قومی زبان

کنگ پوش

اور سب پھول بہار میں کھلتے ہیں۔ مگر کیسر خزاں میں کھلتا ہے۔ وہ مٹیالی ابابیل، جو ابھی ابھی اُس ٹیلے سے پنکھ پھیلاکر اُڑگئی، شاید کیسر کے پھولوں کو جی بھر کر دیکھنے کے لیے ادھر آبیٹھی تھی۔ کیا یہ دھرتی کبھی اتنی بانجھ ہوجائے گی کہ کیسر اُگنا بند ہوجائے؟ کتنی چہل پہل ہے یہاں۔ یہ ...

مزید پڑھیے

پیرس کا آدمی

’’وہ مردہ سمندر کو ریگستان میں دفن کرکے چلے گئے۔۔۔ وہ پیرس میں پیدا ہوا اور اب دنیا کا سفر کر رہا ہے۔۔۔‘‘ یہ عبارت آندرے مائیکل کی قبر پر لکھی ہوئی ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’یہ میں نہیں ہوں، آندرے ہے۔‘‘ ’’آندرے کون؟‘‘ میں پوچھتا ہوں۔ وہ دیوار کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں بینک ...

مزید پڑھیے

راجدھانی کو پرنام

ناگ پھنی کے پودوں کے قریب ایک بوسیدہ مکان کے سامنے شنکر بابا اپنی نیم اندھی آنکھوں سے سڑک کی طرف دیکھ رہا تھا۔ یا یہ کہیے کہ دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ آج شہر کی طرف سے بہت سی لاریاں پہیوں کی دندناتی ہوئی آواز کو ہوا میں اُچھالتے ہوئے گزررہی تھیں۔ اتنی لاریوں کا کیا مطلب ہے؟ ...

مزید پڑھیے

مردہ گھر

مردہ گھر میں میری لاش پڑی ہے۔ مال گاڑی سے اتاری گئی بند بوریوں سی پھولی، لیبل لگی تین چار لاشیں اور بھی مردہ گھر میں پڑی ہیں۔ جب میری لاش مردہ گھر میں لائی گئی تو سورج دھیرے دھیرے دور مٹیالی پہاڑیوں کی اوٹ میں پھسل رہا تھا اور پہاڑی پر ٹکے بادلوں میں آگ کے گولے کی لال کرنیں ...

مزید پڑھیے

ریت اور سمندر

اس روز اچانک میری ملاقات پریش سے ہو گئی۔ پورے پانچ برسوں بعد وہ مجھے مرینا بیچ پر مل گیا۔ وہ سمندر کمے کنارے کھڑا دور سے آئے ہوئے کسی جہاز کودیکھ رہا تھا۔ پریش کودیکھ کر نہ جانے کیوں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ برسوں بعد میں اپنے سے ملاقات کررہاہوں۔ ورنہ ہر روز دوسرے لوگوں کے قصے ، ...

مزید پڑھیے

نیا پُل

تنگ گلیوں اور غلیظ کمروں میں گھٹن بڑھنے لگی اور حبس سے دم گھٹنے لگا تو لوگوں نے کپڑے اتارنا شروع کر دئیے۔ پہلے اوورکوٹ اترا، پھر کوٹ، سوئیٹر اور جرسی کی باری آئی اور آہستہ آہستہ جانگئیے نے پتلون کی جگہ لے لی۔ تب سارے شہرمیں میں اکیلا رہ گیا۔ شہر والے کپڑے اتاررہے تھے اورمیں ...

مزید پڑھیے

چالیسواں دن

آج مجھے اس گھر میں آتے ہوئے چالیسواں دن تھا۔ اس سے پہلے میں اس گھر میں سوئم، قل اور جمعراتوں میں بھی مدعو تھا ۔ آج کا دن بھی بڑی اہتمام سے منانے کی تیاری ہورہی تھی ۔ دور اور نزدیک کے تمام عزیز و اقارب آہستہ، آہستہ جمع ہورہے تھے ۔ گھر میں مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے بڑا اہتمام کیا ...

مزید پڑھیے

احساسِ محرومی

آج پھر شبنم سے دُھلی ہوئی صبح، سورج کا منہ تک رہی ہے۔ باہر باغیچے کی لمبی لمبی کیاریوں میں نوزائیدہ کلیاں زندگی کا پہلا سانس لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ گلابوں کی خشک ٹہنیاں بھی سرخ کنگن سے سج رہی ہیں۔ مارچ کا دبیز آنچل سب پر یکساں طاری ہوتا جا رہا ہے۔ بہاروں کے جھونکے کھڑکی کے ...

مزید پڑھیے

دوسری موت

آج خلافِ معمول ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی جوزف نے اپنے کمرے کا جائزہ لیا، ڈرائنگ روم کا چوبی دروازہ جس پر ہلکے آسمانی رنگ کا پینٹ چڑھا ہوتا تھا اس پر صلیب کے نشان کو کسی نے بے طرح کھرچ دیا تھا،عقبی کھڑکی کے دونوں شیشوں پر ہلکی ہلکی خراشیں آ گئی تھیں،بستر پر سلوٹیں پڑی تھیں او ر ...

مزید پڑھیے

گلاب اور صلیب

آج بھی نکڑسے لاؤڈ اسپیکرکی کریہہ آواز بد دستور آ رہی تھی اور وہ آواز کے اس جادو سے کچھ ایسا بے خبر بھی نہیں تھا، وہ جانتا تھا کہ آواز کے تصادم سے کبھی کلیاں کھِل اٹھتی ہیں او ر کبھی آگ کے شعلے۔ ’’ یہ سب بکواس ہے۔‘‘ وہ جیسے منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔ اُس نے اپنے نوکر کو آواز دی ’’ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6086 سے 6203