شاہ دولہ کے چوہے
اس روز حکیم ثنائی کے مطب میں جو پہلا مریض گیا وہ اپنا نام بھول چکا تھا ۔ بار بار نام پوچھنے پر اس نے اپنی جیب سے شناختی کارڈ نکال کرحکیم ثنائی کے سامنے رکھ دیا اورکہا ’’اس کارڈ پرجونام لکھا ہے یہی میرانام ہے‘‘۔حکیم صاحب نے تعجب سے کہا حیرت ہے کہ تم اپنا نام بھی بھول گئے ہو؟‘‘
مریض کچھ جواب دینا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے سہمے ہوئے ہونٹوں کو جنبش بھی دی تھی۔ ویران ہونٹوں پر خشک زبان بھی پھیری لیکن لفظ ریت کی طرح بکھر گئے۔ حکیم صاحب نے اسے تسلی دی اور نبض دیکھنے سے پہلے اسے سرخ شربت کا ایک گلاس پلایا تا کہ اس کی طبیعت میں سکون آجائے اور وہ اپنے مرض کی علامات بتا سکے۔شربت پینے کے بعد آنکھوں میں پھیلی ہوئی وحشت آہستہ آہستہ ایک چمک میں بدلنے لگی۔ حلق میں اگے ہوئے کانٹے ملائم ہونے لگے تووہ بولا۔
’’حکیم صاحب! یہی میری بیماری ہے کہ میں اپنے آپ کو بھی یاد کرنے کی کوشش کرتاہوں تو یاد نہیں آتا۔ویسے مجھے اورکوئی تکلیف نہیں۔ بھوک بہت لگتی ہے خوراک بے تحاشا کھاتا ہوں وہ ہضم بھی ہو جاتی ہے لیکن یہی کھد بد پریشان کئے رکھتی ہے کہ یاد نہیں آتا کہ میں کون ہوں۔ میرانام کیا ہے میری اپنی الگ زمین بھی تھی لیکن اب وہ کہاں ہے؟ معلوم نہیں؟ انہیں پریشانیوں نے اپنے جبڑوں میں مجھے جکڑ رکھاہے‘‘۔
حکیم ثنائی نے اسے تسلی دی اور ایک پڑیا اپنے سامنے کھلاتے ہوئے پوچھا ’’یہ نسیان کی بیماری کب سے ہے؟‘‘
مریض بولا۔ ’’یہ بھی یاد نہیں ۔ شاید ازل سے ہو‘‘۔
’’نہیں یہ قدیم مرض نہیں ہے۔ چند برس پرانا لگتا ہے ورنہ نارمل آدمی تو دنیا میں آنے کے فوراً بعد اپنی پہچان کے عمل سے گزرنے لگتا ہے۔ کہیں یہ بات تو نہیں کہ تم اپنے ماضی کو یاد نہیں کرنا چاہتے؟‘‘
’’مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ میرا کوئی ماضی بھی تھاکہ نہیں‘‘۔
حکیم صاحب نے پوچھا’’تو آج کل تمہارے شب وروز کیسے گزرتے ہیں؟‘‘
مریض نے جواب دیا ’’صبح اور شام میں اور میری بیوی سارے گھر میں اگربتیاں جلانے کے بعد روح کیوڑہ سے غسل کرتے ہیں۔ غسل سے پہلے سرکو کمر کے پیچھے کر کے روح کیوڑہ سے غرارے کرتے ہیں تاکہ دماغ تمام آلودگیوں سے پاک ہو جائیں‘‘۔
’’یہ دماغ صاف کرنے کا طریقہ کس نے بتایا تھا؟‘‘ حکیم ثنائی نے تعجب سے پوچھا۔ اس بارے میں ہم نے ریڈیو پر ڈسٹرکٹ خطیب کی تقریر سنی تھی۔ خطیب صاحب بڑے معتبر انسان ہیں انہیں ایسی ہی خدمات کے صلے میں سترہ گریڈ سے انیس گریڈ میں ترقی دی گئی ہے۔ یہ بات سن کر حکیم صاحب کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ بکھر گئی اور وہ آنکھوں میں شرارت سمیٹ کر بولے تم دونوں میاں بیوی صبح شام غسل کرتے ہو تو کیا اس کا تعلق تم دونوں کے ساتھ کوئی جسمانی بھی ہوتا ہے‘‘۔
