حالات کے کہنہ در و دیوار سے نکلیں
حالات کے کہنہ در و دیوار سے نکلیں دنیا کو بدلنا ہے تو گھر بار سے نکلیں ناکام صداؤں کے ہیں آسیب یہاں پر اس دشت تمنا سے تو رفتار سے نکلیں جن میں ہو محبت کا اخوت کا اشارہ پیغام کچھ ایسے بھی تو اخبار سے نکلیں دنیا بھی تو بن سکتی ہے جنت کا نمونہ ہم اپنی انا اپنے ہی پندار سے نکلیں جو ...