قومی زبان

ستیہ کے بکھرے ہوئے بال

رات کے سناٹے میں کاکروچ کی آوازیں سیٹیوں کی طرح بجنے لگیں۔ چارپائی کی رسیاں ستیہ کے پہلو بدلنے پر کسمسائیں اور پھر سے ایک گہری نیند میں کھو گئیں۔ ستیہ نے ایک اچٹتی ہوئی نظر اپنے بکھرے ہوئے بالوں پر ڈالی اور پلک جھپکتے میں صدیوں کا سفر طے ہونے لگا۔ اجنبی سائے چاروں جانب سے لپکنے ...

مزید پڑھیے

یہ کیسی بے وفائی ہے

’ا للہ مارے تمھارے ابا پرائی عورتوں کے بہت شوقین تھے ،جہاں کو ئی لال پیلی چھپن چُھری دیکھی ، چل پڑے پیچھے پیچھے، پھر نہ گھر کا پتہ نہ باہر کا، میں کہے دے رہی ہوں ذ را نظر دبا کر رکھیو ، یہ مرد ذا ت بڑی بے وفا ہوئے ہے ، شادی کے کچھ سال تو ہر کو ئی دُم دبا کہ چلے ہے پر جہاں دو چار لو ...

مزید پڑھیے

خوشبو کا سفر

پھرکچھ ہی دیر میں وہ لمحہ آگیا جب وقت فنا ہوکر محض ایک کسیلی یاد کی شکل میں تاریخ کے صفحوں میں محفوظ ہونے والا تھا، بس ایک مسلے ہوئے پھول کی خوشبو تھی جو زمین و آسمان کے درمیان پھنسے ہوئے اس بھاری بھرکم لمحے سے جان چھڑا کر بادلوں کے اوٹ آچھپی تھی اور اب ایک انجان سی خواہش لیے آخری ...

مزید پڑھیے

فرشتے کے آنسو

چھت کے کونے پہ مکڑی کے جال میں پھنسی ہوئی ایک مکھی اپنی زندگی کی آخری لڑائی لڑرہی تھی اور فرش پربیٹھا ہوا ایک فرشتہ جس کا کل وجود محض ایک قلم اور دوات تھا ،اسے تک رہا تھا۔میز کے کونے پہ پڑی دوا ت اور اس میں ڈوبا ہوا قلم۔۔۔ کمرے کے کسی مکیں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک ...

مزید پڑھیے

کوڑے، جو درد سے چیختے تھے

ہوا تھوڑی سی سر سر ائی اور پھر یک لخت اَن گنت ریزوں میں بٹتی چلی گئی ۔ بکھرے ہوئے ریزے لمحے بھر کے لیے انگاروں کی طرح د ہکنے لگے مگر پھر جلد ہی خود اپنے آپ میں جل کربھسم ہو نے لگے اور باقی بچنے لگا کچھ ملگجا سا دھواں،جو تماشہ دیکھنے والوں کی آنکھوں کو دھےمے دھیمے جلانے لگا مگر ...

مزید پڑھیے

شکوہ

کچھ نہیں ،بس یو نہی خیال آیا تھا اور برش کینوس پر چلتا چلا گیا ۔ رنگ پر رنگ چڑ ھنے لگا اور خالی خولی لکیریں زندگی کا مزا چکھنے لگی۔ کچھ ہی دیر میں بے جان کینوس جیسے زندگی کا روپ پا نے لگا۔ ایک لکیر جو ترچھی پڑی تو اجاڑ شاخوں پر پھول کھل گئے ، ایک لکیر جو آڑی پڑ ی تو انجان راستوں پر ...

مزید پڑھیے

رام محمد دہریہ

کچھ دیر تک تو سجدہ ریز رہ کردین محمد اپنے رب کو یونہی یاد کرتا رہا مگر پھر دو زانوں ہوکر جائے نماز پر بیٹھ گیا اور ایک گہرے کرب کے سا تھ اپنی بند آنکھوں میں اس کے کھوئے ہوئے عکس کو پھر سے ڈھونڈنے لگا مگر جب اسے کچھ بھی نظر نہیں آیا تو بے چین ہو کر آنکھیں کھول دی۔ ایک لمحے میں اسے ...

مزید پڑھیے

نہیں

ٹھیک ہی تو ہے جب محبت احترام بن جائے تو پھر پیار کے لیے پیشانی ہونٹ۔۔۔ آپا نے سوچا اور پھر یہ تبدیلی بھی ایک دن کی تو نہ تھی پورے چودہ سال۔۔۔ اب تو آپا خود بھی اپنا اصلی نام بھولتی جا رہی تھی۔۔۔ وقت کو تو جیسے پر لگے تھے، تیرہ سال کی تھیں آپا، جب ہی اماں نے جھبلا سی دیا تھا کہ لڑکی ...

مزید پڑھیے

خدا کا بُت

اور جب آگ کے شعلے ہو ا میں ا ٹھنے لگے اور سیاہ دھوئیں کے مر غولے آزر کے جلتے ہوئے بدن کے گرد ناچنے لگے تو نہ جانے کیوں آسمان بلک بلک کر رونے لگا اورپھر وہ منہہ برسا کہ جلتے ہوئے آزر کی لاش پانی سے بھیگ گئی ۔ آگ تو بُجھ گئی مگرپھر دُ ھواں ا ٹھنے لگا۔۔۔دُ ھواں تو ا ٹھنا ہی تھا ۔ ۔ دُ ...

مزید پڑھیے

ملاپ

علی کی پلکوں پر ٹھیرا ہوا آنسو کچھ دیر تک تو لرزتا اور کانپتا رہا مگر پھر جونہی فاطمہ کی نمکین مسکراہٹ اس سے بہہ کر علی کے دل میں جذب ہو ئی تو پھر وہ اپنا وجود اس کی پلکوں پر مزید نہ سمیٹ سکا اور بے بس و مجبور ہوکر اس کے سامنے پڑی ہوئی مرمت طلب گھڑی پر بکھرتا چلا گیا اور پل بھر میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6097 سے 6203