قومی زبان

بس ایک نقطہ

پھولدار ساری پہنے ہوئے وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی کھیت کی طرف آتی دکھائی دی ،وجئی سر اٹھائے اسے دیکھتا رہا اور سوچتا رہا ۔ کا ہو مناّ کے ابّا ۔۔آج کھانا کھائے کھاتِر گھر کاہے نا ہی آئیو ؟۔۔ گنگا نے اپنے سر پر سوتی ،پرانی جگہ جگہ سے پیوند لگی ساری کا آنچل درست کیا ۔اور میلا سا ...

مزید پڑھیے

بے سائبان

آج پہلی بار یہ نہیں ہو ا ۔۔۔ اب کی تو جب سے سیتا گھر آئی ،اس کا یہی حال ہے ۔رات رات چیخ مار کر اٹھ جاتی ہے آنگن میں بھاگتی ہے کبھی چو کے میں جاکے چھپتی ہے اور کبھی زینہ کے نیچے دبکتی ہے ۔اس کی آواز میں ایسا درد ہوتا ہے کی سن لو تو رونا آئے ۔بڑی اّماں دو بار جا کر بھوسیلے سے اسے نکال ...

مزید پڑھیے

وضع دار

لکھنؤ کے ایک پرانے محّلے میں ہمارے کچھ عزیز رہتے تھے یا رہتے ہیں۔ کیونکہ بقول بشیر بدر انھیں میری کوئی خبر نہیں مجھے ان کا کوئی پتہ نہیں ۔یہ کا فی پہلے کی بات ہے۔ اس محّلے میں ایک بہت بڑا پھا ٹک ہوا کر تا تھا ۔جس کے اوپر دونوں طرف پتّھر کی بڑی بڑی مچھلیا ں بنی ہوئی تھیں ۔پھا ٹک ...

مزید پڑھیے

یہ رابطے دل کے

’’صاحبزادی لوٹ کر گھر آگئی ہیں ‘‘چچا نے ہاتھ دھوکر کھانے کے لئے تخت پر بیٹھتے ہوئی اطلاعا زور سے کہا ۔ روٹی کی ڈلیا کھولتے ہوئے چچی جان کا ہاتھ دم بھر کو کانپ گیا ۔ ’’حد ہوتی ہے بے غیرتی کی ۔ہنہہ ۔۔۔‘‘ چچا نے سالن کا ڈونگا اپنی طرف کھسکایا ۔اور پلیٹ سیدھی کی ۔ ’’آپ کو اسقدر ...

مزید پڑھیے

شانتی

جب سے اسِ باڈر پر ڈیو ٹی لگی تھی وہ بہت اداس تھا ۔اڑتی ہوئی گرم ریت ،جا بجا سخت ٹیلے ،اور گرم ہواؤں کی تپش ۔ اسےاپنا ٹھنڈا گھر ،گرم چولھا ، ہنستی مسکراتی بیوی اور کھلکھلاتے بچےٗ بہت یاد آتے تھے ۔وہ بس جیسے دن کاٹ رہا تھا ۔کبھی کبھی وہ منھ چھپا کر رویا بھی ،مگر ڈیوٹی تو ڈیوٹی ہے ...

مزید پڑھیے

ماتم گسار

شہر کے قلب میں واقع مدتوں سے ویران کھنڈر نما حویلی کے دروازے پر ایک تابوت رکھا ہوا ہے۔ سرگرمیاں جو دوپہر کی تمازت کے سبب معطل ہوچکی تھیں۔ پھر آہستہ آہستہ شروع ہو رہی ہیں۔ سڑکوں پر اکا دکا آدمی چلتا دکھائی دے جاتا ہے۔ جب کوئی راہ گیر حویلی کے سامنے سے گزرتا ہے اور دروازے پر ...

مزید پڑھیے

آنگن کی دھوپ

میگھارانی تمہارے دانت کتنے پیارے ہیں، گلہری کے دانت۔ تمہارے بال کب کٹے۔ کس نے کٹوائے، مجھے اچھے لگتے تھے تمہاری گردن پر دوڑتی گلہری کی طرح سنہرے بال۔ ہاں گلابی فیتہ بھی خوب بھپتا ہے، لگتا ہے بڑی سی تتلی تمہارے سر پر بسیرا کرنے کے لئے اتر آئی ہے۔ بھاگ کیوں رہی ہو؟ آؤ آؤ میں تم کو ...

مزید پڑھیے

ساری رات

دوسرا گلاس بھی خالی تھا۔ میرا گلاس، جوپہلا گلاس نہیں تھا، خالی ہو رہا تھا۔ میں نے دوسرے گلاس کو بھی بھر دیا اور انتظار کرنے لگا۔ اس کا جس کے آنے کا انتظار تھا۔ اس کا جس نے آنے کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ چھت پر چاندنی سو رہی تھی۔ ہوا جاگ رہی تھی اور رات کا دل دھڑکا رہی تھی کبھی کبھی ...

مزید پڑھیے

درگور

تقریباً بھاگتے قدموں سے آفس سے باہر نکلتے ہی طاہرہ نے آسمان کی جانب نظر دوڑائی۔گہرے بادلوں سے ڈھکا ہوا آسمان اور کراچی جیسے وسیع وعریض شہرکی فلک بوس عمارتیں جو اس شہر کے لوگوں کو ان کے قد سے بھی چھوٹا بنائے دے رہی تھیں۔ سڑکوں پر پھرتے چھوٹے چھوٹے قدوں کے یاجوج ماجوج۔ ۔۔ جو ...

مزید پڑھیے

کابلی والا کی واپسی

کابلی والے کے ہونٹ لرزے۔ ’’اچھا صاحب اب میں چلوں ۔ ۔ ۔ وقت کم ہے۔ کچھ سامان بھی خریدنا ہے۔ صبح چار بجے کی گاڑی ہے۔‘‘ ’’ہاں خان۔ ‘‘جیسے میں نیند سے جاگا۔ کوئی دردناک خواب دیکھتے دیکھتے چونکا۔ ’’اب کب آؤ گے خان ؟میں نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام کر اپنے سینے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6111 سے 6203