افسانہ

سیڑھیاں

بشیر بھائی ڈیڑھ دو منٹ تک بالکل چپ بیٹھے رہے، یہاں تک کہ اختر کو بے کلی بلکہ فکر سی ہونے لگی، انھوں نے آہستہ سے ایک ٹھنڈا سانس لیا اور ذرا حرکت کی تو اختر کی جان میں جان آئی مگر ساتھ میں ہی یہ دھڑکا کہ نہ جانے ان کی زبان سے کیا نکلے۔ ’’وقت کیا تھا؟‘‘ ’’وقت؟‘‘ اختر سوچ میں پڑ ...

مزید پڑھیے

انتظار

’’یار کب آئے گا وہ، مجھے تو نیند آنے لگی۔‘‘ ’’ابھی سے؟ ابھی کون سی آدھی رات ہو گئی۔‘‘ ’’یارمیری عجب عادت ہے، ویسے میں رات بھر جاگ لوں، لیکن اگر کسی کا انتظار کرنے کو کہا جائے تو پھر میری آنکھوں میں نیند تیرنے لگتی ہے۔‘‘ ’’فضول آدمی۔۔۔‘‘ کنجی آنکھوں والا بولا، ...

مزید پڑھیے

محل والے

بڑی بھابھی بھی یہی کہتی تھیں کہ انھوں نے اپنے ہاتھ سے جج صاحب کی تصویر صندوق میں رکھی تھی، نہ معلوم یہ بڑی بھابھی کی بھول تھی یا راستے میں کوئی واردات گزری، بہرحال جب پاکستان آکر سامان کھولا گیا تو جج صاحب کی تصویر غائب تھی، جج صاحب کی تصویر کے ساتھ تو یہ سانحہ گزرا اور محل کو ...

مزید پڑھیے

شرم الحرم

’’مسٹر مصطفےٰ فائق تمہارا گھر کہاں تھا؟‘‘ مصطفےٰ فائق نے سامنے میز پر پڑے ہوئے نقشے کو سامنے سرکایا، انگلی رکھ کر کہا، ’’میرا گھر اس جگہ ہے۔‘‘ ’’یہ تو سرحد پر ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا گھر تو گیا۔‘‘ مصطفےٰ فائق رکا، پھر دانت چبا کر بولا، ’’میرا گھر نہیں جا ...

مزید پڑھیے

میوہ فروش

سیٹھ فاروق بمبئی کے مشہور تاجروں میں تھے۔ ان کے مال و متاع کا اندازہ مشکل تھا۔ ان کے مقدر کی قسم کھائی جاتی تھی۔ مٹی میں ہاتھ ڈالتے تو سونا ہو جاتی۔ وہ بمبئی کی سب سے بڑی جہازراں کمپنی کے مالک اور ایک بین الاقوامی بینک کے سب سے بڑے حصہ دار تھے۔ بمبئی کے علاوہ ان کی ایک کپڑے کی مل ...

مزید پڑھیے

ہوا بند کیوں ہے؟

پہلی بار جب پہرے والا سپاہی سلاخوں کے باہر سے گذرا تو احمد کو وہ خیال آیا۔ دوسری دفعہ وہ اسے آواز دینے کو ہوا اور ہونٹ کھول کر رہ گیا۔ اس کے بعد سپاہی نے متواتر کئی پھیرے کئے، لیکن احمد کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا۔ بالاخر جب اس نے آواز دی تو وہ اتنی مدھم تھی کہ جیل کی اس کوٹھری میں ...

مزید پڑھیے

تازہ ہوا کے شور میں !

شام کا اندھیرا بیٹھتے ہوئے غبار کی طرح آہستہ آہستہ آنگن میں اتر آیا تھا ۔ نیم کے پیڑ پر چڑیاں دیر ہوئی شور مچا کر خاموش ہو چکی تھیں ۔ لیکن نیچے کنویں پر سہ پہر کے رکھے ہوئے برتن اب تک پڑے تھے جنہیں کوؤں نے کچھ دانے کی تلاش میں کھینچ کھینچ کر ادھر اُ دھر پھیلا دیا تھا ۔ اب اندھیرے ...

مزید پڑھیے

روزن

ابے سالے کیا کرتا ہے جسیم چپراسی کی پاور ہارن جیسی آواز چودہ سالہ معید کے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اُتر گئی ۔ اس کے کان تپ کر سرخ ہوگئے ۔ پھر یہ سرخی چہرے پر پھیل گئی اور ایک سنسنا ہٹ سی گردن سے گزرتی ہوئی سینے میں اُترنے لگی ۔ غصے سے اس کا سارا جسم کانپنے لگا ۔ ہر چند کہ اس ...

مزید پڑھیے

آرزوؤں کا ایک ویرانہ

جنوری کی ٹھٹھرتی ہوئی سنسان رات نفیسہ کے گیسوؤں کی طرح آدھی ادھر اور آدھی اُدھر تھی ۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس کے گیسو اندھیری رات کی طرح سیاہ تھے اور آج کی رات دودھیا چاندنی میں سفید گلاب کی طرح کھلی ہوئی تھی ۔ وہ کھڑکی کے قریب اپنی پلنگ پر بے حس و حرکت پڑی باہر دیکھ رہی تھی ۔ کھڑکی ...

مزید پڑھیے

جونک

کریم کو شہر آئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا ۔ وہ ایک دور افتادہ جزیرے میں رہتا جہاں مچھیروں کی مختصر سی آبادی تھی ۔ اپنی چھوٹی سی پرانی کشتی پر وہ سمندر میں مچھلیاں پکڑتا تھا ۔ دن بھر میں بمشکل دو ٹوکرے مچھلی پکڑ پاتا ۔ شام کو شہر سے مختلف آڑھتی آتے اور گاؤں کے تمام ماہی گیروں کی مچھلیاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 169 سے 233