ہونے سے مرے فرق ہی پڑتا تھا بھلا کیا
ہونے سے مرے فرق ہی پڑتا تھا بھلا کیا میں آج نہ جاگا تو سویرا نہ ہوا کیا سب بھیگی رتیں نیند کے اس پار ہیں شاید لگتی ہے ذرا آنکھ تو آتی ہے ہوا کیا ہم کھوج میں جس کی ہیں پریشان ازل سے بیمار کی آنکھوں نے وہ در ڈھونڈ لیا کیا مقتول کو بانہوں میں لیے بیٹھا رہوں کیوں اس جرم سے لینا ہے ...