قومی زبان

خاموشی کے حصار میں

غنی نے لکھا تھا، ’’عطا کا خط آیا ہے، وہ اس ماہ کے آخر تک اپنی بیوی بچوں کے ساتھ آجائے گا۔ آج ۱۰ تاریخ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ۲۵،۲۶ تک بیٹا، بہو اور بچے آجائیں گے۔۔۔ گھر میں بہار آجائے گی‘‘۔ سجاد نے غنی کے خط کی ان سطروں کو بار بار پڑھا اور ہر بار اسے ایک نیا لطف آیا۔ پتہ نہیں کیوں ...

مزید پڑھیے

سلاخیں

وہ ایک بوسیدہ کمرے میں بیٹھا کسی چیز کو درست کررہا تھا ۔اس کمرے میں تاروں کے کچھ گچھوں اور اوزاروں کے علاوہ ایک طرف کپڑوں کا بکسہ رکھا ہوا تھا جس کے ادھ کھلے منھ سے کچھ کپڑے نکل کر زمین پر بکھرے ہوئے تھے ۔کمرے کی دوسری طرف چھوٹی سی میز پر ایک گلاس اور پانی کا جگ رکھا ہوا تھا ۔جگ کی ...

مزید پڑھیے

شکست

گرمی کی شام میں وہ لاؤنج میں ٹہل رہی تھی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں اس کے ذہن کو روشن کر رہی تھیں قلم کو ہاتھ میں لے کرکچھ دیر ہونٹوں پر رکھا کہ اچانک ہٹایا اور ایک جملہ کاپی میں لکھا ’’ وہ میری زندگی ہے‘‘ اور پھر کچھ دیر سوچنے لگی اتنی دیر میں ملازمہ چائے لے کر آئی وہ ایک گھونٹ چائے کا ...

مزید پڑھیے

طوفان

میں کتاب کی وررق گردانی کر رہی تھی کہ اچانک موبائل کی گھنٹی نے میرا دھیان دوسری طرف متوجہ کر دیا۔چند لمحے فون پر میری نظر رہی لیکن وہ نمبر جانا پہچانا نہیں تھا، فون رسیو کرنے پر ایک گھبرائی ہوئی آواز نے مجھے خوف زدہ کر دیا۔ ’’ہیلو ۔۔۔!!‘‘ ابھی اتنا ہی کہا تھا۔ ’’مسز راشد بول ...

مزید پڑھیے

فسانہ ختم ہوتا ہے

مسلا ہوا بستر پوری کہانی تھا۔ ثاقب نے ٹہلتے ٹہلتے سوچا۔ مزے کا افسانہ بن سکتا ہے اس پر۔ بے ترتیب چادر اور بکھرے ہوئے تکیے اور فضا میں پھیلی ایک وحشی بُو۔ اولڈ ماسٹرز میں سے کوئی لکھتا تو کمال کردیتا۔ ابو الفضل صدیقی۔ یا سیّد رفیق حسین۔ ایک کمرے کی چھوٹی چھوٹی جزئیات سے مرتب ...

مزید پڑھیے

کھویا ہوا آدمی

باہر سیاٹل کی رات تھی۔ یخ ہوا ہر چیز کے آرپار گزرجاتی تھی۔ اوورکوٹ، دستانے، ونڈبریکر جیکٹس، چربی، ہڈیاں، سب کے درمیان سے گزرجاتی تھی۔ انگلیوں کی پوریں اور ناک جیسے بے حس، بے جان ہونے لگتی تھیں۔ صرف تین منٹ تک انور اس خوفناک سردی کو برداشت کرپایا۔ سگریٹ کے کش تیزی سے لیے جائیں ...

مزید پڑھیے

رئیس کیوں چپ ہے؟

رئیس کچھ دنوں سے چپ ہے۔ اب یہ مت سمجھ لیجئے گا کہ رئیس نے بولنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ وہ بولتا تو ہے مگر بس، ضرورت کے مطابق۔ ہر سوال کا جواب دیتا ہے۔ دفتر میں ساتھیوں کی خیریت بھی دریافت کرتا ہے۔ بچوں سے اور بیوی سے گفتگو بھی کرتا ہے۔ رات گئے گھر آنے والے مہمانوں کے سامنے خاندانی جھگڑوں ...

مزید پڑھیے

مارٹن کوارٹرز کا ماسٹر

ماسٹر کے گھر کے قریب پہنچ کر ڈرائیور نے گاڑی اندر گلی میں لے جانے سے انکار کردیا۔ ’’پچھلی بار کس نے سالن پھینک دیا تھا صاحب جی۔‘‘ اس نے حتی الامکان ادب کے ساتھ کہا۔۔۔ ’’اور اس سے پچھلی بار تین چھوکرے۔۔۔‘‘ ’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔‘‘ منظر نے ٹائی کی گرہ ڈھیلی کرتے ہوئے کہا۔ ...

مزید پڑھیے

کہانی ایک کردار کی

ایک رات عجیب واقعہ پیش آیا۔ مشہور ادیب عابد شہباز کا تخلیق کردہ مقبول کردار شکیل رات کے ڈھائی بجے زندہ ہوگیا۔! زندہ کیا ہوگیا، یوں سمجھئے کہ جیسے ہوش میں آگیا۔ اب خدا کے واسطے یہ مت کہہ دیجئے گا کہ آپ نہ عابد شہباز سے واقف ہیں اور نہ اس کے مشہور کردار شکیل سے۔ کروڑوں لوگ عابد ...

مزید پڑھیے

اچھے ماموں کا چائے خانہ

اچھے ماموں ایک چائے خانے میں رہتے تھے۔ اور ہمارے غریب، شریف خاندان کی بدنامی کا واحد سبب تھے۔ ویسے تو پندرہ بیس برس قبل چائے خانے میں گھنٹوں گزارنا کوئی بہت زیادہ معیوب بات نہیں ہوسکتی تھی۔ لیکن چوبیس گھنٹے ایک چائے خانے میں رہنا کچھ ناقابل یقین سا لگتا تھا۔ اگر آپ نے کراچی میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6120 سے 6203