افسانہ

بوسیدہ آدمی کی محبت

وہ اتنی آہستگی اور خاموشی سے کمرے میں داخل ہوا کہ مجھے خبر ہی نہ ہوئی۔ میں ٹالسٹائی کے ناول ’’آننا کا رینینا‘‘ میں کھویا ہوا تھا۔ کئی برس قبل کے روسی معاشرے میں اپنے آپ کو سانس لیتا محسوس کررہا تھا۔ تمباکو کی ناگوار بُو میرے نتھنوں میں گھس کر میری سانسوں کی آمدورفت میں رخنے ...

مزید پڑھیے

گاؤں کا غیرضروری آدمی

زمین پرسورج کتنے قرنوں سے طلوع اورغروب کے عمل سے گزررہاہے۔ یہ اندازہ تخمینہ لگناممکن ہی نہیں ہے۔ سب اپنے اپنے محورمیں گھوم رہے ہیں۔ چاند، ستارے، سورج، زمین، انسان، چرندپرنداوردکھ سکھ..... سب گھوم رہے ہیں۔ اپنے اپنے حصے کی عمریں پوری کررہے ہیں۔ وہ بھی ایک ایسی ہی صبح تھی۔ میں ...

مزید پڑھیے

رومنی

ٹرک چلا تو اس پر سامان اور مجھ پر یادیں لدی تھیں۔ میری کل متاع ایک بوسہ تھا۔ چلتے ہوئے رومنی کی آنکھوں میں سوال ہی سوال تھے۔ کہیں یہ بوسہ گم نہ کر بیٹھنا۔ اسے سنبھال کر رکھنا۔ میں اس بوسے کے سوا تمہیں اور دے ہی کیا سکی ہوں۔ مجھے ڈر ہے زندگی میں تم پر بوسوں کی بارش ہو تو کہیں تم اس ...

مزید پڑھیے

نمازِ قصر

ڈھولک کی تھاپ پر لڑکیاں رخصتی کا گیت گا رہی تھیں.....! کِناں جمیاں تے کِناں لے جانڑیاں (کس گھر جنم لیا اور کون ہمیشہ کے لیے لے جائے گا) میں لڑکیوں کے جھرمٹ میں گیت کے بول سن کر ایک لمحے کو اداس ہوئی اور کسی بہانے کمرے سے نکل کر باہر صحن میں آ گئی۔ آسمان تاروں سے جگمگا رہا تھا۔ ہوا میں ...

مزید پڑھیے

اجتماعی مات

اس نے اوور کوٹ پہن رکھا تھا۔ اگر میری یادداشت کی چُولیں ڈھیلی نہیں پڑیں تو اوور کوٹ کا رنگ سبز تھا۔ یہ عرض کرتا چلوں کہ اس اوورکوٹ کا سلسلہ کہیں بھی غلام عباس کے مشہور افسانے ’’اوورکوٹ‘‘ سے نہیں جڑتا۔ دیکھنا یہ ہے سبز اوور کوٹ پہنے وہ جا کہاں رہا ہے.....؟ اس کی سمت کیا ہے.....؟ ...

مزید پڑھیے

ایک سو اکیاون

کمرے کے شمال مغربی کونے میں اس کے ابو کا پلنگ بچھاتھا۔ سرہانے کی سمت دیوار پرتیل کا نشان تھا۔ اب وقت کی دھول سے اس کا رنگ مٹیالہ ہوچلاتھا۔ اس کے ابو اخباراوررسائل کے مطالعے کے دوران اپنے سرخ کڑھائی والے عربی رومال کا سینو بناکرسرکے نیچے رکھ لیتے اورباقاعدگی سے بالوں میں تیل ...

مزید پڑھیے

گرمی بہت ہے

کمرے کا درجہ حرارت معتدل تھا..... جانے اسے کیوں گرمی کا احساس ہوا اور اس نے اُٹھ کر ایئرکنڈیشنر آن کر دیا۔ بستر پر واپس ٹیک لگا کر اس نے اخبار کی خبر کا بقیہ ٹکڑا اور جس نمبر کے تحت وہ ٹکرا کہیں درمیان والے صفحات میں اشتہاروں کے جنگل میں گم تھا..... تلاش کیا اور خبر مکمل پڑھ لینے کے ...

مزید پڑھیے

ریشم کے ریشے

پرانی بس کا ہینڈل پکڑ کر میں اس میں سوار ہوا۔ مجھے معلوم تھا وہ تیس کلو میٹر کاسفر ڈیڑھ گھنٹے میں طے کرے گی لیکن اور کوئی راستہ ہی نہیں تھا۔ کندیاں سے میانوالی تک کڑاک خیل ٹرانسپورٹ کی اجارہ داری تھی۔ بس کندیاں موڑ پندرہ منٹ قیام کرتی اور ہاکر اتر کر میانوالی ملتان روڈ پر نظریں ...

مزید پڑھیے

پریشانی

وہ ہر بات مان لیا کرتی تھی، بلا تا مل۔۔۔ ہر حکم سر آنکھوں پر۔۔۔ جب میں کچن میں کوئی کام کرتی تو وہ میرے ہاتھوں سے چھین لیتی اور کہتی اب آپ کی بیٹی بڑی ہو گئی ہے،آپ صرف آرام کیجیے۔جب میں اسے کہتی کہ ایک راج کمار آئے گا تجھے گھوڑے پر بٹھا کر لے جائے گا،تیرے سارے ناز اٹھائے گا تو وہ ...

مزید پڑھیے

اشک پشیمانی کے

خون میں لت پت ،مجبور و لاچار ہوکر وہ سڑک کے درمیان پڑی تھی۔آنے جانے والے لوگ دور دور سے دیکھ رہے تھے ۔ وہ تڑپ رہی تھی اور جانکنی کے عالم میں اپنی پوری قوت مجتمع کرتے ہوئے مدد کو پکار رہی تھی ،پر کوئی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھ رہا تھا ،اس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا ۔ پھر ایک کار رکی ،اس میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 125 سے 233