افسانہ

ایک پاگل کہانی

جب شائستہ الفاظ میں ملبوس اس کہانی کو خلق ہوئے دس برس بیت گئے، تو میں نے اسے خیالات کا نیا لباس عطا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس یقین کے ساتھ کہ لباس کی تبدیلی کے حساس عمل کے دوران کہانی کی روح سے چھیڑ خانی سے باز رہوں گا۔ گو یہ ممکن نہیں تھا! یہ عجیب و غریب کہانی میں نے دس برس قبل لکھی ...

مزید پڑھیے

سرد خانے کا ملازم

جب غفور نے لاش وصول کی، وہ بری طرح تپ رہی تھی! وہ چونکا ضرور، لیکن حیران ہونے سے باز رہا۔ اور ایسا کرنا مشکل نہیں تھا، سردخانے کے درودیوار حیرت چُوس لینے کے عادی تھے۔ اور پھر۔۔۔ مُردے پر چڑھا تپ امکانی تھا کہ آج گرمی کچھ زیادہ تھی! لیکن جب انچارج کی جانب سے، مشینی انداز میں، لاش ...

مزید پڑھیے

سسکتی ہوئی قلقاریاں

اس کی چھاتیوں میں زندگی تھی، جو اسے تکلیف دیتی، قطرہ قطرہ ٹپکتی، سینہ بند گیلا کرتی، نشان چھوڑتی، اور باقی رہتی۔ اس کا سینہ بھرا ہوا تھا۔ کاندھے جھکے تھے۔ وہ درد میں مبتلا تھی۔ اس رس کے سبب، جو اس کے سینے کا ابھار تھا، وہاں جوش مارتا تھا۔ جسے نئی نسل کی پرورش کرنی تھی کہ وہ نئی ...

مزید پڑھیے

چھنال

مون سون کی پہلی بارش والے روز اس کا جسم درد سے اینٹھ رہا تھا، اور وہ چارپائی پر پڑی رہنا چاہتی تھی۔ صبح سے آسمان پر بادل تھے۔ وہ بے خیالی میں اس چیل کو تک رہی تھی، جو ہوا میں تیرتی معلوم ہوتی۔ کچھ دیر بعد چیل غوطہ لگا کر منظر سے غائب ہوگئی۔ وہ یوں ہی لیٹے آسمان کو تکتی رہی۔ ...

مزید پڑھیے

ایک کال سینٹر ایجنٹ کی سرگزشت

اس کی موت کے تین روز بعد، یک دم اس احساس نے آن گھیرا کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ میں اس امر سے واقف تھا کہ یہ جذبہ میری ذلت کا باعث بن سکتا ہے، سو میں اس سے جوجھنے لگا۔ اور یہی سے نیستی کا آغاز ہوا۔ بدقسمتی کسی کیمیائی عمل کے دوران جنم لینے والے حادثات کے مانند ہوتی ہے، جس سے مزید ...

مزید پڑھیے

چاند ماموں

یہ ان بیت ہوئے دنوں کا قصّہ ہے، جب تاروں بھرا آسمان ہمارا تھا۔ ہم چاند کو مٹھی میں بند کرلیتے۔ ہوائیں چکھنے کے لیے چہرہ رضائی سے باہر رکھتے۔ تاریکی میں دُور کہیں مونگ پھلی والا آواز لگاتا۔ کتے کچھ دیر بھونک کر چپ ہوجاتے۔ اور کوئی زور سے کھانستا۔ ابھی ہماری گلی میں بجلی نہیں آئی ...

مزید پڑھیے

آخری آدمی

الیاسف اس قریے میں آخری آدمی تھا۔ اس نے عہد کیا تھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور میں آدمی ہی کی جون میں مروں گا۔ اور اس نے آدمی کی جون میں رہنے کی آخر دم تک کوشش کی۔ اور اس قریے سے تین دن پہلے بندر غائب ہو گئے تھے۔ لوگ پہلے حیران ہوئے اور پھر خوشی منائی کہ ...

مزید پڑھیے

اپنی آگ کی طرف

میں نے اسے آگ کی روشنی میں پہچانا۔ قریب گیا۔ اسے ٹہوکا۔ اس نے مجھے دیکھا پھر جواب دیے بغیرے ٹکٹکی باندھ کر جلتی ہوئی بلڈنگ کو دیکھنے لگا۔ میں بھی چپ کھڑا دیکھتا رہا۔ مگر شعلوں کی تپش یہاں تک آرہی تھی۔ میں نے اسے گھسیٹا، کہا کہ چلو۔ اس نے مجھے بے تعلقی سے دیکھا۔ پوچھا، ...

مزید پڑھیے

ٹھنڈی آگ

مختار صاحب نے اخبار کی سرخیوں پر تو نظر ڈال لی تھی اور اب وہ اطمینان سے خبریں پڑھنے کی نیت باندھ رہے تھے کہ منی اندر سے بھاگی بھاگی آئی اور بڑی گرم جوشی سے اطلاع دی کہ ’’آپ کو امی اندر بلارہی ہیں۔‘‘ منی کی گرم جوشی بس اس کی ننھی سی ذات ہی تک محدود تھی۔ پوسٹ ماسٹر صاحب اسی طرح گم ...

مزید پڑھیے

آخری موم بتی

ہماری پھوپھی جان کو تو بڑھاپے نے ایسے آلیا جیسے قسمت کے ماروں کو بیٹھے بٹھائے مرض آدبوچتا ہے۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ بعض لوگ اچانک کیسے بوڑھے ہوجاتے ہیں۔ آندھی دھاندھی جوانی آتی ہے، بڑھاپا تو دھیرے دھیرے سنبھل کر آیا کرتا ہے۔ لیکن پھوپھی جان بوڑھی نہیں ہوئیں بڑھاپے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 165 سے 233