افسانہ

غلام بخش

وہ غلام ملک میں پیدا ہوا۔ اس لئے باپ نے اس کا نام ہی غلام بخش رکھ دیا۔ مجھے یقین ہے، مرنے سے پہلے وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتا تھا۔ کچھ بتانا چاہتا تھا۔ لیکن اس سے پہلے ہی وہ مر گیا۔۔۔ وہ بوڑھا تھا۔۔۔ قبر میں پیر لٹکائے بیٹھا تھا۔۔۔ اسے مرنا تھا اور وہ مر گیا۔۔۔ ممکن ہے اس کے مرنے کا ...

مزید پڑھیے

دادا اور پوتا

(اپنے پانچ سالہ بیٹے عکاشہ کے لئے جس کی خوبصورت اور ’’خطرناک‘‘ شرارتوں سے اس کہانی کا جنم ہوا) (۱) کچھ دنوں سے بڈھے اور پوتے میں جنگ چل رہی تھی۔ بڈھا چلّاتا رہتا تھا اور پوتا اس کی ہر بات نظر انداز کر جاتا تھا۔ ’’سنو، میرے پاس وقت ہیں۔‘‘ ’’کیوں وقت نہیں ہے؟‘‘ ’’بس کہہ ...

مزید پڑھیے

کریم لگا بسکٹ اور چونٹیاں

وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی مردہ تھا۔ اور مردہ ہوتے ہوئے بھی زندہ۔ اب تک وہ مصنوعی تنفّس کے ذریعے زندہ تھا۔ اگر آکسیجن کی نلی وہ اپنے نتھنوں سے ہٹا دیتا تو اس کی موت واقع ہو سکتی تھی یعنی ایک طرح سے زندگی اوپر والے کے ہاتھ میں تھی تو موت اس کے اختیار میں تھی اور ایسا اسے تب معلوم ہوا جب ...

مزید پڑھیے

گیس چیمبر

مجھے زندہ رہنے کے لیے تین چیزیں درکار ہیں۔ ہوا، دودھ اور نیند۔ جب وہ مجھے ہسپتال سے لائے تو ابھی میری آنکھیں بند تھیں۔ پپوٹوں سے پرے مناظر پھیلے ہوں گے جو میں پہلی مرتبہ دیکھوں گا۔ مناظر ہونے چاہئیں۔ اگر نہ ہوئے تو میری کھوپڑی میں ان دوچھیدوں کی کیا ضرورت تھی؟ سنا ہے یہ منظر، ...

مزید پڑھیے

سیاہ آنکھ میں تصویر

لارنزد کی لاش کئی روز تک مقدس پہاڑی کی چوٹی پر گڑی صلیب سے جھولتی رہی۔ انہوں نے اسے صلیب پر میخوں سے گاڑنے کی بجائے ایک رسہ لٹکا کر پھانسی دی تھی۔ میخیں مہنگی ہوتی ہیں۔ ایک مرتبہ گاڑی جائیں تو آسانی سے اکھڑتی نہیں۔ ضائع ہو جاتی ہیں۔ رسہ سستا ہوتا ہے۔ پھانسی دینے کے لیے کوئی اور ...

مزید پڑھیے

بابا بگلوس

گرمی سے پگھلے ہوئے شہر کی ابلتی رات میں ایک بدن کو نچوڑ کر یخ کر دینے والی چیخ کا گرم سیسہ کانوں میں اترا۔ بابے بگلوس نے کروٹ بدلی۔ ایک اور چیخ کا گرم پتھر اس کی کھوپڑی پر گرا اور ٹھنڈا ہو گیا۔ پھر یکے بعد دیگرے کئی چیخوں کے دہکتے اولے اس کے بدن پر برسے۔ کیا مصیبت ہے۔ عمارت کے اہل ...

مزید پڑھیے

درخت

کلہاڑے کا لشکتا پھل درخت کی چھال کو چیرتا ہوا سفید گودے میں کھب گیا۔ یہ پہلی ضرب تھی۔ لکڑہارے نے ہتھیلیوں پر تھوکا اور دستے کو مضبوطی سے تھام کر اسے درخت سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ ایسا نہ کر سکا۔۔۔ بازوؤں میں اتنی طاقت نہ تھی۔ اس نے آسمان کی جانب دیکھا جیسے غیبی مدد کا ...

مزید پڑھیے

منگل کی کہانی

(پچھلے سال میں منگل گیا تھا جہاں پانچ دریاؤں کی سرزمین کے ایک قدمی دریا پر بند تعمیر کیا گیاہے۔ عجب سہانا اور دلکش منظر تھا۔ دوپہر کے روشن سورج نے گویا نمرود کے پانی میں آگ لگا دی ہواور تپتی ہوئی زمین سورج کی روشنی میں پگھلا ہوا سونا نظر آرہی ہو۔ اونچے اونچے بند گویا آسمان سے ...

مزید پڑھیے

احسان علی

کیسی رنگیلی طبعیت تھی احسان علی کی، محلے میں کون تھا جو ان کی باتوں سے محظوظ نہ ہوتا تھا، اگر وہ محلے کی ڈیوڑھی میں جا پہنچتے، جہاں بوڑھوں کی محفل لگی ہوتی تو کھانسی کے بجائے قہقہے گونجنے لگتے، چوگان میں بیٹھی عورتوں کے پاس سے گزرتے تو دبی دبی کھی کھی کا شور بلند ہوتا، محلے کے ...

مزید پڑھیے

آپا

جب کبھی بیٹھے بٹھائے، مجھے آپا یاد آتی ہے تو میری آنکھوں کے آگے چھوٹا سا بلوری دیا آ جاتا ہے جو مدھم لو سے جل رہا ہو۔ مجھے یاد ہے کہ ایک رات ہم سب چپ چاپ باورچی خانے میں بیٹھے تھے۔ میں، آپا اور امی جان، کہ چھوٹا بدو بھاگتا ہوا آیا۔ ان دنوں بدو چھ سات سال کا ہو گا۔ کہنے لگا، ’’امی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 107 سے 233