قومی زبان

جنوں سکون خرد اضطراب چاہتی ہے

جنوں سکون خرد اضطراب چاہتی ہے طبیعت آج نیا انقلاب چاہتی ہے نہ آج تیری نظر سے برس رہا ہے نشہ نہ میری تشنہ لبی ہی شراب چاہتی ہے نہیں سرور مسلسل نباہ پر موقوف مدام آنکھ کہاں لطف خواب چاہتی ہے سنا رہا ہوں فسانہ تری محبت کا یہ کائنات عمل کا حساب چاہتی ہے وہ عزم ہائے سفر لا زوال ...

مزید پڑھیے

عجیب بات ہے دن بھر کے اہتمام کے بعد

عجیب بات ہے دن بھر کے اہتمام کے بعد چراغ ایک بھی روشن ہوا نہ شام کے بعد سناؤں میں کسے روداد شہر نا پرساں کہ اجنبی ہوں یہاں مدتوں قیام کے بعد خرد علیل تھی دور شراب سے پہلے قدم میں آئی تھی لغزش شکست جام کے بعد ستم ظریفیٔ تاریخ ہے کہ مسند گیر سدا خواص ہوئے انقلاب عام کے بعد حباب ...

مزید پڑھیے

دل کے مندر میں تیری مورت ہے

دل کے مندر میں تیری مورت ہے اب خداؤں کی کیا ضرورت ہے گر ذرا سا سکوں میسر ہو زندگی کتنی خوب صورت ہے نہ کسی سے کوئی توقع ہے نہ کسی سے کوئی کدورت ہے آج دنیا نے ہم کو چھوڑ دیا آج تیری بڑی ضرورت ہے دیکھنے میں ہزار چہرے ہیں اور کہنے کو ایک صورت ہے شوکتؔ اب شعر کی ہوئی تکمیل میرے ...

مزید پڑھیے

پھولوں سے بھرے باغ بھی ویراں نظر آئے

پھولوں سے بھرے باغ بھی ویراں نظر آئے شہروں میں بہت کم ہمیں انساں نظر آئے صیقل نہ کرو آئنے کیا اس کی ضرورت کردار تو چہروں پہ نمایاں نظر آئے کی ہے ثمر و گل کی عجب پرورش اس نے تا حد نظر باغ بیاباں نظر آئے کپڑے تو الگ جس نے بدن نوچ لیے ہیں لو نام کہ وہ شخص بھی عریاں نظر آئے حیرت ہے ...

مزید پڑھیے

درمیاں گر ہیں فاصلے کوئی

درمیاں گر ہیں فاصلے کوئی دل کے رستے سے آ ملے کوئی دشت ہے راہ میں بہار یہاں گل نمونے ہی کو کھلے کوئی جی میں ہے بے رخی کریں اب ہم اور ہم سے کرے گلے کوئی یوں بھی ٹوٹے ہیں زود رنج حبیب زندگی بھر کے سلسلے کوئی لٹ گئے ہیں پہنچ کے منزل پر جو بچے رہ میں قافلے کوئی ناشناسان فن سے تو ...

مزید پڑھیے

کچھ ہنر اور سمجھتے ہیں نہ فن جانتے ہیں

کچھ ہنر اور سمجھتے ہیں نہ فن جانتے ہیں ہم ترے ذکر کو شایان سخن جانتے ہیں روح کی غایت علوی کا نہ ہو اندازہ ہم مگر مقصد تخلیق بدن جانتے ہیں استعارے ہیں ترے عارض و چشم و لب کے یہ حدیث گل و شہلا و سمن جانتے ہیں یہ الگ بات نہیں آئی زمانہ سازی ہم مگر خوب زمانے کا چلن جانتے ہیں رقص ...

مزید پڑھیے

خلاف ہنگامۂ تشدد قدم جو ہم نے بڑھا دیے ہیں

خلاف ہنگامۂ تشدد قدم جو ہم نے بڑھا دیے ہیں بڑے بڑے بانیان جور و ستم کے بدھیے بٹھا دیے ہیں خیالی غنچے کھلا دیئے ہیں خیالی گلشن سجا دیے ہیں نئے مداری نے دو ہی دن میں تماشے کیا کیا دکھا دیے ہیں کوئی تو ہے بے خود تعیش کوئی ہے محو حصول ثروت کھلونے ہاتھوں میں رہبروں کے یہ کس نے لا کر ...

مزید پڑھیے

محمود و ایاز

جہاں میں بار خدایا کوئی وکیل نہ ہو وکیل ہو تو وکالت میں بے عدیل نہ ہو جو بے عدیل بھی ہو جائے تو جمیل نہ ہو جمیل ہو تو سیاست میں کچھ دخیل نہ ہو یہ خوبیاں جو بیک وقت کوئی پاتا ہے دماغ اس کا یقیناً خراب جاتا ہے ہر اک کو دیکھنے لگتا ہے وہ حقارت سے کسی سے بات بھی کرتا ہے گر تو نخوت سے ہر ...

مزید پڑھیے

بتوں سے عشق گر بے مال و زر ہوگا تو کیا ہوگا

بتوں سے عشق گر بے مال و زر ہوگا تو کیا ہوگا پھٹیچر کی محبت کا اثر ہوگا تو کیا ہوگا اگر درپیش طوفانی سفر ہوگا تو کیا ہوگا اور آگے آگے بدھو راہ بر ہوگا تو کیا ہوگا کروں تو عرض مطلب ان سے لیکن ڈر یہ لگتا ہے اگر ہوگا تو کیا ہوگا مگر ہوگا تو کیا ہوگا ابھی تو حضرت واعظ مذمت مے کی کرتے ...

مزید پڑھیے

جو خدا کو اپنے میں نے کسی وقت بھی پکارا

جو خدا کو اپنے میں نے کسی وقت بھی پکارا تو کسی کا کیا ہے ساجھا تو کسی کا کیا اجارا مجھے زخمی کرتے کرتے ہوا زخمی آپ ظالم بڑی مشکلوں سے میں نے ابھی مارا ہے پھٹارا ہے خدا کے ذکر میں بھی تجھے اس قدر تکلف یہ امور خیر میں بھی ارے واعظ استخارا کوئی بانی جفا ہے کوئی بانی وفا ہے مزا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 786 سے 6203