مرے خدا کسی صورت اسے ملا مجھ سے
مرے خدا کسی صورت اسے ملا مجھ سے مرے وجود کا حصہ نہ رکھ جدا مجھ سے وہ ناسمجھ مجھے پتھر سمجھ کے چھوڑ گیا وہ چاہتا تو ستارے تراشتا مجھ سے اس ایک خط نے سخنور بنا دیا مجھ کو وہ ایک خط کہ جو لکھا نہیں گیا مجھ سے اسے ہی ساتھ گوارا نہ تھا مرا ورنہ کسے مجال کوئی اس کو چھینتا مجھ سے ابھی ...