منظر نقوی کے تمام مواد

19 غزل (Ghazal)

    اک عریضہ ہے دل مشتاق میں رکھا ہوا

    اک عریضہ ہے دل مشتاق میں رکھا ہوا آفتاب عشق ہے آفاق میں رکھا ہوا زندگی کا ذائقہ مجھ کو تواتر سے ملا زہر میں رکھا ہوا تریاق میں رکھا ہوا نفرتوں کے سب نوشتے اس نے ازبر کر لیے ہے محبت کا صحیفہ طاق میں رکھا ہوا بلوۂ باطل میں حق کی خامشی کا ساتھ دو یہ بھی نکتہ ہے مرے میثاق میں رکھا ...

    مزید پڑھیے

    تم تو حسد کی آگ میں پتھر ہی لائے تھے

    تم تو حسد کی آگ میں پتھر ہی لائے تھے نوحے ہوا کے دوش پر ہم نے سنائے تھے یہ روشنی جو دیکھتے ہو تم جگہ جگہ ہم نے یہ سب چراغ ہوا میں جلائے تھے جب قافلہ ہمارا ہوا تھا لہو میں تر اس مجمع عدو میں نظر تم بھی آئے تھے جب شام کے غبار میں اجڑا تھا کوئی باغ اجلی سحر کے پھول تھے خوشبو نہائے ...

    مزید پڑھیے

    تم نے دیکھا ہے کبھی دل یہ ہمارا ٹوٹا

    تم نے دیکھا ہے کبھی دل یہ ہمارا ٹوٹا دیکھنے آتا ہے ہر شام ستارا ٹوٹا ریگ ساحل پہ کسی نام کا آنسو ٹپکا موج بیتاب سے دریا کا کنارا ٹوٹا دل کی اک سمت بنایا تھا کوئی شیش محل غم کی آندھی میں مگر سارے کا سارا ٹوٹا تیز رفتار سفر سے تو گریزاں ہی رہے ہم کسی یاد میں گم تھے کہ اشارا ...

    مزید پڑھیے

    کچھ بتاؤ تو سہی اب کے تماشا کیا ہے

    کچھ بتاؤ تو سہی اب کے تماشا کیا ہے ہونٹ پر تالے لگے سب کے تماشا کیا ہے دل کے اک موڑ پہ رہتا ہے تمنا کا ہجوم جانے والے تو گئے کب کے تماشا کیا ہے ظلم ڈھاؤ یا بنا ڈالو محبت کا سفیر ہم نہیں رہتے کہیں دب کے تماشا کیا ہے جس کی خاموشی سے نکلا ہے سحر کا سورج ہم مسافر ہیں اسی شب کے تماشا ...

    مزید پڑھیے

    جہاں پہ پھول تھے اور یاد بھی تمہاری تھی

    جہاں پہ پھول تھے اور یاد بھی تمہاری تھی اسی پڑاؤ پہ ہم نے تھکن اتاری تھی اسی کا عکس تھا وہ چاند تھا کہ سورج تھا مگر وہ دیکھنے والی نظر ہماری تھی سبک خرام چلا اور کبھی میں ٹھہرا رہا کہ میری اپنے ہی سائے سے جنگ جاری تھی میں اپنے خواب کے اندر بھی خواب دیکھتا تھا کھلی جب آنکھ تو اک ...

    مزید پڑھیے

تمام