اک نئی صبح کا پیغام لئے پھرتے ہیں

اک نئی صبح کا پیغام لئے پھرتے ہیں
ہم محبت سے بھرا جام لئے پھرتے ہیں


اپنے دکھ سکھ کو سمجھتے ہیں مقدر کا قصور
ہائے وہ لوگ جو اوہام لئے پھرتے ہیں


کل پہنچ جائیں گے پھر صبح کے دروازے تک
کیا ہوا آج اگر شام لئے پھرتے ہیں


کیسے انساں ہیں کہ انساں سے سروکار نہیں
چند ٹوٹے ہوئے اصنام لئے پھرتے ہیں


تھرتھراتے سے سمٹتے سے یہ مبہم سائے
ڈوبتی شام کا انجام لئے پھرتے ہیں