حسن کے پیار کے سکھ دکھ کے ترانے گم ہیں
حسن کے پیار کے سکھ دکھ کے ترانے گم ہیں وقت کی گود میں کیا کیا نہ خزانے گم ہیں دور تک غم کا دھواں ایک بھیانک سا سماں اب رکیں بھی تو کہاں سارے ٹھکانے گم ہیں کس کو معلوم ہے تاریخ کے تہہ خانوں میں کتنے خوابوں کے جہاں کتنے زمانے گم ہیں کوئی مے خانہ رہا نہ کوئی ویرانہ رہا دو ہی بس اپنے ...