قومی زبان

جانی میاں

یہ کہانی تین آدمی سنا رہے ہیں۔ ایک تو میں ہوں راوی، الگ تھلگ رہ کے قصّہ سنانے والا۔ میں کہانی میں چلتا پھرتا نظر نہیں آؤں گا۔ دوسرا زَوّار ہے۔ یہ سلطان بھائی کی گول پیٹھے والی دکان، گوالیار سائیکل مارٹ پر نوکر ہے۔ اُن کا اسسٹنٹ سمجھ لو۔ تیسرا جانی میاں کا چمچا وحید ہے۔ یہ ان کا ...

مزید پڑھیے

گھڑی بھر کی رفاقت

مسافرت میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب گھوڑا اپنے سوار کی راسیں سنبھال لیتا ہے۔ (ایک طبع زاد کہاوت) مسلسل دودن اور دو راتیں گھوڑے کی پیٹھ پر گزاری تھیں۔ انتہا درجے کی تھکن اور تشویش میں سنبھل کا حاکم عیسی خان ککبور سروانی بنگالے پہنچا تھا کہ سلطان ہند حضرت شیر شاہ سوری بنگالے ...

مزید پڑھیے

وارث

قصبائی پولیس لائنز تھی، جس کے سامنے میدان میں جیسے چھوٹا موٹا بازار لگ گیا تھا۔ سارہ بانوں نے اپنے جانوروں پر بندھے کجاوے، کاٹھیاں، رسے کھولنا اور انھیں چارے پانی کے لیے آزاد کرنا شروع کر دیا تھا۔ ہم دو انسان، مویشیوں کے اس دائرے کے بیچ زنجیریں پہنے رسیوں سے بندھے پڑے تھے۔ ان ...

مزید پڑھیے

ایک بلیک کومیڈی

میں کہانیاں لکھتا ہوں اور اس بات پہ خوش ہوتا ہوں کہ بہت سےلوگ میری کہانیاں پڑھتے، پسند کرتے ہیں۔ کہانیاں لکھنے کا مجھے کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ ملنا چاہیے، مگر نہیں ملتا۔ وجہ سب کو معلوم ہے۔ اس لیے میں ٹی وی سیریئل لکھ کے اپنی روزی کماتا ہوں۔ میں یہ سیریئل خوش ہو کے لکھتا ہوں کیوں ...

مزید پڑھیے

مردہ گھر میں مکاشفہ

وہ میلی سی ٹوپی اوڑھے تھا۔ بار بار کے دھوئے ہوئے ملگجے کپڑوں سے اس کی مالی ابتری کا اندازہ ہوتا تھا۔ آنکھوں سے لگتا تھا کہ روز سرمہ لگاتا ہے۔ مجموعی طور پر وہ نیک دکھائی دیتا تھا۔ میں نے اسے این۔ او۔ سی دکھایا تو تپاک میں وہ دہرا ہو گیا، کہنے لگا، ’’اس کی کیا ضرورت تھی جناب! ویسے ...

مزید پڑھیے

سرکس کی سادہ سی کہانی

جیپ چل رہی تھی۔ وہ ابھی کہیں پہنچے نہیں تھے۔ تین چار گھنٹے سے جیپ چل رہی تھی۔ جیپ والا کسی سرکس کا رنگ ماسٹر تھا جس نے ان دونوں کو پیدل جاتا دیکھ کر بٹھا لیا تھا، ’’ارے پیدل کیوں جا رہے ہو؟ آؤ جی بھائی صاحبو بیٹھو! بیٹھ جاؤ!‘‘بھائی صاحبو اس نے عادتاً کہا ہوگا کیوں کہ جنہیں اس نے ...

مزید پڑھیے

کھڑکی

میں نے پہلی بار اسے اپنے محلے کے ایک کلینک میں دیکھا تھا مجھے ڈاکٹر سے کسی قسم کا سرٹیفیکیٹ لینا تھا اور وہ انجکشن لگوانے آئی تھی۔ آئی کیا بلکہ لائی گئی تھی۔ ایک نوجوان جو شاید چچا یا ماموں ہوگا اسے گود میں اُٹھائے سمجھا رہا تھا کہ سوئی لگوانے میں زیادہ تکلیف تو نہیں ہوتی البتہ ...

مزید پڑھیے

ارتقا

تاحدِ نگاہ آگ کے شعلے ہی شعلے تھے جو مکینوں کے جسموں کو جلائے جاتے ۔مقرر کردہ نگرانوں کے ہاتھوں فولادی زنجیر اسی آگ میں دہکائے جاتے اوران کے جسموں کو داغا جاتا تو لمحہ بھر کے لیے وہ اپنے ارد گرد کی دنیا سے بے سدھ ہو کر پڑے رہتے۔ پانی پانی پکارتے پکارتے نیم جاں ہو جاتے ۔ پینے کو ...

مزید پڑھیے

ہجرت

سورج نے افق کی ہتھیلیوں کی اوٹ سے جھانکتے ہوئے ایک نگاہ درختوں کی شاخوں اور پتوں پہ ڈالی ،دانہ دنکا چگنے میں محو پرندوں کے کانوں میں سرگوشی کی،سورج مکھی کے پھولوں کی پھولی ہوئی اداس گالوں پہ آخری بوسہ دیا اور شام کے آنگن میں جا اُترا۔شام ایسی شرمائی کہ اس کے چہرے کی سرخی افق کی ...

مزید پڑھیے

بغاوت

ارض و سما کی حدود و قیود سے کروڑوں میل کے فاصلے پر واقع ایک سیارے کی مخلوق اپنے معمولات چھوڑ کر ٹمٹماتی ہوئی چھوٹی سی ایک مشین کے گرد جمع تھی جو گزشتہ شب انجانی راہوں کی مسافتیں طے کرتی کسی تکنیکی خرابی کے باعث ان کے سیارے پر آن گری تھی۔وہ بیک وقت خوشگوار حیرت اور نادیدہ خوف کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6109 سے 6203