رت برکھا کی ڈھلنے دے

رت برکھا کی ڈھلنے دے
دل سے ہائے نکلنے دے


پتا پتا پھول کھلا
ڈالی ڈالی پھلنے دے


سورج بھی ڈھل جائے گا
دھوپ کا رنگ بدلنے دے


پتھر کی آئینے سے
چلتی ہے تو چلنے دے


نوک قلم کو کاغذ پر
دل کا زہر اگلنے دے


کب تک ٹھوکر کھاتے جائیں
ظالم وقت سنبھلنے دے


چھیڑ نہ کر ہم مستوں سے
بابا رستہ چلنے دے


روشنیوں کا مارا موجؔ
کیسے دیپک جلنے دے