افسانہ

پیرامڈ

رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ کمرے میں موت جیسا سنّاٹا پسرا تھا۔ موت جیسا نہیں۔ کمرے میں چپکے سے ایک ’’موت‘‘ آ کر گزر گئی تھی۔ جیسے تیز ہوا چلتی ہے۔۔۔ سائیں سائیں۔۔۔ جیسے لو یا جھکڑ چلتے ہیں۔۔۔ جیسے ریگستانوں میں ریت کی آندھی بہتی ہے۔۔۔ اور اس آندھی کے پاگل کر دینے والی شور ...

مزید پڑھیے

ڈراکیولا

مصنف کا بیان’’میں ہر بار تمہارے گھر کی الگنی پر گیلے کپڑے کی طرح ’’ٹنگی‘‘ رہی۔ تم میرے لئے مٹھی مٹھی بھر دھوپ لاتے تھے۔ اور میں تھی، برف جیسی یخ۔۔۔ دھوپ تمہاری میٹھوں سے جھر جھر جاتی تھی۔۔۔ سوکھتی کیسے میں۔۔۔؟ تمہارے ہی گھر کی الگنی پر ٹنگی رہی۔ دُکھ دینے کے لئے ...

مزید پڑھیے

مادام ایلیا کو جاننا ضروری نہیں

فیروز اور مادام ایلیا کے درمیان ایک بے ربط مکالمہ ’’دو نالی بندوق اور ڈریسنگ گاؤن۔۔۔‘‘  اس نے حامی بھری۔ سرکو ایک ذرا سی جنبش دی۔ گوایسا کرتے ہوئے اس کے چہرے کی جھریاں کچھ زیادہ ہی تن گئی تھیں اور گول گول چھوٹی چھوٹی آنکھوں کی سرخیاں کچھ ایسے پھیل گئی تھیں، جیسے گرمی کے دنوں ...

مزید پڑھیے

صدی کو الوداع کہتے ہوئے۔۔۔

(1) ’’لیکن اس کا حل کیا ہے؟‘‘ پاپا کی آنکھوں میں الجھن کے آثار تھے، لہجے سے جذبات غائب۔۔۔ چہرہ ذرا سا سکڑ گیا تھا۔ ماں کے رویے میں کھوکھلے قسم کی سختی تھی۔۔۔ ’’آنے والے مہمان کو آنے ہی نہیں دیا جائے۔۔۔ یعنی۔۔۔‘‘ یہ ایک دو ٹوک فیصلہ تھا۔۔۔ ’’لیکن کیا رِیا تیار ہو جائے ...

مزید پڑھیے

لیبارٹری

گندہ تالاب، کیکڑے اور وہ یہ قیاس لگانا بہت آسان ہے کہ وہ کہاں پیدا ہوئے ہوں گے۔۔۔ وہ سابرمتی آشرم سے دلی کے آشرم چوک تک کہیں بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ کہیں، کسی بھی طرح، کسی بھی حال میں۔۔۔ لیکن معاف کیجئے گا۔ اُنکی پیدائش کے عمل کو کسی بھی طرح میں ’’کلوننگ پروسیس‘‘ سے جوڑنے کی ...

مزید پڑھیے

آپ اس شہر کا مذاق نہیں اڑا سکتے

(1) وہ بہت آرام سے باتیں کر رہا تھا۔ اتنے آرام سے ، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ لیکن شاید جو ’’حادثہ‘‘ بھی ہوا تھا، کوئی زلزلہ جیسا بھیانک المیہ بھی اتنا خوفناک نہیں ہو سکتا تھا۔ (یہ میرا ماننا ہے۔ میں کون۔۔۔؟ میں یعنی کہانی کار) لیکن وہ جیسے ان تمام امکانات سے الگ اپنی سچائیوں کا ...

مزید پڑھیے

بھنور میں ایلس

(۱) ادھر آنکھیں بوجھل ہوئیں، ادھر خواب کے در کھل گئے۔۔۔ پھر جیسے کسی نے انتہائی معصومیت سے صدا لگائی ہو۔۔۔ ’’ایلس آنکھیں کھولو۔۔۔ آنکھیں کھولو نا ایلس۔۔۔‘‘ ’’جاؤ نہیں کھولتی۔ ابھی مزے مزے کے سپنے جو دیکھ رہی ہوں۔۔۔ آنکھیں کھلیں تو سپنا ہٹ ٹوٹ جائے گا۔۔۔‘‘ آواز پھر ...

مزید پڑھیے

نور علی شاہ کو اداس ہونے کے لئے کچھ چاہئے

جو سچ تھا، وہ تواریخ کے پنوں میں چھپ گیا نہیں، چھپا دیا گیا۔ تواریخ کے گدلے نالے میں۔۔۔ اور نالے سے اٹھتی ہوئی بدبو سونگھنے والے بھلا کیسے سوچ پائیں گے کہ کبھی سلطنت اور شہنشاہیت کے گذرے قصوں میں ان کی بھی ساجھے داری رہی ہو گی۔ نہیں نور علی شاہ۔ اس جھانسے سے کام نہیں چلے گا۔ جو ...

مزید پڑھیے

مجھے اسے زندہ رکھنا ہے

جیسا کہ گھر والے بتایا کرتے تھے۔ وہ رات بہت بھیانک تھی جب میں پیدا ہوا۔ بہت بھیانک۔۔۔ جیسے خوف و دہشت کے ماحول میں کوئی چیخ اٹک گئی ہو۔ نہیں، اس سے بھی کہیں زیادہ بھیانک اور جیسے سب بچے روتے ہوئے پیدا ہوتے ہیں۔ میں بالکل نہیں رویا تھا۔ اس لئے پہلے تو مجھے مردہ سمجھ لیا گیا۔ پھر ...

مزید پڑھیے

فریج میں عورت

(1) وہ چپ چاپ اس بات کا اعتراف کر لیتا تھا۔ ’’ہاں، میرے فریج میں ایک عورت ہے‘‘۔ فریج میں عورت؟‘‘ ’’کیوں۔ عورت فریج میں نہیں ہو سکتی۔ میں جب چاہوں، اسے فریج سے باہر بلا لیتا ہوں۔ کمرے میں یار، اس کے ساتھ ہنستا ہوں۔ باتیں کرتا ہوں۔ دل بہلاتا ہوں۔‘‘ * فریج والی عورت پہلی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 106 سے 233