شعلۂ عشق میں جو دل کو تپاں رکھتے ہیں
شعلۂ عشق میں جو دل کو تپاں رکھتے ہیں اپنی خاطر میں کہاں کون و مکاں رکھتے ہیں سر جھکاتے ہیں اسی در پہ کہ وہ جانتا ہے ہم فقیری میں بھی انداز شہاں رکھتے ہیں بادباں چاک ہے اور باد مخالف منہ زور حوصلہ یہ ہے کہ کشتی کو رواں رکھتے ہیں وحشت دل نے ہمیں چین سے جینے نہ دیا چشم گریاں کبھی ...