پیرامڈ
رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ کمرے میں موت جیسا سنّاٹا پسرا تھا۔ موت جیسا نہیں۔ کمرے میں چپکے سے ایک ’’موت‘‘ آ کر گزر گئی تھی۔ جیسے تیز ہوا چلتی ہے۔۔۔ سائیں سائیں۔۔۔ جیسے لو یا جھکڑ چلتے ہیں۔۔۔ جیسے ریگستانوں میں ریت کی آندھی بہتی ہے۔۔۔ اور اس آندھی کے پاگل کر دینے والی شور ...