مریض یہ بات سن کر گھبرا سا گیا۔ خوف سے اس کا رنگ زرد پڑ گیا۔ زبان لڑکھڑانے لگی ۔ حکیم صاحب نے جب اپنا سوال پھر دہرایا تو مریض صرف اتنا کہہ پایا۔ جی نہیں ہمیں کوڑوں سے ڈر لگتا ہے‘‘۔
اتنی دیر میں مطب میں ایک شخص ایسا پنگھوڑا لے کر داخل ہوا جس میں ایک موٹا تازہ جوان لڑکا لیٹا انگوٹھا چوس رہا تھا۔ لڑکے نے ماتھے پر دونوں ہاتھ رکھ کر حکیم ثنائی کو لمبا چوڑا سلام کیا۔ حکیم صاحب نے نوارد وں کی طرف متوجہ ہونے سے قبل مطب میں موجود پہلے مریض کو چند پڑیاں ایک سرخ شربت کی بوتل اور ایک جوارش جالینوس کی ڈبیا دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے بعد آکر اپنی کیفیت بتاؤ۔ پرہیز صرف اتنی ہے کہ اپنی بیوی کو اپنے پر حرام نہ کرو‘‘۔
مریض کے چلے جانے کے بعد حکیم ثنائی نوارد کی طرف متوجہ ہوا ۔ اس نے پوچھا اس نوجوان کو پنگھوڑے میں کیوں رکھا ہوا ہے؟‘‘
نوارد بولا حکیم محترم۔ یہ بچہ میرا بے حد لاڈلا خلف ہے۔ یہ ہم گھر والوں کو اتنا چہیتا ہے کہ ہم ایک لمحہ کے لیے بھی اسے اپنے سے جدا نہیں کر پاتے۔ پیدائش کے بعد ہم نے اسے گہوارہ میں ہی رکھا اور یہ وہیں پڑا پڑا جوان ہوگیا‘‘۔
اس پر حکیم صاحب نے پوچھا ’’پھرتو اس نوجوان کی دلچسپیاں کیا ہیں ؟ یہ اپنے آپ کو مصروف کیسے رکھتا ہے؟‘‘
’’صرف ٹیلی ویژن دیکھتا ہے‘‘۔
’’اس کی تعلیم و تدریس کا کیاکرتے ہو؟‘‘
’’اس کی ذمہ داری بھی ہم نے ٹیلی ویژن کو دے رکھی ہے‘‘۔
’’اسکے کوئی دوست نہیں ہیں؟‘‘
’’جی نہیں۔ صرف ٹیلی ویژن کے پروگرام ہیں‘‘۔
’’کبھی اس نوجوان کو شہر سے باہر یا ملک سے باہر سیر کروائی ہے؟‘‘
’’جی نہیں حکیم صاحب‘‘۔ والد بولا۔ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ یہ بچہ ہمارا بہت ہی چہیتا ہے۔ ہم اسے اپنے سے دور نہیں رکھ سکتے۔ اصل میں ہم خود بھی ادھر ادھر گھومنے سے گریز کرتے ہیں کہ یوں ہمارے کانوں میں غیر طیب باتیں پڑتی ہیں۔ ہم اپنے بچے کو ایک صالح انسان بنانے کے آرزو مند ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ اسے کسی برے ماحول کی ہوا بھی لگے۔‘‘
حکیم ثنائی نے نوجوان بچے کی نبض دیکھتے ہوئے کہا ’’یہ تو بالکل صحت مند ہے اسے تو کوئی تکلیف نہیں‘‘۔
باپ نے کہا ’’جناب بظاہر اسے کوئی تکلیف نہیں صرف اس میں قوت گویائی نہیں ہے ویسے یہ گونگا نہیں ہے۔ مخاطب کو سلام بڑا پر تکلف کرتاہے۔ میں صرف اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ اسے ایسی دوائی دیں جس سے اس میں بولنے کی جرات پیدا ہوجائے‘‘۔
حکیم ثنائی نے سرخ شربت کی بوتل اورکچھ گولیاں دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ایک ہفتے بعد آکر بچے کی کیفیت بتائیں۔ اسے چلنے پھرنے کی عادت ڈالیں گوشت کھلانے سے پرہیز کریں۔ صرف ایک مشورہ ہے کہ گھرکا سودا سلف ملازم کی بجائے اس بچے سے منگوائیں ۔ انشاء اللہ اس کی قوت گویائی بحال ہو جائے گی‘‘۔
