قومی زبان

پکارتی ہے جو تجھ کو تری صدا ہی نہ ہو

پکارتی ہے جو تجھ کو تری صدا ہی نہ ہو نہ یوں لپک کہ پلٹنے کو حوصلہ ہی نہ ہو تمام حرف ضروری نہیں ہوں بے معنی یہ آسمان ادھر جھک کے ٹوٹتا ہی نہ ہو ملے تھے یوں کہ جدا ہو کے ایسے ملتے ہیں ہمارے بیچ کبھی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ہر ایک شخص بھٹکتا ہے تیرے شہر میں یوں کسی کی جیب میں جیسے ترا ...

مزید پڑھیے

حقیقتوں کا سبھی کو پتہ نہیں ہوتا

حقیقتوں کا سبھی کو پتہ نہیں ہوتا کوئی کسی سے بچھڑ کے جدا نہیں ہوتا تعلقات نبھانا نہیں بہت مشکل ہر آدمی میں مگر حوصلہ نہیں ہوتا شراب خانے کا ہر شخص ہے برا لیکن شراب خانے میں کوئی برا نہیں ہوتا مری طرف سے شکایت کا انتظار نہ کر مجھے کسی سے بھی کوئی گلہ نہیں ہوتا کھلا یہ راز کئی ...

مزید پڑھیے

جا کے ملتا ہوں نہ اپنا ہی پتا دیتا ہوں

جا کے ملتا ہوں نہ اپنا ہی پتا دیتا ہوں میں اسے ہی نہیں خود کو بھی سزا دیتا ہوں روز دن بھر کی مشقت سے اٹھاتا ہوں جسے رات ہوتے ہی وہ دیوار گرا دیتا ہوں کون ہے مجھ میں جو باہر نہیں آنے پاتا کب سے میں جسم کے صحرا میں صدا دیتا ہوں کون سا کرب چھلکتا ہے ہنسی سے میری کیسے ہنستا ہوں کہ ...

مزید پڑھیے

میں زہر رہی ہر شام رہی

میں زہر رہی ہر شام رہی بارش کی ہوا بدنام رہی پاتال میں دریا جذب ہوئے میں سطح رہی دو گام رہی امکان اثر پر شمع دعا بجھنے کی ادا کا نام رہی مرے تنہا دشت کے جذبوں میں تری یاد تہ آلام رہی کونپل کو دھوپ ہوا سے کیا مٹی کی نمی ناکام رہی بادل مری چھت پر کب ٹھہرے دیوار پہ گہری شام ...

مزید پڑھیے

ہوائیں چاندنی میں کانپتی ہیں

ہوائیں چاندنی میں کانپتی ہیں مرا مہتاب دکھ پہچانتی ہیں اتر سکتی نہیں حسن بیاں میں جو راتیں حرف جاں کو کاٹتی ہیں بھنور پائل مرے پیروں سے الجھی تری یادوں کی لہریں ناچتی ہیں مری آنکھوں میں ساحل تک نمی ہے مگر نظریں کہ صحرا چھانتی ہیں بدن میں چپ اندھیرا سو رہا ہے امنگیں ایک تارا ...

مزید پڑھیے

اسے جب بھی دیکھا بہت دھیان سے

اسے جب بھی دیکھا بہت دھیان سے تو پلکوں میں آئینے سجنے لگے خوشا اے سر شام بھیگے شجر ترے زخم کچھ اور گہرے ہوئے مسافر پہ خود سے بچھڑنے کی رت وہ جب گھر کو لوٹے بہت دل دکھے کہیں دور ساحل پہ اترے دھنک کہیں ناؤ پر امن بادل چلے بہت تیرگی میرے محلوں میں تھی دریچے جو کھولے تو منظر ...

مزید پڑھیے

جنگلوں میں بارشیں ہیں دور تک

جنگلوں میں بارشیں ہیں دور تک جسم میں پھر وحشتیں ہیں دور تک راستوں میں چھپ گئیں راتیں کہیں خواب گہ میں آہٹیں ہیں دور تک قرب کے لمحوں کی حیراں کوکھ میں کچھ بچھڑتی ساعتیں ہیں دور تک وہ کہیں گم ہو کہیں مل جاؤں میں دھند جیسی چاہتیں ہیں دور تک گھل رہی ہے جسم میں تنہا ہوا فرقتوں میں ...

مزید پڑھیے

یاد کے شہر مری جاں سے گزر

یاد کے شہر مری جاں سے گزر قرب کے آخری امکاں سے گزر جل بجھی تھی میں ترے کھلنے تک اب مری خاک پریشاں سے گزر عکس بننے لگا صحرا تیرے میرے سورج رخ تاباں سے گزر زخم گر میرے ہو کچھ اور عطا ہاں عبث نشتر و پیکاں سے گزر اٹھ چکیں گل سخنی کی رسمیں گوش جاں حرف بہاراں سے گزر آخری لو نہ بجھا ...

مزید پڑھیے

اک ہجوم گریہ کی ہر نظر تماشائی

اک ہجوم گریہ کی ہر نظر تماشائی دیر سے خرابوں میں ہے اسیر تنہائی دل کی شام کی صورت زخم زخم سناٹا جاں کہ شور وحشت میں صبح کی تمنائی کاکل خزاں تیرے بے سبب الجھنے سے چہرۂ بہاراں پر دیکھ تیرگی چھائی تھی تری نگاہوں کے سیل تیرگی میں گم کب ترے اجالے میں خود کو میں نظر آئی قرب تھا کہ ...

مزید پڑھیے

ہے شرط قیمت ہنر بھی اب تو ربط خاص پر

ہے شرط قیمت ہنر بھی اب تو ربط خاص پر ملے گا سنگ داد بھی ہوا کے رخ کو دیکھ کر کبھی ہوا کا اجر ہے کبھی رتوں کا ہے ہنر کہاں ہوا ہے آج تک پرند کوئی معتبر کنار آب خونچکاں جبیں تو خاک ہو چکی یہ کس کا عکس پانیوں میں پھر اٹھا رہا ہے سر ہزار میں اسیر ہوں ترے طلسم نطق کی یہ قفل دل کہاں کھلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 977 سے 6203