بکھرے تو پھر بہم مرے اجزا نہیں ہوئے
بکھرے تو پھر بہم مرے اجزا نہیں ہوئے سرزد اگرچہ معجزے کیا کیا نہیں ہوئے جو راستے میں کھیت نہ سیراب کر سکے کیوں جذب دشت ہی میں وہ دریا نہیں ہوئے انسان ہے تو پاؤں میں لغزش ضرور ہے جرم شکست جام بھی بے جا نہیں ہوئے ہم زندگی کی جنگ میں ہارے ضرور ہیں لیکن کسی محاذ سے پسپا نہیں ...