اتنی دیر میں ایک اور مریض لاٹھی ٹیکتے ہوئے مطب میں داخل ہوا اس نے رنگدار چشمہ پہنا ہوا تھا۔ حکیم ثنائی نے کیفیت پوچھی تو وہ بولا سبز رنگ کا شربت پینے سے بینائی کچھ بحال ہوگئی ہے ۔ آج میں خود ہی حاضر ہو گیا ہوں کسی معاون کوساتھ نہیں لایا۔ حکیم نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا ’’لیکن شربت تو سرخ رنگ کا تھا‘‘۔
’’اچھا‘‘۔ مریض حیرت سے بولا مگر مجھے تو سب چیزیں سبز نظر آتی ہیں۔ پچھلے ہفتے پہلے سیڑھیوں سے گر کر مجھے جو چوٹ آئی تھی اس سے بھی سبز خون نکلا تھا۔ حکیم ثنائی نے مشورہ دیا کہ شربت کا استعمال جاری رکھو۔ آنکھوں میں شہد ڈالا کرو اور رنگ دار چشمہ پہننے سے پرہیز کرو۔ ایک ہفتے بعد آکر پھر اپنی کیفیت بیان کرنا۔
مریض کے جانے کے بعد حکیم کو سر میں گرانی محسوس ہونے لگی۔ اسے کچھ عرصہ سے سر کے اس بوجھل پن کے دورے پڑرہے تھے۔ لیکن اسے اس کی وجہ سمجھ ہی نہیں آرہی تھی۔ صبح ناشتے کے وقت اس نے سرخ شربت بھی پیا تھا۔ اس کاخیال تھا کہ سرگرانی کاایک سبب شاید یہ بھی ہو کہ اس کاجسم روبہ فربہ ہو رہاہے۔ اسی خیال سے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ دوپہر اور شام کا کھانا نہیں کھائے گا۔ صرف لیموں میں نمک ملا کر پئے گا۔
حکیم ثنائی نے ابھی ایک پڑیا کھائی ہی تھی کہ دو اور مریض اکٹھے ہی مطب میں داخل ہو گئے۔ ایک مریض یوں خوفزدہ نظر آرہا تھا جیسے کوئی اس کا تعاقب کررہا ہو۔ حکیم صاحب نے اسے آرام کرسی پر بٹھاتے ہوئے کچھ دیر سستانے کے لیے کہا اور دوسرے مریض کی طرف متوجہ ہوا۔ مریض نے کہا حکیم صاحب! مجھے اور تو کوئی تکلیف نہیں کچھ عرصے سے میرے کان بند ہو گئے ہیں۔ کچھ سنائی نہیں دیتا۔ اس بہرے پن نے میری زندگی اجیرن کررکھی ہے‘‘۔
حکیم صاحب نے ایک پرچی اس کے سامنے کر دی جس پرلکھا تھا اس موسم میں بہرہ پن بہت مفید ہے۔ لایعنی باتیں سننے سے جس قدر بچو گے بھلے میں رہو گے۔
اس پر مریض نے اداس ہو کر کہا جناب یہ بہرہ پن تو عذاب ہے مجھ سے جو بھی لکھ کر بات کرتاہے وہ کسی نہ کسی شکل میں مجھ پر حکم چلاتا ہے میرے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ میں اس حکم کو بجا لاؤں۔ گویائی تو سماعت کی محتاج ہوتی ہے۔ حکیم صاحب نے اسے دوائی دے کر اور ایک ہفتے بعد آکر کیفیت بتانے کا کہہ کر سستانے والے مریض کی طرف توجہ مبذول کی وہ اسی طرح خوف سے کانپ رہا تھا۔ اس نے پوچھا پہلا مریض کہاں گیا۔ حکیم صاحب نے بتایاکہ وہ دوائی لے کر چلا گیا ہے۔ مریض بولا میں مریض نہیں تھاجی۔ میں جو بات بھی کرتا وہ کوئی جواب نہیں دیتا تھا۔
حکیم صاحب نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا ’’نہیں شک و شبہ کی ایسی کوئی بات نہیں وہ تو بہرے پن کا شکارہے‘‘۔ پھر حکیم صاحب نے پوچھا ’’تم خوفزدہ کیوں ہو؟‘‘
