قومی زبان

روتا ہوا بکرا

وہی بکرا مرا مریل سا بکرا جسے ببلو کے بکرے نے بہت مارا تھا وہ بکرا وہ کل پھر خواب میں آیا تھا میرے دہاڑیں مار کر روتا ہوا اور نیند سے اٹھ کر ہمیشہ کی طرح رونے لگا میں خطا میری تھی میں نے ہی لڑایا تھا اسے ببلو کے بکرے سے اسے معلوم تھا پٹنا ہے اس کو مگر پھر بھی وہ اس موٹے سے جا کر بھڑ ...

مزید پڑھیے

ایک کینسر کے مریض کی بڑبڑ

گلے پر لگا کر نشاں جس گھڑی ڈاکٹر نے یہ مجھ سے کہا اور تو سارے پرہیز ختم آپ کے آج سے شیو مت کیجئے گا جب تلک یہ گلے کی سکائی چلے شیو مت کیجئے گا تو ساری مشیت خدا کی سمجھ میں مرے آ گئی ارے مجھ کو داڑھی سے انکار کب تھا جو یہ رخ نکالا گیا میں تو خود شیو کے نام سے یوں بدکتا رہا آج تک جیسے ...

مزید پڑھیے

یہ کچھ بدلاؤ سا اچھا لگا ہے

یہ کچھ بدلاؤ سا اچھا لگا ہے ہمیں اک دوسرا اچھا لگا ہے سمجھنا ہے اسے نزدیک جا کر جسے مجھ سا برا اچھا لگا ہے یہ کیا ہر وقت جینے کی دعائیں یہاں ایسا بھی کیا اچھا لگا ہے سفر تو زندگی بھر کا ہے لیکن یہ وقفہ سا ذرا اچھا لگا ہے مری نظریں بھی ہیں اب آسماں پر کوئی محو دعا اچھا لگا ...

مزید پڑھیے

کوئی کچھ بھی کہتا رہے سب خاموشی سے سن لیتا ہے

کوئی کچھ بھی کہتا رہے سب خاموشی سے سن لیتا ہے اس نے بھی اب گہری گہری سانسیں لینا سیکھ لیا ہے پیچھے ہٹنا تو چاہا تھا پر ایسے بھی نہیں چاہا تھا اپنی طرف بڑھنے کے لیے بھی اس کی طرف چلنا پڑتا ہے جب تک ہو اور جیسے بھی ہو دور رہو اس کی نظروں سے اتنا پرانا ہے کہ یہ رشتہ پھر سے نیا بھی ہو ...

مزید پڑھیے

تن سے جب تک سانس کا رشتہ رہے گا

تن سے جب تک سانس کا رشتہ رہے گا میرے اشکوں میں ترا حصہ رہے گا دور تک کوئی شناسا ہو نہیں ہو بھیڑ میں اچھا مگر لگتا رہے گا ایسے چھٹکارا نہیں دینا ہے اس کو میں اگر مر جاؤں تو کیسا رہے گا طے تو ہے الگاؤ بس یہ سوچنا ہے کون سی رت میں یہ دکھ اچھا رہے گا خود سے میری صلح ممکن ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

طرح طرح سے مرا دل بڑھایا جاتا ہے

طرح طرح سے مرا دل بڑھایا جاتا ہے مگر کہے سے کہیں مسکرایا جاتا ہے ابھی میں سوچ رہا تھا کہ کچھ کہوں تجھ سے کہ دیکھتا ہوں ترا گھر سجایا جاتا ہے گناہ گاروں میں بیٹھے تو انکشاف ہوا خدا سے اب بھی بہت خوف کھایا جاتا ہے نئے نئے وہ اداکار جانتے ہی نہ تھے کہ پردہ گرتے ہی سب بھول جایا جاتا ...

مزید پڑھیے

کون کہے معصوم ہمارا بچپن تھا

کون کہے معصوم ہمارا بچپن تھا کھیل میں بھی تو آدھا آدھا آنگن تھا کانچ کی چوڑی لے کر میں جب تک لوٹا اس کے ہاتھوں میں سونے کا کنگن تھا جو بھی ملا سب بانٹ لیا تھا آپس میں ایک تھے ہم اور ایک ہی اپنا برتن تھا عکس نہیں تھا رنگوں کی بوچھاریں تھیں روپ سے اس کے سہما ہوا ہر درپن تھا رو دھو ...

مزید پڑھیے

مشق

تو وہ سب مشق تھی بے پردگی کی جو مجھے پچھلے کئی ایک سال سے ان اسپتالوں میں کرائی جا رہی تھی جہاں پر قید تھا میں کبھی مجھ کو مرے ہی پھیپھڑوں کی ایکس رے میں قید تصویریں دکھا کر کبھی پیشاب کی تھیلی لگا کر کہ میں پوری طرح بے شرم ہو جاؤں اس اک لمحے کے آنے تک جب اک انجان ہاتھ غسل کے تختے پہ ...

مزید پڑھیے

سچ تو بیٹھ کے کھاتا ہے

سچ تو بیٹھ کے کھاتا ہے جھوٹ کما کر لاتا ہے یاد بھی کوئی آتا ہے یاد تو رکھ جاتا ہے جیسے لفظ ہوں ویسا ہی منہ کا مزہ ہو جاتا ہے پھر دشمن بڑھ جائیں گے کس کو دوست بناتا ہے کیسی خشک ہوائیں ہیں صبح سے دن چڑھ جاتا ہے اسے گھٹا کر دنیا میں باقی کیا رہ جاتا ہے جانے وہ اس چہرہ پر کس کا ...

مزید پڑھیے

اچھا تو تم ایسے تھے

اچھا تو تم ایسے تھے دور سے کیسے لگتے تھے ہاتھ تمہارے شال میں بھی کتنے ٹھنڈے رہتے تھے سامنے سب کے اس سے ہم کھنچے کھنچے سے رہتے تھے آنکھ کہیں پر ہوتی تھی بات کسی سے کرتے تھے قربت کے ان لمحوں میں ہم کچھ اور ہی ہوتے تھے ساتھ میں رہ کر بھی اس سے چلتے وقت ہی ملتے تھے اتنے بڑے ہو کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 796 سے 6203