مدہوش بلگرامی کے تمام مواد

5 غزل (Ghazal)

    حسن کے پیار کے سکھ دکھ کے ترانے گم ہیں

    حسن کے پیار کے سکھ دکھ کے ترانے گم ہیں وقت کی گود میں کیا کیا نہ خزانے گم ہیں دور تک غم کا دھواں ایک بھیانک سا سماں اب رکیں بھی تو کہاں سارے ٹھکانے گم ہیں کس کو معلوم ہے تاریخ کے تہہ خانوں میں کتنے خوابوں کے جہاں کتنے زمانے گم ہیں کوئی مے خانہ رہا نہ کوئی ویرانہ رہا دو ہی بس اپنے ...

    مزید پڑھیے

    راہ وفا میں گرتے سنبھلتے رہے میاں

    راہ وفا میں گرتے سنبھلتے رہے میاں تھکنے کے باوجود بھی چلتے رہے میاں اک عمر تیز دھوپ میں جلتے رہے میاں آئینہ خانے دل کے پگھلتے رہے میاں یہ شام کا دھندلکا یہ وحشت یہ خامشی تنہا بر‌ آمدے میں ٹہلتے رہے میاں کچھ لوگ منزلوں سے بھی آگے نکل گئے اک ہم کہ اپنے ہاتھ ہی ملتے رہے ...

    مزید پڑھیے

    پھر رہے ہیں یہاں وہاں تنہا

    پھر رہے ہیں یہاں وہاں تنہا آج لگتا ہے یہ جہاں تنہا گھر میں بازار میں ہزاروں میں قید ہیں ہم کہاں کہاں تنہا ڈھل گئی رات بجھ گئیں شمعیں رہ گئے ہم بھی نوحہ خواں تنہا میری آہٹ کا میری سانسوں کا منتظر ہے میرا مکاں تنہا سونی سونی سی اجنبی راہیں آرزوؤں کا کارواں تنہا چاند تاروں کی ...

    مزید پڑھیے

    نظر ہے پھر بھی نظاروں میں جی نہیں لگتا

    نظر ہے پھر بھی نظاروں میں جی نہیں لگتا اداس دل ہے بہاروں میں جی نہیں لگتا مکاں ہے باغ ہے مہماں ہیں دھوم ہے باہر میرا مزاج ہزاروں میں جی نہیں لگتا نہ وہ فضا ہے نہ وہ رنگ نہ وہ تصویریں وہ کل کے پیارے دیاروں میں جی نہیں لگتا یہ راہ گیروں کے چہرے عزیز لگتے ہیں مدہوشؔ اب ہمیں یاروں ...

    مزید پڑھیے

    اک نئی صبح کا پیغام لئے پھرتے ہیں

    اک نئی صبح کا پیغام لئے پھرتے ہیں ہم محبت سے بھرا جام لئے پھرتے ہیں اپنے دکھ سکھ کو سمجھتے ہیں مقدر کا قصور ہائے وہ لوگ جو اوہام لئے پھرتے ہیں کل پہنچ جائیں گے پھر صبح کے دروازے تک کیا ہوا آج اگر شام لئے پھرتے ہیں کیسے انساں ہیں کہ انساں سے سروکار نہیں چند ٹوٹے ہوئے اصنام لئے ...

    مزید پڑھیے