قومی زبان

بکھرے تو پھر بہم مرے اجزا نہیں ہوئے

بکھرے تو پھر بہم مرے اجزا نہیں ہوئے سرزد اگرچہ معجزے کیا کیا نہیں ہوئے جو راستے میں کھیت نہ سیراب کر سکے کیوں جذب دشت ہی میں وہ دریا نہیں ہوئے انسان ہے تو پاؤں میں لغزش ضرور ہے جرم شکست جام بھی بے جا نہیں ہوئے ہم زندگی کی جنگ میں ہارے ضرور ہیں لیکن کسی محاذ سے پسپا نہیں ...

مزید پڑھیے

وابستہ ہو گئے ہیں قدم رہ گزر کے ساتھ

وابستہ ہو گئے ہیں قدم رہ گزر کے ساتھ ہم چل پڑے تھے ایک حسیں ہم سفر کے ساتھ اک دن دھوئیں کی طرح نہ باہر نکال دے ہمسایہ آ بسا ہے برا میرے گھر کے ساتھ گلچیں پہ نکتہ چین نہ ہو باغبان خود گل شاخ سے اتار رہے ہیں ہنر کے ساتھ اس تیز گام شخص نے منزل کو جا لیا جو ہر پڑاؤ پر نہ رکا راہبر کے ...

مزید پڑھیے

راز میں رکھیں گے ہم تیری قسم اے ناصح

راز میں رکھیں گے ہم تیری قسم اے ناصح لے نکال اب وہی گانجے کی چلم اے ناصح اب خدا کے لیے رکھ ہم پہ کرم اے ناصح ہیں پریشاں تری بکواس سے ہم اے ناصح جھریاں رخ کی جو پیغام قضا لائی ہیں کب تلک جاؤ گے تم سوئے عدم اے ناصح بادہ نوشوں کو نہ سمجھانے کی کوشش کرنا ورنہ پھر ہوگا ترا ناک میں دم ...

مزید پڑھیے

ہو کیسے کسی وعدے کا اقرار رجسٹرڈ

ہو کیسے کسی وعدے کا اقرار رجسٹرڈ جب خود ہی نہیں ہے مری سرکار رجسٹرڈ کیا شیخ و برہمن پہ کرے کوئی بھروسہ تسبیح رجسٹرڈ نہ زنار رجسٹرڈ اس جنبش چتون سے کوئی بچ نہیں سکتا قاتل کا مرے ہوتا ہے ہر وار رجسٹرڈ چاہے بھی تو اب ترک تغافل نہیں ممکن ہے دوست کی غفلت کا یہ آزار رجسٹرڈ مدت ہوئی ...

مزید پڑھیے

شیخ و برہمن دونوں ہیں برحق دونوں کا ہر کام مناسب

شیخ و برہمن دونوں ہیں برحق دونوں کا ہر کام مناسب بیچ لیں فوراً دیر و حرم بھی پائیں کہیں گر دام مناسب میرا تو ہر اک فعل عبث ہے غیر کا ہر اقدام مناسب واقعہ یہ ہے پیو جسے چاہیں اس کا سہاگن نام مناسب وقت کا پیہم یوں ہے تقاضا رہبر صد سالہ کو ہٹا دو جیسے پرانی چیز کا اکثر ہوتا ہے نیلام ...

مزید پڑھیے

آنسو مری آنکھوں سے ٹپک جائے تو کیا ہو

آنسو مری آنکھوں سے ٹپک جائے تو کیا ہو طوفاں کوئی پھر آ کے دھمک جائے تو کیا ہو بس اس لیے رہبر پہ نہیں مجھ کو بھروسہ بدھو ہے وہ خود راہ بھٹک جائے تو کیا ہو اچھی یہ تصور کی نہیں دست درازی انگیا کہیں اس بت کی مسک جائے تو کیا ہو واعظ یہ گلستاں یہ بہاریں یہ گھٹائیں ساغر کوئی ایسے میں ...

مزید پڑھیے

کیا جو اعتبار ان پر مریض شام ہجراں نے

کیا جو اعتبار ان پر مریض شام ہجراں نے ٹھنڈائی میں دھتورا دے دیا عیسئ دوراں نے پھرایا در بدر ان کو جہاں بانی کے ارماں نے نچایا خوب یہ بندر جنون فتنہ ساماں نے فجور و فسق کی تاریکیوں میں جب کوئی بھٹکا دکھائی دور سے ہی اس کو لائٹ اس کے ایماں نے سکوں ملتا ہے ان کو اور نہ ہم کو چین ...

مزید پڑھیے

گن کے دیتا ہے بلا نوشوں کو پیمانہ ابھی

گن کے دیتا ہے بلا نوشوں کو پیمانہ ابھی واقعی بالکل گدھا ہے پیر مے خانہ ابھی گفتگو کرتے ہیں باہم جام و پیمانہ ابھی قابل ترمیم ہے آئین مے خانہ ابھی ہو نہ کیوں کر واردات قتل روزانہ ابھی کوئے قاتل میں نہیں چوکی ابھی تھانہ ابھی دیکھتے تو ہیں وہ ہر شے بے نیازانہ ابھی رال گرتی ہے مگر ...

مزید پڑھیے

اے ہم سفیر تلخئ طرز بیاں نہ چھوڑ

اے ہم سفیر تلخئ طرز بیاں نہ چھوڑ تو گالیاں دیئے جا ہمیں گالیاں نہ چھوڑ واعظ بتوں کے چاہ ذقن کا بیاں نہ چھوڑ ورنہ کہیں نہ پائے گا پانی کنواں نہ چھوڑ پہنچا دے مکر و کید کو حد کمال تک اے دوست ناتمام کوئی داستاں نہ چھوڑ ان رہبران قوم سے یارب بچا مجھے چر لیں گی سب چمن مرا یہ بکریاں ...

مزید پڑھیے

ظاہراً یہ بت تو ہیں نازک گل تر کی طرح

ظاہراً یہ بت تو ہیں نازک گل تر کی طرح دل مگر ہوتا ہے کم بختوں کا پتھر کی طرح جلوہ گاہ ناز میں دیکھ آئے ہیں سو بار ہم رنگ روئے یار ہے بالکل چقندر کی طرح مونس تنہائی جب ہوتا نہیں ہے ہم خیال گھر میں بھی جھنجھٹ ہوا کرتا ہے باہر کی طرح آپ بے حد نیک طینت نیک سیرت نیک خو حرکتیں کرتے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 787 سے 6203