قومی زبان

ایک کہانی کا بوجھ

بہت دنوں سے ایک کہانی کا بوجھ اٹھائے پھر رہا ہوں۔ عرفی چچا کی کہانی کا بوجھ۔! عام طور پر کہانیاں بوجھ نہیں ہوتیں۔ لکھنے والوں کے لئے تو وہ ایک نشہ ہوتی ہیں۔ ایک سرور۔ ایک خواب کی سی کیفیت جس میں اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے، صبح شام، کوئی خیال پرورش پاتا رہتا ہے، کچھ منظر بنتے بگڑتے ...

مزید پڑھیے

بنجر، بے رنگ زندگی والا

یہ کہانی میں بہت جلدی میں لکھ رہا ہوں۔ اور اگر آپ نے یہ پوچھنے کی کوشش کی کہ اس جلدی کی وجہ کیا ہے، تو میں آپ کا سر توڑ دوں گا۔ مجھے ایسے پڑھنے والے زہر لگتے ہیں جو ہر چیز کی وجہ جاننا چاہتے ہیں۔ ہر کردار، ہر واقعے، ہر صورتحال کے پس منظر میں چھپی باتوں کا راز پانا چاہتے ہیں۔ لطف ...

مزید پڑھیے

مہرو ماہ اوراختر، آسماں انہی سے ہے

تنویر نے بٹن دبایا تو اپارٹمنٹ کے اندر دور کہیں گھنٹی بجی۔ ریلیکس۔۔۔ ابوجی ہمیشہ کہتے تھے۔ دروازے کے پیچھے نہ جانے کون ہوگا۔ اس کی پہلی نظر تم پر پڑے تو تم مطمئن اور پُر اعتماد نظر آؤ۔ کشادہ گیلری میں ایک گہرا سناٹا تھا۔ مہنگے اپارٹمنٹس کی روایتی خاموشی۔ تنویر کو اپنا کراچی ...

مزید پڑھیے

ایک، دو، تین، چار

سیٹھ لطیف کانجی کا نام اب بہت کم لوگ جانتے ہوں گے۔ کراچی کی پرانی تاریخ سے وابستہ کچھ لوگ شاید ذہن پر زور ڈالیں تو انہیں کچھ نہ کچھ یاد آجائے۔ مگر ایسے لوگ بھی اب کتنے رہ گئے ہیں۔ خود کراچی بھی اب وہ کراچی کہاں رہا ہے۔ یہاں کس کے پاس اتنی فرصت ہے کہ کوئی نام ذہن کے افق پر پل بھر کو ...

مزید پڑھیے

کراچی نامی قتل گاہ میں ایک دوپہر

ادھیڑ عمر کا وہ آدمی بہت دیر سے بس اسٹاپ پر کھڑا تھا۔ یہ ایمپریس مارکیٹ کے سامنے، ذرا فاصلے پر واقع وہ بس اسٹاپ تھا جہاں سے لانڈھی اور کورنگی کی بسیں روانہ ہوتی تھیں۔ یہاں ارجنٹ تصویریں بنا کر دینے والے فوٹو گرافروں کی اور کھلی چائے فروخت کرنے والوں کی دکانیں تھیں۔ انہی کے ...

مزید پڑھیے

بھائی صاحب

پھر وہی خوف تھا۔۔۔! بھائی صاحب کا خوف۔۔۔!! وہ امریکہ چلے گئے تھے تو ارشد اس خوف کو یوں بھول گیا تھا جیسے آدمی گزری پریشانیوں کو فراموش کردیتا ہے۔ پندرہ برس تک وہ ایک آزاد آدمی تھا۔ بے فکر، بے خوف آدمی۔ بھائی صاحب بالکل ابا جی ٹائپ تھے، لیکن ان سے زیادہ خطرناک۔ ان کی عقابی نگاہیں ...

مزید پڑھیے

خوف

انتہائی نگہداشت کے کمرے میں موجود روشنی کے سبب اسے آنکھیں کھولنے میں دشواری محسوس ہورہی تھی، تاہم اس نے اپنی نیم وا آنکھوں کو آہستہ سے کھولا، بالکل اس طرح جیسے کوئی نومولود دنیا کو پہلی بار دیکھتا ہے۔ “آپ کو مبارک ہو، آپ کا آپریشن کامیاب ہوا ہے۔” یہ کمرے میں موجود نرس کی میٹھی ...

مزید پڑھیے

جسم کی پکار

اسلم کی آنکھ دیر سے کھل چکی تھی لیکن وہ دم سادھے ہوئے بستر پر پڑا رہا۔ کمرے کے اندر بھی اتنا اندھیرا نہ تھا جتنا کہ باہر۔ کیوں کہ دنیا کہا سہ کے کا فوری کفن میں لپٹی ہوئی تھی تاہم اکا دکا کوئے کی چیخ پکار اور برف پر رینگتی ہوئی گاڑیوں کی مسوسی ہوئی آواز اسے جتلا رہی تھی کہ سویرا ہو ...

مزید پڑھیے

زبان بے زبانی

میں برگد کا ایک عمر رسیدہ درخت ہوں، غیر فانی اور ابدی! نہ جانے کتنی مدت سے میں تن تنہا اور خاموش کھڑا ہوں۔ برقرار نہ بیقرار! بے زبان اور نغمہ زن! یاد نہیں کتنی مرتبہ کڑکڑاتی سردیوں میں اپنی بے برگ شاخوں سے کوہاسہ کی چادر ہٹا کر میں نے فریاد کی ہے، نہ معلوم کتنی مرتبہ آتشیں ...

مزید پڑھیے

میری ڈائری کے چند ورق

12 جون اس عالم بیداری میں جانداروں کے اس اژدھام عظیم میں زندگی کی اس پر شور روانی میں رہتے ہوئے بھی محسوس ہوتا ہے کہ میں اکیلا ہوں۔ اکیلا، بالکل اکیلا، میری تنہائی اس قیدی سے بھی زیادہ المناک ہے جو ایک چہار دیواری میں بند ہونے کے بعد یہ سوچ ہی رہا ہو کہ اسیروں کے اس انبوہ میں کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6121 سے 6203