شمع رو جلوہ کناں تھا مجھے معلوم نہ تھا
شمع رو جلوہ کناں تھا مجھے معلوم نہ تھا
صاف پردے سے عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
گل میں بلبل میں ہر اک شاخ میں پتے میں بھی
جا بجا اس کا نشاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
یہ غلط ہستئ موہوم کو سمجھے تھے مگر
اور وطن اپنا یہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
ایک مدت حرم و دیر میں ڈھونڈا ناحق
سیم بر دل میں نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
سچ تو یہ ہے کہ سوا یار کے جو کچھ تھا حیاتؔ
وہم تھا شک تھا گماں تھا مجھے معلوم نہ تھا