راہ وفا میں گرتے سنبھلتے رہے میاں
راہ وفا میں گرتے سنبھلتے رہے میاں
تھکنے کے باوجود بھی چلتے رہے میاں
اک عمر تیز دھوپ میں جلتے رہے میاں
آئینہ خانے دل کے پگھلتے رہے میاں
یہ شام کا دھندلکا یہ وحشت یہ خامشی
تنہا بر آمدے میں ٹہلتے رہے میاں
کچھ لوگ منزلوں سے بھی آگے نکل گئے
اک ہم کہ اپنے ہاتھ ہی ملتے رہے میاں
آئینہ جب بھی دیکھا ہے چہرہ تھا اک نیا
ہم جانے کتنے سانچوں میں ڈھلتے رہے میاں
صحرا تھے اتنے سرد کہ یخ ہو گیا وجود
اترے سمندروں میں تو جلتے رہے میاں
خوابوں کی بستیوں سے بڑی تمکنت کے ساتھ
پل پل کئی جنازے نکلتے رہے میاں
دریا لہو کے یاس کے اشکوں کے آگ کے
ہر گوشۂ زمیں سے ابلتے رہے میاں
دھارا نہ روکا جا سکا تاریخ کا کبھی
حالات زندگی کے بدلتے رہے میاں