روپ نگر کی سواریاں
منشی رحمت علی حسب عادت منہ اندھیرے اکول کے اڈے پر پہنچ گئے۔ اڈا سنسان پڑا تھا۔ چاروں طرف اکّے ضرور نظر آتے تھے لیکن بے جتے ہوئے۔ ان کے بموں کا رخ آسمان کی طرف تھا اور چھتریاں زمین کی طرف جھکی ہوئی تھیں۔ جابجا کھونٹوں سے بندھے ہوئے گھوڑے یا تو اونگھ رہے تھے یا ایک الکساہٹ کے ساتھ ...