ادھورا جسم لیے پیچھے ہٹ رہا ہوں میں
ادھورا جسم لیے پیچھے ہٹ رہا ہوں میں کہ اک کنارا ہوں دریا کا کٹ رہا ہوں میں مرے وجود کو وسعت نہیں کسی بھی طرح ہر ایک سمت سے ہر روز گھٹ رہا ہوں میں اثر پذیر ہوں اک زلزلے سے ہستی کے زمیں کے جیسے ہر اک سانس پھٹ رہا ہوں میں ہیں میرے واسطے خنجر شعاعیں سورج کی کھلی سڑک پہ ہوں ہر لمحہ کٹ ...