سوز دل ہے خامشی سے جل کے بجھ جانے کا نام
سوز دل ہے خامشی سے جل کے بجھ جانے کا نام
زندگی ہے شمع گل کے اشک برسانے کا نام
میری نظریں آپ کی جانب ہیں دنیا پر نہیں
آپ کیا کہتے ہیں دیکھوں اپنے دیوانے کا نام
ہے فروغ شمع تک ہنگامۂ بزم حیات
صبح دم لیتا نہیں ہے کوئی پروانے کا نام
حسن ہے اک بے نیازانہ چراغ دل فریب
عشق ہے انجام سے بے خوف جل جانے کا نام
اہل دانش کو نہ جانے کیا ضرورت آ پڑی
لے رہے ہیں آج کل فرزانے دیوانے کا نام