پڑھیے

وہ جو دیوار کو نہ چاٹ سکے

پھر یہی ہوا کہ یاجوج ماجوج رات بھر دیوار کو چاٹا کیے۔ یہاں تک کہ دیوار تحلیل ہوتے ہوتے انڈے کے چھلکے کی مانند ہو گئی اور پھر یاجوج ماجوج تھک گئے اور انہیں نیند آنے لگی اور وہ یہ کہہ کر سو گئے کہ باقی دیوار صبح کو چاٹیں گے۔ مگر جب وہ صبح کو اٹھے تو دیوار پھر اونچی اور موٹی ہو گئی ...

مزید پڑھیے

ہمسفر

یہ اسے دیر بعد معلوم ہوا کہ وہ غلط بس میں سوار ہوگیا ہے۔اس کے آگے کی نشست پر بیٹھا ہوا دبلا پتلا لڑکا جو ایک چھوٹے سے سوٹ کیس کے ساتھ اسی اسٹاپ سے سوار ہوا تھا گھبرایا گھبرایا تھا۔ لڑکے نے آگے پیچھے مختلف مسافروں کو گھبرائی نظروں سے دیکھا۔ ’’یہ موڈل ٹاؤن جائے گی؟‘‘ ’’ہاں، ...

مزید پڑھیے

دوسرا راستہ

میرا نصیب العین۔۔۔ مسلمان حکومت کے پیچھے جمعہ ادا کرنا۔۔۔ وہ بہت چکرایا، یہ کیسا نعرہ ہے مگر کتبے پر تو یہی کچھ لکھا ہوا تھا۔ اس وقت وہ ڈبل ڈیکر کی بالائی منزل میں دریچے کے برابر کی نشست پر بیٹھا تھا، اور باہر دیکھ رہا تھا، سفر میں خواہ وہ بس کا سفر ہو یا لاری کا، یا ریل گاڑی کا، ...

مزید پڑھیے

کشتی

باہر مینھ برس رہا تھا۔ اندر حبس بہت تھا، حبس سے پریشان ہوکر کسی نے سر باہر نکالا پھر فوراً ہی اندر کر لیا۔ ’’بارش کچھ کم ہوئی؟‘‘ ’’بالکل کم نہیں ہوئی، اسی شور کے ساتھ ہوئے چلی جا رہی ہے، یہ بارش ہے یا قیامت ہے؟‘‘ ’’اندر کے حبس سے تو بہرحال بہتر صورت ہے۔‘‘ ’’کوئی بہتر ...

مزید پڑھیے

قدامت پسند لڑکی

وہ چست قمیض پہنتی تھی اور اپنے آپ کو قدامت پسند بتاتی تھی۔ کرکٹ کھیلتے کھیلتے اذان کی آواز کان میں پہنچ جاتی تو دوڑتے دوڑتے رک جاتی، سرپہ آنچل ڈال لیتی اور اس وقت تک باؤلنگ نہیں کرتی جب تک اذان ختم نہ ہوجاتی۔ یہ اس لڑکی کا ذکر ہے جو مہاتما بدھ کی پیرو تھی اور تیسوں روزے رکھتی ...

مزید پڑھیے

وہ جو کھوئے گئے

زخمی سر والے آدمی نے درخت کے تنےسے اسی طرح سرٹکائے ہوئے آنکھیں کھولیں۔ پوچھا، ’’ہم نکل آئے ہیں؟‘‘ باریش آدمی نے اطمینان بھرے لہجہ میں کہا۔ ’’خدا کاشکر ہے ہم سلامت نکل آئے ہیں۔‘‘ اس آدمی نےجس کے گلے میں تھیلا پڑا تھا تائید میں سرہلایا، ’’بیشک، بیشک کم از کم ہم اپنی جانیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 167 سے 233