قومی زبان

ایک مجرب نسخہ

آپ کو میرا ممنون احسان ہونا چاہیئے کہ میں آپ کے لیے ایک ایسا مجرب نسخہ تجویز کر رہا ہوں جو آپ کی زندگی میں ایک خوش گوار انقلاب برپا کر سکتا ہے عین ممکن ہے میرے تجویز کردہ نسخے کو طباعتی اور برقی ذرائع ابلاغ کے ادارے اپنے خلاف ایک کاروباری سازشیں سمجھیں اور مجھ پر ہرجانے کا ...

مزید پڑھیے

کیونکہ ہم خاص لوگ ہیں

وقتاً فوقتاً ہماری تعریف کی جائے ہمیں شاباشی دی جائے کیونکہ ہم خاص لوگ ہیں ہمارا خدا ایک خاص دروازے سے ہمیں اپنی جنت میں داخلے کا اعزاز بخشے گا ہمارا مقابلہ عام آدمیوں سے نہ کیا جائے ہمیں مطلق اظہار رائے کی آزادی دی جائے ہمارے طرز عمل پر کوئی قدغن نہ لگائے تسلیم کیا جائے کہ ...

مزید پڑھیے

مشوروں سے بھری الماری

میرے دوست، میرے خیر خواہ میرے اصلاح کی غرض سے وقتاً فوقتاً اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں وہ یہ کام پوری ذمہ داری سے رضاکارانہ بنیاد پر کرتے ہیں اگر میں ان کے مشوروں پر عمل شروع کر دوں تو ممکن ہے یہ لوگ مجھے مشورے دینے سے باز آ جائیں میں اپنے خیر خواہوں کے دیے ہوئے مشوروں ...

مزید پڑھیے

سمجھا جا سکتا ہے آسانی سے

نہیں سمجھا جا سکتا آسانی سے کام کو، کیے بغیر راستے کو، چلے بغیر منزل کو، پہنچے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا آسانی سے دن کو، گزارے بغیر شام کو، پکارے بغیر رات کو، ستارے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا آسانی سے بوجھ کو، اٹھائے بغیر زخم کو، کھائے بغیر گیت کو، گائے بغیر سمجھا جا سکتا ہے آسانی ...

مزید پڑھیے

موت کا فرشتہ

اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جوان بیٹے کی موت کس طرح واقع ہوئی سوئمنگ پول میں ڈوب جانے سے، دماغ کے سرطان سے یا تیز رفتار موٹر سائیکل کے سامنے دیوار کے آ جانے سے اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مرنے والا زندگی سے نبرد آزما کسی شاعرہ یا شاعر کا بیٹا تھا یا راج پوت نسل کا کوئی ...

مزید پڑھیے

تو سمجھتا ہے تو خود تیری نظر گہری نہیں

تو سمجھتا ہے تو خود تیری نظر گہری نہیں ورنہ بنیاد خزاں اے بے خبر گہری نہیں وصل شیریں ہے نہ جوئے شیر ہے تیرے نصیب ضرب اے فرہاد تیشے کی اگر گہری نہیں یہ بھی ممکن ہے کہ خود تیری نوا ہو نرم خیز نیند لوگوں کی تو اے مرغ سحر گہری نہیں زندگی کی آج قدریں ہیں فقط گملوں کے پھول ان میں ...

مزید پڑھیے

کتنے نازک کتنے خوش گل پھولوں سے خوش رنگ پیالے

کتنے نازک کتنے خوش گل پھولوں سے خوش رنگ پیالے اک بدمست شرابی نے میخانے میں ٹکڑے کر ڈالے موسمیات کے ماہر ہونے کے تو دعویدار سبھی ہیں ہم سمجھیں جو حبس گھٹائے ہم مانیں جو جھکڑ ٹالے مصنوعی نیلونی پھولوں سے گلدان سجائے جائیں اور قربنیقوں کا لقمہ بن جائیں خوشبوؤں والے فرعونوں کے ...

مزید پڑھیے

جو اپنے سر پہ سر شاخ آشیاں گزری

جو اپنے سر پہ سر شاخ آشیاں گزری کسی کے سر پہ قفس میں بھی وہ کہاں گزری اسی کی یاد ہے مہتاب شام ہائے فراق وہ ایک شب کہ سر کوئے مہ وشاں گزری جہاں میں شوق کبھی رائیگاں نہیں جاتا میں کیوں کہوں کہ مری عمر رائیگاں گزری جبین شوق ہماری گلی گلی میں جھکی کہ ہر گلی سے تری خاک آستاں گزری

مزید پڑھیے

پسپائی

کیوں جگاتے ہو مرے سینے میں امیدوں کو رہنے دو اتنا نہ احسان کرو میں تو پردیسی ہوں اور آئی ہوں دو دن کے لیے کل چلی جاؤں گی یا پرسوں چلی جاؤں گی اور پھر آنے کا امکان نہیں روز یوں گھر سے نکلنا بھی تو آسان نہیں کیوں جگاتے ہو مرے سینے میں امیدوں کو کیوں جلاتے ہو مرے دل کے چراغ میں نے یہ ...

مزید پڑھیے

تری سازشوں سے ہی جگنو مرے

تری سازشوں سے ہی جگنو مرے مری بد دعا ہے کہ اب تو مرے کرے کون پھولوں کے موسم کا ذکر اگر شہر میں عکس خوشبو مرے جیوں جس طرح کوئی درویش ہو مروں جس طرح کوئی سادھو مرے مجھے تو نے مارا ہے جس حال میں اسی حال میں زندگی تو مرے افق پر لہو لہر چھانے کے بعد کسی روز ظلمت کا جادو مرے

مزید پڑھیے
صفحہ 816 سے 6203