افسانہ

روپ نگر کی سواریاں

منشی رحمت علی حسب عادت منہ اندھیرے اکول کے اڈے پر پہنچ گئے۔ اڈا سنسان پڑا تھا۔ چاروں طرف اکّے ضرور نظر آتے تھے لیکن بے جتے ہوئے۔ ان کے بموں کا رخ آسمان کی طرف تھا اور چھتریاں زمین کی طرف جھکی ہوئی تھیں۔ جابجا کھونٹوں سے بندھے ہوئے گھوڑے یا تو اونگھ رہے تھے یا ایک الکساہٹ کے ساتھ ...

مزید پڑھیے

پچھتاوا

مادھو پیدا ہوکر بہت پچھتایا، مگر پچھتانے سے کیا ہوتا تھا، پیدا تو وہ ہوچکا تھا، اصل میں وہ ماں کے بھرّے میں آگیا، عجیب بات ہے کہ ماں ہی کی باتوں سے اس کے اندر یہ بات بیٹھ گئی کہ آدمی کو پیدا ہی نہیں ہونا چاہیئے اور ماں ہی کی باتوں میں آکر وہ پیدا ہونے پہ رضا مند ہوگیا، اسی پچھتاوے ...

مزید پڑھیے

وہ اور میں

اب اس میز پربس چائے کے باسی برتن تھے اور بجھے ہوئے سگریٹوں کے ٹکڑے، سگریٹ کی راکھ کچھ میز بکھری ہوئی، کچھ ایش ٹرے میں پڑی ہوئی، اس نے میز کا جائزہ لیا، پھر کاؤنٹر پہ گیا، منیجر سے پوچھا، ’’وہ زینے کے برابر والی جو میز ہے اس پر ایک شخص بیٹھا تھا وہ چلا گیا؟‘‘ منیجر نے زینے کے ...

مزید پڑھیے

خواب اور تقدیر

ناقوں پہ سوار چپ سادھے سانس رو کے ہم دیر تک اس راہ چلتے رہے حتیٰ کہ آگے آگے چلتے ہوئے ابوطاہر نے اپنے ناقے کی نکیل کھینچی اوراطمینان بھرے لہجہ میں اعلان کیا، ’’ہم نکل آئے ہیں۔‘‘ ’’نکل آئے ہیں۔‘‘ ہم تینوں نے تعجب اور بے یقینی سے ابوطاہر کو دیکھا، ’’رفیق کیاہم تیرے کہے پر ...

مزید پڑھیے

لمبا قصہ

اس نے مجھے حیران ہو کر دیکھا اور پوچھا، ’’تمہیں کیسے پتہ چلا؟‘‘ میں نے کہا، ’’بس ہمیں پتہ چل گیا، بتاؤ کہ وہ قصہ کیا تھا؟‘‘ کہنے لگا، ’’یار اصل میں وہ تھی میری کلاس فیلو، ہم دونوں نے ایک ہی سبجکٹس لے رکھے تھے اور بات یہاں سے شروع ہوئی۔۔۔‘‘ کہتے کہتے رکا جیسے اسے بہت سی ...

مزید پڑھیے

زرد کتا

ایک چیز لومڑی کا بچہ ایسی اس کے منہ سے نکل پڑی۔ اس نے اسے دیکھا اورپاؤں کے نیچے ڈال کر روندنے لگا، مگر وہ جتنا روندتا تھا اتناوہ بچہ بڑا ہوتا جاتا تھا۔ جب آپ یہ واقعہ بیان فرما چکے تھے تو میں نے سوال کیا، ’’یا شیخ۔۔۔ لومڑی کے بچہ کا رمز کیا ہے اور اس کے روندے جانے سے بڑے ہونے میں ...

مزید پڑھیے

شہر افسوس

پہلا آدمی اس پریہ بولا کہ میرے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے کہ میں مرچکا ہوں۔ تیسرا آدمی یہ سن کر چونکا اور کسی قدر خوف اور حیرت سے اسے دیکھنے لگا مگر دوسرے آدمی نے کسی قسم کے ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ حرارت سے خالی سپاٹ آوازمیں پوچھا، ’’تو کیسے مر گیا؟‘‘ پہلے آدمی نے اپنی بے ...

مزید پڑھیے

پرچھائیں

وہم تھا۔ اس نے سوچا۔ ورنہ یوں بھی کہیں ہوا ہے؟ اس نے اپنی عینک درست کی اور رومال سے گردن کو پونچھا، اتنی سی دیر میں وہ پسینے سے تر بتر ہوگیا تھا، دل اب بھی زور زور سے دھڑک رہا تھا لیکن دھڑکنوں کے درمیان وقفے لمبے ہوگئے تھے۔ اب اسے پشیمانی ہو رہی تھی کہ محض ایک وہم پر وہ بھاگ کھڑا ...

مزید پڑھیے

مورنامہ

اللہ جانے یہ بدروح کہاں سے میرے پیچھے لگ گئی۔ سخت حیران اور پریشان ہوں۔ میں تو اصل میں موروں کی مزاج پرسی کے لیے نکلا تھا۔ یہ کب پتا تھا کہ یہ بلا جان کو چمٹ جائے گی۔ وہ تو اتفاق سے اس چھوٹی سی خبر پر میری نظر پڑ گئی ورنہ اس ہنگامہ میں مجھے کہاں پتہ چلنا تھا کہ وہاں کیا واردات گزر ...

مزید پڑھیے

کٹا ہوا ڈبہ

’’تو بھائی یہ سب کہنے کی باتیں ہیں، سفر وفر میں کچھ نہیں رکھا۔‘‘ بنؔدو میاں کی داستان بڑی دلچسپی سے سنی گئی تھی لیکن یہ محاکمہ شجاعت علی کو پسند نہیں آیا، کہنے لگے، ’’خیر یہ تو نہ کہو، آخر بڑے بوڑھوں نے بھی کچھ دیکھا ہی تھا کہ حرکت کو برکت بتاتے تھے، تمہاری کیا عمر اور کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 166 سے 233