افسانہ

آدم بو

جب سے ساتھ والے گاؤں میں نوجوان مولوی منظور درس گاہ سے فارغ التحصیل ہو کر آیا ہوا ہے مولوی اللہ رکھا کی راتوں کی نیند اڑ گئی ہے۔ اور اگرچہ ان کے شاگرد، نائب اور خدام ان کی ہمت بڑھاتے اور اس کل کے چھوکرے کام کو ٹھپ دینے کی یقین دہانیاں کراتے رہتے ہیں لیکن انہیں اپنا ستارہ گردش ...

مزید پڑھیے

زوال کے اسباب

کھدائی کا کام برابر جاری ہے۔ اور نت نئی چیزیں سامنے آ رہی ہیں۔ اس لئے ماہرین کسی حتمی نتیجے پر پہنچے میں دشواری محسوس کر رہے ہیں۔ مثلاً پہلے ان کاخیال تھا کہ وہ غذا کی قلت کا شکار ہو گئے تھے لیکن جب مزید کھدائی کے بعد اناج جسے بھرے ہوئے گودام دریافت ہوئے تو ماہرین شش و پنج میں پڑ ...

مزید پڑھیے

کالک

کچھ عرصہ ہوا میں نیک ہیں پڑھا کہ جس طرح ہنسنا اور مسکرانا صحت کے لئے مفید ہوتا ہے اسی طرح کبھی کبھی رو لینا بھی دل دل و دماغ اور روح کی صحت کے لئے ضروری ہے خواہ اپنے کسی جسمانی، روحانی یا ذاتی دکھ پر رویا جائے یا کوئی ناول پڑھتے، فلم دیکھتے یا کوئی جگ بیتی سنتے ہوئے بہر حال دل ہی ...

مزید پڑھیے

کاشی

اس کا نام کاشی ہے اور وہ میرا سب سے چھوٹا بیٹا ہے۔ یوں تو ہر باپ اپنی اولاد سے محبت کرتا ہے مگر میں کاشی سے بہت محبت کرتا ہوں۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ایک تو یہی کہ ڈھلتی عمر کی اولاد ویسے ہی زیادہ عزیز ہوتی ہے شاید آدمی اس کے مستقبل کی متوقع خوشیاں نہ دیکھ سکنے کے خوف میں ...

مزید پڑھیے

دیدۂ یعقوب

بیٹا اپنی آمد کے متعلق بتا رہا تھا مگر مجھے اس سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی کہ وہ کس طرح آئے۔۔۔ پیاسی زمین کو اس سے کیا کہ بادل مشرق سے آئے یا مغرب سے؟ اسے تو بارش چاہیے۔ میرے لیے وہی فضائی کمپنی سب سے اچھی تھی جو اسے گھر لے آئے۔ اگرچہ ساتویں آٹھویں روز ہم اس کی آواز تو سن لیتے تھے مگر ...

مزید پڑھیے

غروب ہوتی صبح

عجیب دروغ بھری صبح طلوع ہوئی ہے کہ پتہ ہی نہیں چل رہا وہ جاگ گیا ہے یا ابھی تک سو رہا ہے۔ اگر وہ سو رہا ہے تو سامنے والی خالی کھڑکی اسے کیسے نظر آ رہی ہے اور اگر وہ جاگ رہا ہے تو اسے اپنے خراٹوں کی آواز کیسے سنائی دے رہی ہے۔ ان خراٹوں کے ساتھ ساتھ اسے ان شارکوں کا شور بھی سنائی دے ...

مزید پڑھیے

شاہ دولہ کے چوہے

اس روز حکیم ثنائی کے مطب میں جو پہلا مریض گیا وہ اپنا نام بھول چکا تھا ۔ بار بار نام پوچھنے پر اس نے اپنی جیب سے شناختی کارڈ نکال کرحکیم ثنائی کے سامنے رکھ دیا اورکہا ’’اس کارڈ پرجونام لکھا ہے یہی میرانام ہے‘‘۔حکیم صاحب نے تعجب سے کہا حیرت ہے کہ تم اپنا نام بھی بھول گئے ...

مزید پڑھیے

محبت کی پہچان

پہلے دن جب اس نے وقار کو دیکھا تو وہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی تھی۔ اسماء کی پارٹی میں کسی نے اسے ملوایا تھا۔ ان سے ملو یہ وقار ہیں۔ وقار اس کے لیے مکمل اجنبی تھا مگر اس اجنبی پن میں ایک عجیب سی جان پہچان تھی۔ جیسے برسوں یا شاید صدیوں کے بعد آج وہ دونوں ملے ہوں، اور کسی ایک ہی بھولی ہوئی ...

مزید پڑھیے

غالیچہ

اب تویہ غالیچہ پرانا ہو چکا، لیکن آج سے دو سال پہلے جب میں نے اسے حضرت گنج میں ایک دکان سے خریدا تھا، اس وقت یہ غالیچہ بالکل معصوم تھا، اس کی جلد معصوم تھی۔ اس کی مسکراہٹ معصوم تھی، اس کا ہر رنگ معصوم تھا۔ اب نہیں، دو سال پہلے، اب تو اس میں زہر گھل گیا ہے، اس کا ایک ایک تار مسموم ...

مزید پڑھیے

کالو بھنگی

میں نے اس سے پہلےہزار بار کالو بھنگی کے بارے میں لکھنا چاہا ہے لیکن میرا قلم ہر بار یہ سوچ کر رک گیا ہے کہ کالو بھنگی کے متعلق لکھا ہی کیا جا سکتا ہے۔ مختلف زایوں سے میں نے اس کی زندگی کو دیکھنے، پرکھنے، سمجھنے کی کوشش کی ہے، لیکن کہیں وہ ٹیڑھی لکیر دکھائی نہیں دیتی جس سے دلچسپ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 138 سے 233