قومی زبان

وہ سارے لفظ جھوٹے تھے

محبت کی کمی لفظوں سے پوری کر رہا تھا میں مگر جب آج میں سچ مچ میں اس کو چاہتا ہوں اسے مجھ سے شکایت ہے خموشی کی کوئی بتلائے اس کو یہ خموشی ہی تو سچی ہے وہ سارے لفظ جھوٹے تھے

مزید پڑھیے

جنازے میں تو آؤ گے نہ میرے

کبھی میں زندگی کی ناز برداری نہ کر پایا ہمیشہ بیچ میں حائل رہا اک خواب پاگل خواب سوتے جاگتے جو دیکھتا ہوں میں کہ سر ہی سر جنازے میں ہیں میرے اور میں بانوں کی نئی اک چارپائی پر سکوں کے ساتھ لیٹا ہنس رہا ہوں اک ایسی بھیڑ پر جو مجھ کو کاندھا دینے کے لیے آپس میں جھگڑا کر رہی ہے مجھے یہ ...

مزید پڑھیے

عجب مشکل ہے میری

مری دنیا بہت تیزی سے خالی ہو رہی ہے عجب مشکل ہے میری کسی کی آنکھ میں ہے کون سا چہرہ مرا یہ بھول جاتا ہوں مگر الزام دینا حافظے کو بھی غلط ہوگا یہ ممکن ہی نہیں ہے کوئی اپنے سارے چہرے یاد رکھ پائے نتیجہ یہ کہ ہر جاتے ہوئے لمحے کے ہمراہ مری تنہائی بڑھتی جا رہی ہے میں اپنا ایک چہرہ ...

مزید پڑھیے

عبادت کے وقت میں حصہ

عبادت میں خدا کے وقت میں حصے کی خواہش نہ جانے کیوں سبھی یادوں میں ہوتی ہے کھڑا رہتا ہوں میں بس ہاتھ باندھے اک کنارے سے مگر وہ قافلہ یادوں کا جیسے ختم ہونے میں نہیں آتا کہاں سجدہ کروں میں؟ بھول جاتا ہوں کہ رکعت کون سی ہے مصیبت ہے گوارا ہی نہیں ان کو مرا مسجد میں آنا مرا جنت میں ...

مزید پڑھیے

اپنے تماشے کا ٹکٹ

یہ خواہش تو ہمارے شہر کے چڑیا گھروں کے شیر بھی شاید نہیں کرتے کہ ساتھی شیر ان کو دیکھنے آئیں ٹکٹ لے کر تماشے کی طرح تماشا بن کے یہ جینے کی مجبوری کہیں شرمندگی کی شکل میں منہ پر چھپی رہتی ہیں ان کے مگر انسان؟ اس کا بس نہیں چلتا کہ سر کے بل کھڑے ہو کر توجہ کھینچ لے سب کی وہی انساں جو ...

مزید پڑھیے

نظم

اک برس اور کٹ گیا شارقؔ روز سانسوں کی جنگ لڑتے ہوئے سب کو اپنے خلاف کرتے ہوئے یار کو بھولنے سے ڈرتے ہوئے اور سب سے بڑا کمال ہے یہ سانسیں لینے سے دل نہیں بھرتا اب بھی مرنے کو جی نہیں کرتا

مزید پڑھیے

جیت گیا جیت گیا

آؤ اب ڈھونڈو مجھے پھسڈی کہہ کے مجھ کو چھیڑنے والو ہراؤ اب مجھے ہاں مجھے بھی کھیل لگتا تھا یہ سب کچھ ابتدا میں مگر یہ بھی تو سوچو مسلسل ہار کوئی کھیل ہے جو کھیل اس کو مان لیتا میں کہاں تک ہارتا میں؟ مرے چھپنے کے سب کونے اجاگر ہو گئے تھے بہت آسان ہوتا جا رہا تھا ڈھونڈنا مجھ کو مجھے ...

مزید پڑھیے

مجرم ہونے کی مجبوری

وضو جائے تو جائے فرشتے کچھ بھی لکھ لیں نامۂ اعمال میں میرے مگر منہ سے مرے گالی تو نکلے گی اگر اس تولیے میں چیونٹیاں ہوں گی تھکن سے چور ہو کر جس سے ماتھے کا پسینہ پونچھتا ہوں میں

مزید پڑھیے

مجھے ہنسنا پڑا آخر

مجھے ہنسنا پڑا آخر انہیں باتوں پہ جن پر میں بہت ناراض تھا اس سے یہ اک طرفہ محبت یوں بھی اتنا درد دیتی ہے کہ اس میں بیچ کا رستہ کبھی ممکن نہیں ہوتا وہی جھکتا ہے جس کو دوسرا درکار ہوتا ہے کسی قیمت پہ چاہے جو بھی ہو جائے

مزید پڑھیے

بیچ بھنور سے لوٹ آؤں گا

پاگل سمجھا ہے کیا مجھ کو ڈوب مروں میں اور سب اس منظر سے اپنا دل بہلائیں بچوں کو کاندھوں پر لے کر اچک اچک کر مجھ کو دیکھیں ہنسی اڑائیں لاکھ مری اپنی وجہیں ہوں جاں دینے کی لیکن پھر بھی دل میں میرے بھی ہے وہ بے معنی خواہش جاتے جاتے سب کی آنکھیں نم کرنے کی میری سمجھ سے اتنا حق تو ہے جاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 795 سے 6203