قومی زبان

اور کیا روز جزا دے گا مجھے

اور کیا روز جزا دے گا مجھے زندہ رہنے کی سزا دے گا مجھے زخم ہی زخم ہوں میں داغ ہی داغ کون پھولوں کی قبا دے گا مجھے میں سمجھتا ہوں زمانے کا مزاج وہ بنائے گا مٹا دے گا مجھے بے کراں صدیوں کا سناٹا ہوں میں کون سا لمحہ صدا دے گا مجھے ٹوٹ کر لوح و قلم کی جاگیر کوئی دے گا بھی تو کیا دے گا ...

مزید پڑھیے

الفاظ کے بدن کو لباس خیال دے

الفاظ کے بدن کو لباس خیال دے حرف نوا کو پیکر معنی میں ڈھال دے دشواریٔ حیات کو دشوار تر بنا جس کا جواب بن نہ پڑے وہ سوال دے سرمستیوں کی موج میں لہرا کے جھوم جا اٹھ اور ایک جام فضا میں اچھال دے اہل خرد کو سونپ نہ دنیا کی باگ ڈور کار زمانہ اہل جنوں کو سنبھال دے لذت شناس تلخیٔ ...

مزید پڑھیے

ڈوبتے دل کا یہ منظر دیکھو

ڈوبتے دل کا یہ منظر دیکھو کتنے بکھراؤ ہیں اندر دیکھو آئنہ دیکھ کے جینے والو دور حاضر کے بھی تیور دیکھو بجھ گئی ماتھے کی ایک ایک شکن خالی ہاتھوں کا مقدر دیکھو سنگ اٹھائے ہوئے پھرتے ہیں صنم دور رسوائیٔ آذر دیکھو اپنا ہی عکس دگر دیکھو گے اپنے اندر سے جو باہر دیکھو ہم جہاں آبلہ ...

مزید پڑھیے

فقط حصے کی خاطر

فقط حصے کی خاطر کٹ گئی یہ زندگی میلاد سننے میں بلا جانے کہ حصہ ہے تو کیسا اور کتنا یہ سب آساں نہیں تھا گلاب اور عطر سے بھاری فضا میں سانس لینا دیر تک آساں نہیں تھا نہ آساں تھا سمجھنے کی اداکاری بھی کرنا اس زباں کو جس سے میں نا آشنا تھا اور وو بھی با ادب رہ کر بہت بھاری تھا بیلے کا وہ ...

مزید پڑھیے

چھٹی کا دن

یہ میری موت پر چھٹی کا دن ہے کلنڈر پر چھپی یہ آج کی تاریخ میری موت ہی سے لال ہو سکتی تھی شاید سویرے تک جو کالی روشنائی سے لکھی تھی مزہ ہی کچھ الگ ہے ایسی چھٹی کا اچانک جو ملی ہو یہ میرا آخری تحفہ ہے اپنے ساتھیوں کو وگرنہ پیر کا دن کتنا سر دردی بھرا ہوتا ہے دفتر کا یہ دنیا جانتی ہے

مزید پڑھیے

وہ بکرا پھر اکیلا پڑ گیا ہے

وہ بکرا پھر اکیلا پڑ گیا ہے کہ مرا ہاتھ بھی ڈونگے میں اچھی بوٹیوں کو ڈھونڈتا ہے وہی بکرا کھڑا رکھا گیا ہے جس کو کونے میں نگاہوں سے چھپا کر وہ جس کی زندگی ہے منحصر اس بات پر کہ ہم کھائیں گے کتنا اور کتنا چھوڑ دیں گے بس یوں ہی اپنی پلیٹوں میں ابھی کچھ دیر پہلے میں کھڑا تھا پاس جس ...

مزید پڑھیے

بہروپیا

انوکھا اور نیا غم شرط ہے کوئی تمہارے خودکشی کرنے کی تو پھر بھول جاؤ یہاں تو بس وہی غم ہیں پرانے غم کہ جن سے کام یہ دنیا چلاتی آ رہی ہے مگر تم ہو کہ ہنس دیتے ہو ان پر اگر یہ غم تمہیں غم ہی نہیں لگتے کہ محبوبہ تمہاری بے وفا ہے کہ وہ بچہ چھٹی جس کی منانا تھی تمہیں آج ناک میں ہے آکسیجن ...

مزید پڑھیے

سرکس میں نوکری کا آخری دن

لے چبا یہ سر جو اب جبڑوں میں ہے تیرے اگر تو واقعی میں شیر ہے تو شیر بن کر آج دکھلا دے مجھے جوکر سمجھتا تھا ارے میں تو فقط اس پیٹ کی خاطر ہنسانے کے لیے سب کو تیرے جبڑوں میں سر دینے سے پہلے بھاگ جاتا تھا مجھے اس کھیل کی تنخواہ ملتی تھی یہی کردار سرکس میں مرے حصے میں آیا تھا مگر میں آج ...

مزید پڑھیے

کتیا

خالد جاوید کے نام مگر بلی کو رونا چاہیئے تھا مجھے ہوشیار کر کے ہی اس رات سونا چاہیئے تھا کہ وہ گھر میں ہے وہ یعنی مری موت اسے کچھ بھی نہیں کرنا پڑا مجھے تو صرف لمحے بھر کی اس شرمندگی نے مار ڈالا وہ میرے حال پر منہ پھاڑ کر جب ہنس رہی تھی کہ جب وہ سامنے آئی مری آنکھوں میں خوابوں کی ...

مزید پڑھیے

جنت سے دور

گواہی حشر کے دن تمام اعضا کے ساتھ ہم انسانوں کی خالی جیب کی بھی مان لی جائے تو ممکن ہے کہ بیڑا پار ہو جائے رضا اور صبر کی تاکید پر وہ صرف اور صرف خالی جیب ہے انسان کی جو بہت کھل کر خدا سے بات کر سکتی ہے شاید وہی ہے جو فرشتوں کی لکھی سیدھی سپاٹ اعمال کی روداد میں بھی نئے کچھ رنگ بھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 794 سے 6203