مریض نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے سرگوشی میں جواب دیا کیا عرض کروں میرا تو جینا عذاب ہوگیا ہے۔ مخبر لوگ ہر وقت میرے تعاقب میں رہتے ہیں ۔ میری حرکات و سکنات نوٹ کرتے رہتے ہیں۔ دفتر میں میرے ساتھ جو لوگ کام کرتے ہیں وہ بھی میری مخبری پر مامورہیں۔سائے کی طرح میرے ساتھ لگے رہتے ہیں‘‘۔
’’گھبرانے کی کوئی بات نہیں ۔ ممکن ہے تمہیں وہم کا عارضہ ہو تمہارے ساتھی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے‘‘۔
’’کیوں نہیں بگاڑ سکتے؟‘‘ مریض کی آواز دہشت کے پتھروں تلے کچلی ہوئی تھی پہلے وہ جو کچھ کرتے تھے دفتر میں کرتے تھے پھرانہوں نے میری بیوی کو بھی اپنے گروہ میں شامل کر لیا۔ وہ گھر میں میری مخبری کرنے لگی ۔ خواب گاہ میں بھی میری پرائیویسی محفوظ نہ رہی۔ جب یہ صورت حال ناقابل برداشت ہو گئی تو میں نے اپنی بیوی اور جوان بیٹی کو گھر سے نکال دیا‘‘۔
’’اب وہ کہاں ہیں؟‘‘ حکیم صاحب نے پوچھا۔
’’بیوی تو میکے چلی گئی لیکن خوشی کی بات ہے کہ اسے کینسر ہو گیا ہے کچھ عرصے بعد وہ جب مرجائے گی تو پھروہ مخبری نہیں کر سکے گی۔ میری جوان بیٹی دوسرے شہر میں اپنی خالہ کے ہاں چلی گئی ہے اور وی سی آر دیکھنے کا شوق ہے جو اس کی خالہ کے گھر میں ہے ۔ مجھے کسی نے بتایا ہے کہ میری بیٹی بھی میری مخبری کرتی تھی‘‘۔
’’آ پ کی بیوی اور بیٹی آ پ کی مخالف کیسے ہو گئیں‘‘۔
’’اس لیے جو آسائشیں وہ مجھ سے مانگتی تھیں وہ میرے دشمنوں نے انہیں فراہم کردیں‘‘۔ حکیم صاحب نے اسے بھی سرخ شربت کی بوتل جوارش کی ایک ڈبیہ اور کچھ لبوب دے کر کہا، ’’دوسروں کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے گریبان میں دیکھتے رہا کرو۔ اگلے ہفتے آکر پھر نبض دکھانا‘‘۔
حکیم صاحب کی سرگرانی بڑھ رہی تھی۔ انہوں نے ایک نیند آورگولی کھائی اور مطب بندکر چلے گئے۔
کچھ ہی دنوں بعدشہر میں ایک عجیب وبا پھیل گئی جسے دیکھو وہ یہی شکایت کررہا تھا کہ اس کا سر سکڑتا جارہا ہے اور کولہے کے نیچے کا جسم پھیلتا جارہا ہے۔یہ مرض بظاہر کوئی تکلیف نہیں دیتا تھا سوائے اس کے کہ سوچنے کی حس ختم ہو جاتی اور بھوک بڑھ جاتی۔ متاثرہ لوگ علاج کے لیے حکیم ثناء کے پاس جانا شروع ہوگئے۔ ان میں پرانے مریض بھی شامل تھے۔
ایک روز یوں ہوا کہ حکیم ثنائی کا مطب بدہئیت جسموں والے مریضوں سے اٹا پڑا تھا۔ لیکن حکیم صاحب خود غائب تھے۔ کئی گھنٹے تک انتظار کرنے کے بعد مریض پریشان ہو گئے۔ انہیں ڈر تھا کہ اگر حکیم صاحب واپس نہ آئے تو انکاعلاج کون کرے گا۔ اگر علاج نہ ہوا تو ان کے سرہمیشہ کے لیے سکڑ کے رہ جائیں گے۔ ابھی شام غروب نہیں ہوئی تھی کہ ایک شخص نے آکر مریضوں کے سامنے انکشاف کیا کہ حکیم صاحب نے حجرے کے دروازے کو اندر سے بند کررکھا ہے۔ وہ اب نہیں آئیں گے۔ کیونکہ ان کا سر بھی سکڑ گیا ہے اور کولہے کے نیچے جسم پھیل گیا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں اپنانام یاد نہیں آرہا۔