قومی زبان

صدیوں صدیوں لمحہ بکھرا

صدیوں صدیوں لمحہ بکھرا کتنا پھیلا کتنا بکھرا راہوں راہوں راہی بکھرے منزل منزل رستہ بکھرا کوچہ کوچہ وحشت پھیلی بستی بستی صحرا بکھرا جسم و جان کے رشتے ٹوٹے درپن درپن چہرا بکھرا نغمہ نغمہ یادوں کی لے ٹوٹ کے ساز تمنا بکھرا محفل محفل توبہ ٹوٹی ریزہ ریزہ شیشہ بکھرا کس کو ...

مزید پڑھیے

تشنہ لب کوئی جو سرگشتہ سرابوں میں رہا

تشنہ لب کوئی جو سرگشتہ سرابوں میں رہا بستۂ وہم و گماں بھاگتا خوابوں میں رہا دل کی آوارہ مزاجی کا گلا کیا کیجے خانہ برباد رہا خانہ خرابوں میں رہا ایک وہ حرف جنوں نقش گر لوح و قلم ایک وہ باب خرد بند کتابوں میں رہا بے حسی وہ ہے کہ اس دور میں جینے کا مزا نہ گناہوں میں رہا اور نہ ...

مزید پڑھیے

فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہے

فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہے بلبل نغمہ سرا رو رو بقضا آتی ہے دل دھڑکتا ہے یہ کہتے ہوئے اس محفل میں یاں کسی کو خفقاں کی بھی دوا آتی ہے آج وہ شوخ ہے اور کثرت آرائش ہے دیکھ کس واسطے پسنے کو حنا آتی ہے کیا کھلے باغ میں وہ چشم حجاب آلودہ آنکھ اٹھاتے ہوئے نرگس کو حیا آتی ہے جاں ...

مزید پڑھیے

کیا کیا نہ تیرے صدمہ سے باد خزاں گرا

کیا کیا نہ تیرے صدمے سے باد خزاں گرا گل برگ سرو فاختہ کا آشیاں گرا لکھنے لگی قضا جو ہماری فتادگی سو بار ہاتھ سے قلم دو زباں گرا جب پہنچے ہم کنارۂ مقصود کے قریب تب ناخدا جہاں سے اٹھا بادباں گرا موباف سرخ چوٹی سے کیا ان کی کھل پڑا ایک صاعقہ سا دل پہ مرے ناگہاں گرا تا آسماں پہنچ ...

مزید پڑھیے

نہ کہو اعتبار ہے کس کا

نہ کہو اعتبار ہے کس کا بے وفائی شعار ہے کس کا اے اجل شام ہجر آ پہنچی اب تجھے انتظار ہے کس کا عشق سے میں خبر نہیں یا رب داغ دل یادگار ہے کس کا دل جو ظالم نہیں تری جاگیر تو یہ اجڑا دیار ہے کس کا محتسب پوچھ مے پرستوں سے نام آمرزگار ہے کس کا بزم میں وہ نہیں اٹھاتے آنکھ دیکھنا ...

مزید پڑھیے

دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کر

دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کر سخت حیراں ہوں میں اپنی سخت جانی دیکھ کر شام سے تا صبح فرقت صبح سے تا شام ہجر ہم چلے کیا کیا نہ لطف زندگانی دیکھ کر یوں تو لاکھوں غمزدہ ہوں گے مگر اے آسماں جب تجھے جانوں کہ لا دے میرا ثانی دیکھ کر اب تپ فرقت سے یہ کچھ ضعف طاری ہے کہ آہ دنگ رہ ...

مزید پڑھیے

کسی تانگے میں پھر سامان رکھا جا رہا ہے

کسی کی آنسوؤں سے تر بتر داڑھی کے کچھ ٹوٹے ہوئے بال آج بھی ممکن ہے مل جائیں بڑے صندوق میں رکھے مرے بد رنگ سے اک سویٹر پر اسی دن کا کوئی ہم شکل دن ہے کسی تانگے میں پھر سامان رکھا جا رہا ہے وہی دہلیز ہے لیکن مرے داڑھی نہیں ہے مرا لڑکا گلے سے لگ کے میرے تھپک کر پیٹھ میری بزرگوں کی طرح ...

مزید پڑھیے

اپنی روداد کہوں یا غم دنیا لکھوں

اپنی روداد کہوں یا غم دنیا لکھوں کون سی بات کہوں کون سا قصہ لکھوں باب تحریر میں ہے لوح و قلم پر تعزیر برگ سادہ ہی پہ اب حرف تمنا لکھوں شام تو شام تھی اب صبح کا منظر دیکھو کس کی میں ہجو کہوں کس کا قصیدہ لکھوں اس ستم پیشہ کا اعجاز ستم ہی ہوگا دست قاتل کو اگر دست مسیحا لکھوں اتنی ...

مزید پڑھیے

صحرا صحرا گلشن گلشن

صحرا صحرا گلشن گلشن گرد تمنا دامن دامن نقش تحیر چہرہ چہرہ حسن کرامت جوبن جوبن ایک ہی صورت جلوہ جلوہ ایک ہی مورت درپن درپن شانہ شانہ گیسو گیسو خوشبو چندن بن چندن بن ابرو ابرو کڑی کمانیں خنجر خنجر چتون چتون کاجل کاجل جھلمل جھلمل افشاں افشاں روشن روشن روپ کی ٹھنڈک چاندی ...

مزید پڑھیے

اپنے پس منظر میں منظر بولتے

اپنے پس منظر میں منظر بولتے چیختے دیوار و در گھر بولتے کچھ تو کھلتا ماجرائے قتل و خوں چڑھ کے اوج دار پہ سر بولتے مصلحت تھی کوئی وہ چپ تھے اگر بولنے والے تو کھل کر بولتے جو طلسم آذری میں بند تھے وہ صنم پتھر کے کیوں کر بولتے بہہ گیا اشکوں کا سیل خوں کہاں خشک آنکھوں کے سمندر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 793 سے 6203