قومی زبان

حالات کے کہنہ در و دیوار سے نکلیں

حالات کے کہنہ در و دیوار سے نکلیں دنیا کو بدلنا ہے تو گھر بار سے نکلیں ناکام صداؤں کے ہیں آسیب یہاں پر اس دشت تمنا سے تو رفتار سے نکلیں جن میں ہو محبت کا اخوت کا اشارہ پیغام کچھ ایسے بھی تو اخبار سے نکلیں دنیا بھی تو بن سکتی ہے جنت کا نمونہ ہم اپنی انا اپنے ہی پندار سے نکلیں جو ...

مزید پڑھیے

ہزاروں مشکلیں ہیں اور لاکھوں غم لیے ہیں ہم

ہزاروں مشکلیں ہیں اور لاکھوں غم لیے ہیں ہم محبت کا مگر ہاتھوں میں اک پرچم لئے ہیں ہم وہ نغمے جو خزاں کو پھر بہار نو بناتے ہیں انہی گیتوں کی ہونٹوں پر نئی سرگم لئے ہیں ہم ہمارے دل میں ہے جذبات کا تپتا ہوا سورج جو پلکوں سے چنی وہ درد کی شبنم لئے ہیں ہم مبارک ہو خرد والوں تمہیں فکر ...

مزید پڑھیے

زخم سینے کا پھر ابھر آیا

زخم سینے کا پھر ابھر آیا یاد بھر کوئی چارہ گر آیا مجھ کو بخشی خدا نے اک بیٹی چاند آنگن میں اک اتر آیا خوش نصیبوں کو گھر ملا یارو میرے حصے میں پھر سفر آیا تم تغیر کی بات پر ٹھہرے میں صلیبوں سے بات کر آیا اپنی تہذیب کو نہیں چھوڑا یہ بھی الزام میرے سر آیا اک کلی کھل کے پھول میں ...

مزید پڑھیے

کون دنیا سے بادہ خوار اٹھا

کون دنیا سے بادہ خوار اٹھا چشم تر ابر نو بہار اٹھا کھا کے غش گر پڑے کھڑے بیٹھے بیٹھ کر اس ادا سے یار اٹھا آتش عشق دیکھ کر مالک الاماں الاماں پکار اٹھا درد تعظیم مرگ کو دل میں شب فرقت ہزار بار اٹھا جیتے جی دور آسمانی میں نہ زمیں سے یہ خاکسار اٹھا ابر رحمت نے دے دیا چھینٹا بعد ...

مزید پڑھیے

کون برہم ہے زلف جاناں سے

کون برہم ہے زلف جاناں سے تنگ ہوں خاطر پریشاں سے مژدہ اے خار دشت دست جنوں گزرے ہم دامن و گریباں سے دانت کس کا ہے جام پر ساقی مے ٹپکتی ہے ابر نیساں سے گر یہی رنگ ہے زمانے کا باز آیا میں کفر و ایماں سے بیٹھ جاتا ہے آ کے میرے پاس جو نکلتا ہے بزم جاناں سے حور عاشق نواز ہے کوئی پہلے ...

مزید پڑھیے

بتو یہ شیشۂ دل توڑ دو خدا کے لیے

بتو یہ شیشۂ دل توڑ دو خدا کے لیے جو سنگ دل ہو تو کیا چاہیئے جفا کے لیے سوال یار سے کیسا کمال الفت کا کہ ابتدا بھی تو ہے شرط انتہا کے لیے خدا سے تجھ کو صنم مانگتے تو مل جاتا مگر ادب نے اجازت نہ دی دعا کے لیے عذاب آتش فرقت سے کانپتا تھا دل ہزار شکر جہنم ملا سزا کے لیے نہ دل لگا کے ...

مزید پڑھیے

دخل ہر دل میں ترا مثل سویدا ہو گیا

دخل ہر دل میں ترا مثل سویدا ہو گیا الاماں اے زلف عالمگیر سودا ہو گیا گو پڑا رہتا ہوں آب اشک میں مثل حباب سوزش دل سے مگر سب جسم چھالا ہو گیا اے شہ خوباں تصور سے ترے رخسار کے چشم کا پردا بعینہ لعل پردا ہو گیا فرق رندان و ملائک اب بہت دشوار ہے مے کدہ اس کے قدم سے روشن ایسا ہو ...

مزید پڑھیے

رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گے

رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گے اب اور ہی معشوق سے یارانہ کریں گے باندھیں گے کسی اور ہی جوڑے کا تصور سر دھیان میں اس زلف کے مارا نہ کریں گے امکان سے خارج ہے کہ ہوں تجھ سے مخاطب ہم نام کو بھی تیرے پکارا نہ کریں گے یک بار کبھی بھولے سے آ جائیں تو آ جائیں لیکن گزر اس گھر میں ...

مزید پڑھیے

مجھ سے ایسا رابطہ رکھ دوستی قائم رہے

مجھ سے ایسا رابطہ رکھ دوستی قائم رہے پیاس یوں بجھتی رہے کہ تشنگی قائم رہے میری پلکوں کے تلے اب جو دیے جلنے لگے ان دیوں کی ہر طرح سے روشنی قائم رہے تجھ سے ملنے کی تڑپ بھی دل سے نہ ہو کم کبھی تو ہو میرے سامنے اور بے خودی قائم رہے میری آنکھوں میں رہے قائم ہجوم التفات تیری آنکھوں ...

مزید پڑھیے

تیرا نقش کف پا تھا کیا تھا

تیرا نقش کف پا تھا کیا تھا راہ میں پھول کھلا تھا کیا تھا کچھ نہ ہونے کا گماں تھا پھر بھی کچھ تو ہونے کو ہوا تھا کیا تھا جھوٹ تھا جو بھی کیا تھا میں نے اور جو تم نے کہا تھا کیا تھا کیا تھا ہم راہ خیالوں کی طرح سایہ سا ساتھ چلا تھا کیا تھا حسن تعبیر کے آئینے میں خواب کیا دیکھ رہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 792 سے 6203