نظر ہے پھر بھی نظاروں میں جی نہیں لگتا

نظر ہے پھر بھی نظاروں میں جی نہیں لگتا
اداس دل ہے بہاروں میں جی نہیں لگتا


مکاں ہے باغ ہے مہماں ہیں دھوم ہے باہر
میرا مزاج ہزاروں میں جی نہیں لگتا


نہ وہ فضا ہے نہ وہ رنگ نہ وہ تصویریں
وہ کل کے پیارے دیاروں میں جی نہیں لگتا


یہ راہ گیروں کے چہرے عزیز لگتے ہیں
مدہوشؔ اب ہمیں یاروں میں جی نہیں لگتا