قومی زبان

کارٹون

محمد شجا ع دبے پا ؤں کمر ے میں داخل ہوا ۔ کمر ے میں ہمیشہ کی طر ح ا ند ھیرا تھا۔ ایک لمحے کیلئے اسے خیال آیا کہ بتی جلائے مگر پھر اس خیال سے کہ با با کو رو شنی سے و حشت سی ہو تی ہے اس نے اپنا ارادہ تر ک کر د یا ۔ با با ہمیشہ کی طر ح چار پا ئی پر بیٹھا سر جھکا ئے ز مین کو تک ر ہا تھا ۔ کند ...

مزید پڑھیے

چاند پر موت

’’۔۔۔بس تھوڑی ہی دیر کے لیے زمین کا دل کانپا تھا اور پھر اس کا سینہ چھلنی ہوتا چلا گیا۔فضاء بے بسی سے زمین کو کٹتے دیکھنے لگی ۔ آگ اور د ھویں کا ایک طوفان تھا جو اس کے چٹان جیسے سینے سے نکل کر ارد گرد کی فضاء کا دم گھونٹ رہا تھا۔آگ کی لپٹیں زمین کو تہہ د ر تہہ جلا رہی تھیں۔ اس کی ...

مزید پڑھیے

پہلا پیار

کہتے ہیں جس دن پہلی بار رحیم داد کو ماسٹر شریف نے چمکار کر گود میں بٹھایا تھا اسی دن رحیم داد سات سے سترہ سال کا ہوگیا تھا ، اسی رات اس کے خواب میں ایک ساتھ بہت سے اژدھے اسے ڈسنے چلے آئے تھے ۔ہر اژدھا لمحے بھر میں ماسٹر شریف کی شکل جیسابن جاتا تھا ۔۔ ۔ وہی بجھتے دیوں جیسی آنکھوں پر ...

مزید پڑھیے

کام چور

مئی کے دن تھے۔ صبح تین بجے کا عمل تھا۔ گھر کے سب لوگ صحن میں سورہے تھے۔ رات بھر مارے حبس کے آنکھ نہیں لگی تھی۔ اس وقت کہیں سے بھولی بھٹکی ہوا کے ہلکے ہلکے جھونکے آنے لگے تھے۔ اس ہوا میں اگر خنکی نہ تھی توکم از کم حدت بھی نہ تھی۔ لوگ جو کروٹیں لیتے لیتے تھک گئے تھے، اب پاؤں پسار کے ...

مزید پڑھیے

روزہ خور کی سزا

لوگ کہتے ہیں کہ ہر بڑی چیز کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ اصلیت کو ظاہر کردیتی ہے۔ دولت کے لیےشاعر کہتا ہے، بادہ نوشیدن و ہشیار نشستن سہل است گر بہ دولت برسی مست نہ گردی مردی شراب کے لیے یہی کہا جاسکتا ہے کہ آدمی کی شرافت اور کمینہ پن کو آئینہ کردیتی ہے۔ حج اور دوسری بڑی عبادتوں کے لیے ...

مزید پڑھیے

دور کا نشانہ

لالہ بنسی دھر تھے تو ذات کے بنئے، اور وہ بھی کشور دھن جو بنیوں میں اونچی ذات نہیں سمجھی جاتی ہے۔ مگر اپنے اندازِ شرافت سے ہیموں بقال، ٹوڈرمل مجار گو، سب کی یاد تازہ کردیتے تھے۔ گھر کے اندر بیٹھ کر جو پوجاپاٹ کرلیتے ہوں مگر باہر آزاد خیال، آزادہ رو مشہور تھے۔ آج کل کی آزادہ روی ...

مزید پڑھیے

میٹھا معشوق

اللہ بخشے مرزا صاحب کا دماغ بذلہ سنجیوں کا ذخیرہ تھا، زبان چٹکلوں کی پوٹ تھی۔ پھر عمر بھی اتنی پائی کہ دوسرے کے پاس اتنا سامان ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ اس کے علاوہ انداز بیان کچھ ایسا تھا کہ سیدھی سیدھی بات روزمرہ کے واقعات جب کہنے لگتے تھے تو داستان گو کی داستانیں مات تھیں۔ نہ ...

مزید پڑھیے

یہ نصف صدی کا قصہ ہے

ابھی تھوڑی دیر پہلے ماجد کا امریکہ سے فون آیا تھا۔ اصرار کررہا تھا کہ اس بار میں سالانہ چھٹیوں میں حیدر آباد نہ جاؤ ں، اس کے پاس امریکہ چلی آؤں،اس نے نیا گھر خریدا ہے، وہ بھی دیکھ لوں گی۔ ماجد کی دادی زبیدہ کے انتقال کو اب پانچ برس ہوگئے اور میری آزمائش کا زمانہ بھی شکر ہے تما م ...

مزید پڑھیے

چمکیلی تصویریں

اف !یہ گلیاں اپنی پر پیچ کیوں ہیں ۔نالیوں میں اتنی سڑن کیوں ہے ۔ گلی میں آتے جاتے لوگوں کے چہرے دھواں دھواں کیوں ہیں ۔یہ جس رکشہ پر بیٹھی ہوں اتنا بوسیدہ اور خستہ حال کیوں ہے ۔۔۔ عفت خود ہی خود الجھی جارہی تھی ۔ رکشہ گھر کے دروازے پر رکا ، آنگن کے دوازے کا پردہ خاصا بدرنگ ہو چکا ...

مزید پڑھیے

د و گز زمین

نیم غنودگی کی حالت میں ان کے کانوں میں اماں کے مناقب پڑھنے کی آوازآرہی تھی ۔ ساماں شتاب کردے مرے دل کے چین کا پرور دگار واسطہ پیا رے حسین کا فجر کی نماز کے بعد آنگن کے کونے میں بنے لال پتھر کے چبوترے پر بیٹھی اماں روز ُ پر سوز آواز میں مناقب پڑھتی ہیں۔۔۔ تنویر زہرا گھبرا کر اٹھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6098 سے 6203