افسانہ

کریدتے ہوجواب۔۔۔

عمریں بتانا ضروری نہیں ! جب ہم ملے تھے تو وہ ایک نیم کھلے پھول کی طرح تھا؛اس کے گال سرخ اور آنکھوں میں مستی بھری شرارت تھی۔اس کی چال میں وقار بھرا ٹھہراؤ تھا جو عموماً اس عمر میں نہیں ہوا کرتا۔وہ عمر تو ایک باڑھ کی طرح پُر شور اورہنگاموں سے بھری ہوتی ہے لیکن وہ اپنے سبھاؤ میں ایک ...

مزید پڑھیے

جلتے ہوئے جنگل کی روشنی میں

سارے سوانح، زندگی کی کہانیاں جھوٹی ہوتی ہیں۔ وہ ان خالی گھونگوں کی طرح ہوتی ہیں جن سے ان کیڑوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا جو کسی زمانے میں ان میں رہتے تھے۔ چسلاومی ووش یہ بڑی دلچسپ اور عجیب بات تھی کہ دنیا کو اس نے محض زمین ہی سمجھاتھا۔ بچپن سے لے کر اب تک وہ یہی سوچتا آیا ...

مزید پڑھیے

روح میں دانت کا درد

ہم سب صرف اس شرط پر زندہ ہیں کہ پیار اور محبت کا ہر بندھن انجام کار توڑ دیا جائے گا۔ ڈاکٹر سیموئل جانسن ڈینٹل کلینک کے باہر شام ہو رہی تھی۔ آخرکار مجبور ہوکر آج وہ ڈاکٹر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر زبردستی ہنسنے لگا۔ ڈاکٹر کے ہاتھ میں بال برابر پتلی سوئی تھی۔ وہ بھی ہنسنے ...

مزید پڑھیے

قدموں کا نوحہ گر

’’اور اب میرا کتا اپنے منہ میں دبائے لیے چلا آرہا ہے میں جنہیں پھینک آیا تھا ایک گندی نالی میں مجھے معلوم ہے کہ وہ انہیں ڈال دے گا میرے قدموں میں۔‘‘ (بہت پہلے کہی گئی ایک نظم سے) (۱) اب جب کہ میں ٹکڑے ٹکڑے ہونےکے قریب ہوں اور گھورے کے اس ڈھیر پر پڑے پڑے ایک بھیانک بدبو میں بدل ...

مزید پڑھیے

تفریح کی ایک دوپہر

’’دکھ نے میرے چہرے پر ایک نقاب ڈال دی ہے۔‘‘ ’’دنیا سے ایک جیوکم ہوجاتا ہے۔‘‘ ’’آسمان میں ایک فرشتہ بڑھ جاتا ہے۔‘‘ (فرنانڈو پیسوا) (۱) یہ مئی کی دوپہر ہے۔ دو بج رہے ہیں اور لو بھی چلنا شروع ہوگئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ میری کہانی سننے کے لیے یہی وقت بہترین ہے۔ میں جو کہانی ...

مزید پڑھیے

برے موسم میں

لالٹین کی روشنی مدھم ہونے لگی۔ اس کا تیل ختم ہورہا تھا۔ شام ہوئے دیر ہوچکی تھی۔ ستمبر کی اداس اور ابر آلود شام۔ ستمبر کی ہر شام اپنے پیچھے گزری ہوئی تمام بارشوں کا بوجھ اٹھائے افسردہ اور تھکی تھکی سی بھٹکا کرتی ہے اور ستمبر کاہر دن آسمان پر سست روی سے بلند ہوتے ہوئے سفیدبادلوں ...

مزید پڑھیے

زندوں کے لیے ایک تعزیت نامہ

ہم ایک سانپ بنانا چاہتے تھے۔ یا وہ ایک نقطہ تھا جو سانپ ہوجانا چاہتا تھا مگر راستے میں اس نے اپنا ارادہ بدل دیا اور اپنی سمت بدل دی۔ اب وہ کچھ اور ہوگیا ہے۔ اپنے ادھورے پن میں معلق ،ہوا میں اِدھر اُدھر ڈولتا ہوا (کلیشمے) پیٹ میں کسی طوفان کی طرح لگاتار بڑھتے ہوئے تیز درد سے حواس ...

مزید پڑھیے

آخری دعوت

میں جو پہاڑیوں سے نیچے لاشیں لایا ہوں، تمہیں بتا سکتا ہوں کہ دنیا رحم سے خالی ہے اور سنو کہ اگر خدا ہی رحم سے خالی ہو تو دنیامیں بھی رحم نہیں ہوسکتا۔ یہودا امی خائی سب سے پہلے تو مجھے یہ اجازت دیں کہ میں آپ کو بتاسکوں کہ اس کہانی کے تمام کردار اور واقعات فرضی ہیں اور اگر دنیا ...

مزید پڑھیے

آخری خواہش

’’حضور والا! آپ نے میرے استعفیٰ پیش کرنے کی وجہ دریافت کی ہے۔ اگر آپ کی جگہ میں ہوتا تو یہی کرتا۔ ایک ملازم چوبیس سال تک شب و روز نہایت تندہی اور دیانت داری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیتا رہا ہو۔ اس کی یوں اچانک ملازمت سےعلیحدہ ہونے کی خواہش! مگر فی الحال میں صرف پریشانی خاطر ...

مزید پڑھیے

گوالن

ایک تھا بادشاہ، ہمارا تمہارا خدا بادشاہ۔ اس کے راج میں چاروں کھونٹ امن و امان، کوئی مسئلہ نہ مشکل۔ کوئی دشمن نہ حریف، مانو شیر بکری ایک گھاٹ پانی پیتے تھے۔ پس بادشاہ کا زیادہ وقت سیر و شکار میں گزرتا۔ کرنا خدا کا کیا ہوا کہ ایک روز بادشاہ وزیر با تدبیر کے ساتھ شکار کو ایسے نکلے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 151 سے 233