قومی زبان

بھائی چارہ

جنگ چھڑی ہو سرحد پر یا کہیں لگی ہو آگ پورا ہو ارمان کسی کا یا سو جائیں بھاگ میری بین جدا ہے سب سے میری جدا ہے راگ میری دنیا کھیل تماشا میں ہوں منا پیارا سب کے دل کی راحت ہوں میں سب کی آنکھ کا تارا میں روؤں تو مجھ کو گھر کے سارے لوگ منائیں میں سوؤں تو میرے سپنوں میں پریاں آ جائیں میں ...

مزید پڑھیے

15 اگست

ہر سو ہے بہار ماہ اگست ہے دل میں قرار ماہ اگست اپنا ہے چمن اپنا ہے وطن اپنا ہے جہان آزادی ہے ہاتھوں میں آزادی کا علم ہے سب سے جدا اپنا پرچم آزاد ہے اب اپنا مسکن اونچا ہے نشان آزادی دھرتی کو سجائیں گے ہم سب گلزار بنائیں گے ہم سب ہم سب کو ترقی کی ہے لگن دکھلائیں گے شان آزادی اس دیش کی ...

مزید پڑھیے

ہم بچے ہم شہزادے

پھول کھلیں گے گلشن میں دیپ جلیں گے آنگن میں دل نہ کسی کا ہم توڑیں گے عہد ہے اپنا بچپن میں رکھیں گے ماں باپ کی لاج چمکیں گے علم و فن میں باہم مل کے رہیں گے ہم کھوٹ نہ رکھیں گے من میں دنیا ہم کو دیکھے گی ایک نئے پیراہن میں پھیلیں گے خوشبو کی طرح دھرتی کے اس آنگن میں دل میں جو رکھتا ہے ...

مزید پڑھیے

کھلتا ہوا گلاب ہے 26 جنوری

لمحے نئے ہیں سال نیا آرزو نئی ہمت نہیں ہے راہ نئی جستجو نئی لگتی ہے ہم کو آج ہر اک گفتگو نئی اجلا سا آفتاب ہے چھبیس جنوری کھلتا ہوا گلاب ہے چھبیس جنوری جس دن بنا تھا ملک میں آئین خوش گوار اپنے چمن میں آئی تھی جس دن نئی بہار جو دن ہے اپنی عظمت و رفعت کی یادگار اس دن کا ایک باب ہے ...

مزید پڑھیے

ایک وحشت ہے رہ گزاروں میں

ایک وحشت ہے رہ گزاروں میں قافلے لٹ گئے بہاروں میں ساز خاموش آرزو بیمار کوئی نغمہ نہیں ہے تاروں میں اس طرف بھی نگاہ دزدیدہ ہم بھی ہیں زندگی کے ماروں میں یہ تو اک اتفاق ہے ورنہ آپ اور میرے غم گساروں میں آدمی آدمی نہ بن پایا بستیاں لٹ گئیں اشاروں میں دیکھ کر وقت کے تغیر کو چاند ...

مزید پڑھیے

غم کی اندھیری راہوں میں تو تم بھی نہیں کام آؤ ہو

غم کی اندھیری راہوں میں تو تم بھی نہیں کام آؤ ہو کیوں بے کار کرو ہو حجت آگے بات بڑھاؤ ہو کیوں تھم تھم کر قدم رکھو ہو کیوں اتنا گھبراؤ ہو رات کا سناٹا ہے میں ہوں تم کس سے شرماؤ ہو آؤ اپنے ہاتھ میں لے کر ہاتھ ہمارا دیکھو تو ہم نے سنا ہے تم سب کی قسمت کا حال بتاؤ ہو پہلے پہر جب آ نہ ...

مزید پڑھیے

ہر برے وقت میں کام آیا تھا

ہر برے وقت میں کام آیا تھا اگلے وقتوں کا وہ ہم سایہ تھا آئنے میں تھا وہ کس کا چہرہ میں جسے دیکھ کے شرمایا تھا گر گیا آج وہ بوڑھا برگد میرے آنگن کا جو سرمایہ تھا اہل زر سے بھی خریدا نہ گیا مایۂ ناز وہ بے مایہ تھا

مزید پڑھیے

یاد

سہانی رات میں دل کش نظارے یاد آتے ہیں نہیں ہو تم مگر وہ چاند تارے یاد آتے ہیں اسی صورت سے دن ڈھلتا ہے سورج ڈوب جاتا ہے اسی صورت سے شبنم میں ہر اک ذرہ نہاتا ہے تڑپ جاتا ہوں میں جب دل ذرا تسکین پاتا ہے اسی انداز سے مجھ کو سہارے یاد آتے ہیں نہیں ہو تم مگر وہ چاند تارے یاد آتے ...

مزید پڑھیے

ایکتا

جو ایکتا کی لگن ہو دل میں تو بے قراری نہ پاس آئے کسی کا جادو کسی کا ٹونا ہمارے اوپر نہیں چلے گا اگر ہم اپنے کو خود سمجھ لیں اگر ہم اپنے کو آپ پرکھیں نہ کوئی آفت کہیں اٹھے گی نہ دل دکھے گا نہ گھر جلے گا ہر ایک بچہ ہے ایک بچہ نہ ہے کسی کا کبھی عدو وہ یہ بھید بھاؤ یہ فاصلہ سب خود اپنا ...

مزید پڑھیے

علم کا مقام

آؤ بچو تم کو بتائیں آنکھوں دیکھا حال سنائیں ہم نے اس دنیا میں رہ کر کیسا کیسا دیکھا منظر گرمی دیکھی سردی دیکھی تیزی دیکھی نرمی دیکھی بادل دیکھا پانی دیکھا دریا کی طغیانی دیکھا کیلا دیکھا آم بھی دیکھا پستہ اور بادام بھی دیکھا رنگ برنگے پھول بھی دیکھے ہرے گلابی نیلے پیلے عمر کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 781 سے 6203