جب سفر کو میں نے تھاما تھا یہ اندھا راستہ
جب سفر کو میں نے تھاما تھا یہ اندھا راستہ آج روتا ہے مگر قدموں سے لپٹا راستہ تیرتی پھرتی ہیں چاروں سمت رنگیں تتلیاں ٹیڑھا ٹیڑھا اونچا نیچا گیلا کچا راستہ کون سنتا تھا کسی کی کوئی کیا کہتا وہاں میرے کاندھے پہ سفر تھا میں نے پکڑا راستہ وہ جو گزرا تھا یہاں سے کیا پتہ لوٹے ...