قومی زبان

دولے شاہ کے چوہے

جوں جوں مقررہ تاریخ قریب سے قریب تر آتی جا رہی تھی ،توں توں اس کے دل کی دھڑکنیں تیز تر ہو تی جا رہی تھیں۔بے یقینی کے بادل خوابوں کے افق پر چھائے تعبیر کی چاندنی کو کوگہنائے جا رہے تھے۔تفکرات کی شکنیں اور رت جگے اس کے چہرے پرعیاں تھے۔ ’’ اگر تیسری اسائنمنٹ بھی منظور نہ ہوئی تو ...

مزید پڑھیے

بندر کا تماشا

سمندریوں تو محض پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے مگر ہر لمحہ اس کی بدلتی ہوئی شکل لوگوں کے لئے دلچسپی کا باعث ہوتی ہے۔ جب ہوا تیز ہو تو لہریں ساحل پر ایک شور کے ساتھ ٹکراتی ہیں اور توپانی دور تک ریت پر چڑھتا چلا جاتا ہے اور پھر تیزی سے واپس لوٹنے لگتا ہے، اور اُسی وقت ، ایک نئی، آتی ہو ...

مزید پڑھیے

بدلتا ہے رنگ آسماں...

اشرف صبوحی ایک بوڑھا ٹانگوں سے اپاہج، ایک بڑھیا اندھی اور ایک سات آٹھ برس کی لڑکی بازاروں میں گا کر بھیک مانگتے پھرتے تھے۔ آگے مرد ہاتھوں کے بل گھسٹتا ہوا چلتا۔ اس کی کمر میں بندھی ہوئی رسی کے سہارے عورت اور پیچھے پیچھے لڑکی خبر نہیں کون تھے۔ ہندو یا مسلمان۔ غریب، محتاج ...

مزید پڑھیے

سفر در سفر

’’نماز کی قضا ہے بیٹا، خدمت کی کوئی قضا نہیں۔‘‘ لاھور میں جب میں نے ایک بابا سے کہا کہ میں صوفی بننا چاہتا ہوں تو انہوں نے پوچھا، ’’کس لیے؟‘‘ میں نے کہا، ’’اس لیے کہ یہ مجھے پسند ہے۔‘‘ آپ نے کہا، ’’مشکل کام ہے، سوچ لو۔‘‘ میں نے عرض کیا، ’’اب مشکل نہیں رہا کیوں کہ اس ...

مزید پڑھیے

بابا کی تعریف

ہم زاویہ کے بیشتر پروگراموں میں بابوں کی بات کرتے ہیں، اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ بابوں کیDefinition سے یا ان کی تعریف سے ہیئتِ ترکیبی سے آپ یقیناً بہت اچھی طرح واقف ہوں گے، لین میرا یہ اندازہ بالکل صحیح نہیں تھا۔ اب میں آپ کی خدمت میں یہ عرض کروں، اور اس کی ایک چھوٹی سی تعریف بھی کروں، ...

مزید پڑھیے

امی

وہ بڑے صاحب کے لیے عید کارڈ خرید رہاتھا کہ اتفاقاً اس کی ملاقات امی سے ہوگئی۔ ایک لمحے کے لیے اس نے امی سے آنکھ بچا کر کھسک جانا چاہا لیکن اس کے پاؤں جیسے زمین نے پکڑ لیے اور وہ اپنی پتلون کی جیب میں اکنی کو مسلتارہ گیا۔ اچانک امی نے اسے دیکھا اور آگے بڑھ کر اس کے شانے پر ہاتھ ...

مزید پڑھیے

کمند ہوا

کریما بہ بخشائے برحالِ ما کہ ہستیم اسیرِ کمندِ ہوا نداریم غیر از تو فریاد رس کہ توئی۔۔۔ کہ توئی۔۔۔ اور بس۔۔۔ اس سے آگے کے الفاظ اگر مجھے بھول گئے ہیں یا میں ان کو بھول گئی ہوں تو ان کی یاد آوری کی کوئی ضرورت بھی نہیں۔ یاد آوری قطعی فضول اور لاحاصل حرکت ہے جو انسانوں پر روز و شب ...

مزید پڑھیے

چھوٹا

پرانے مصروف اورپُرہجوم بازارکے اُس جانب طویل و عریض قطعۂ زمین، بازار کے رواں دواں پُرشور، قدیم اورجدید ٹریفک کی ہاؤہوکے باوجود ویران اوربے آباد پڑا دشت تنہائی کا تاثر دیتاتھاکہ اس کا کبھی کاکملاتا سبزہ برسوں سے خشک بلکہ گیاہِ خشک تر کا تاثر دینے لگا تھا۔ اورکسی زمانے میں ...

مزید پڑھیے

آئینہ

چارپائی پر لیٹا بوڑھا وجود ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا ہوا تھا ۔ زور زور سے کھانستے ہوئے جیسے اس کے انجر پنجر سب ہلنے لگے ۔منہ سے لعاب بہ رہی تھی۔ کہنیوں کی مدد سے وہ اٹھ گئیں ۔میلا کچیلا لحاف اپنے اوپر سے ہٹایا اور قمیض کے دامن سے رال صاف کرنے لگی۔ اتنی مشقت کے بعد ہاتھ تھر تھر کانپ رہے ...

مزید پڑھیے

نہلے پہ دہلا

بروک سٹریٹ میں اس وقت بھی گہما گہمی تھی۔حالانکہ وقت دن کے قاعدے سے نکلنا چاہتا تھا,سورج اپنے آخری مرحلے میں تھا۔ سڑک پر آہستہ سے چھڑی ہاتھ میں تھامے اس بوڑھے شخص نے مسکرا کر ارد گرد دیکھا اور پھر چلنے لگا۔وہ لنگڑا کے چل رہا تھا۔اسکی دونوں ٹانگیں متوازن نہیں تھیں۔ وہ خاکی رنگ کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6110 سے 6203