صاحبو منزل جاناں کی طرف جانا مت

صاحبو منزل جاناں کی طرف جانا مت
اور جانا تو کہانی کوئی دہرانا مت


گل کھلا دے گا مہکتے ہوئے چہروں کا طلسم
شہر آئینہ دل زار کو دکھلانا مت


مجھ کو چاہا ہے تو بخشو مری چاہت کو دوام
بن کے رہ جانا ڈھلی رات کا افسانہ مت


وصل کی چاہ میں رکنا نہ کسی جسم کے پاس
دولت ہجر کو سودائیو ٹھکرانا مت


سر بریدہ سی گزر جانا شہیدوں کی طرح
تتلیو دل کے دبستاں میں ٹھہر جانا مت


الفتیں سب کو میسر نہیں ہوتیں پیارے
تشنہ لمحوں کی ملاقات سے اکتانا مت


مقتل عشق نہ اب کوچۂ قاتل راہیؔ
شہر بے خواب میں جاتے ہوئے گھبرانا مت