قومی زبان

پریوں کی باتیں

میں اپنے دوست کے پاس بیٹھا تھا۔ اس وقت میرے دماغ میں سقراط کا ایک خیال چکّر لگا رہا تھا۔۔۔ قدرت نے ہمیں دو کان دیے ہیں اور دو آنکھیں مگر زبان صرف ایک تاکہ ہم بہت زیادہ سنیں اور دیکھیں اور بولیں کم، بہت کم! میں نے کہا، ’’آج کوئی افسانہ سناؤ، دوست!‘‘ وہ بولا، تو آو، آج میں تمھیں ...

مزید پڑھیے

نئے دھان سے پہلے

یہ کنگلوں کی قطار تھی۔ ہو بہ ہو کمان کی طرح۔ ایک ساتھ کہیں سات آدمی کھڑے تھے تو کہیں دس، عورتیں اور بچے اور مرد، جوان اور بوڑھے۔۔۔ سبھی ایک ترازو میں تل رہے تھے۔ سبھی بھوکے تھے۔ ننھے بچے سوکھی چھاتیوں کو چچور رہے تھے۔ بڑی عمر کے بچے قطار سے نکل کر لنگر کے دروازے پر پہنچنے کے لیے ...

مزید پڑھیے

قبروں کے بیچوں بیچ

دس لاکھ بھوک موتیں، پندرہ لاکھ، انیس لاکھ اور اس ہفتے کل جمع چوبیس لاکھ۔ اور ابھی تک اس بھیانک دُربھکشا کا زور بڑھ رہا تھا۔۔۔ گیتا کے دماغ میں اس وقت ایک لوری کے سُوَر گھوم رہے تھے، چھیلے گھومالو پاڑا جڑا لو، ورگی ایلو دیشے، بلبلے تے دھان کھے چھے خزانہ دیب کشو؟ یعنی بچہ سو گیا، ...

مزید پڑھیے

جلوس

لوک ماتا کو شکایت ہے کہ انتر کے ساتھ رہتے اس کی زندگی برباد ہوگئی۔ انتر جب بھی اُسے ’’جوہی کی کلی‘‘ کہہ کر پکارتا ہے، لوک ماتا کا سندیہہ بڑھ جاتا ہے۔ ’’جنتر منتر کا کال کلنتر۔۔۔‘‘ بچّے گاتے ہیں۔ جلوس بارہ دری سے چلا اور شام کو چوبُرجی میں بکھر گیا۔ راستے بھر سجے ہوئے ...

مزید پڑھیے

جنم بھومی

گاڑی ہربنس پورہ کے اسٹیشن پر کھڑی تھی۔ اسے یہاں رکے ہوئے پچاس گھنٹے سے اوپر ہوچکے تھے۔ پانی کا بھاؤ پانچ روپے گلاس سے یکدم پچاس روپے گلاس تک چڑھ گیا تھا۔ پچاس روپے گلاس کے حساب سے پانی خریدتے ہوئے لوگوں کو نہایت لجاجت سے بات کرنی پڑتی تھی۔ وہ ڈرتے تھے کہ کہیں بھاؤ اور نہ چڑھ ...

مزید پڑھیے

فاختہ کی چونچ میں دانہ

یوں مجھے کالی ناتھ سے پوری ہمدردی ہے۔ اس کی سُوجھ بُوجھ کا میں قائل ہوں۔ اس کی ذہانت کا سکّہ ماننے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ باہر والوں میں جو افسانہ نگار کالی ناتھ کو پسند ہیں وہ مجھے بھی کچھ کم پسند نہیں۔ اسی لیے تو مجھے کبھی اس کی بات کاٹنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ شروع ...

مزید پڑھیے

اور بنسری بجتی رہی

برگد سے کتنی ہی ڈاڑھیاں لٹک رہی تھیں۔۔۔ بل کھاتے بھیانک سانپوں کی طرح۔ گھنے، سایہ دار درخت نے اس سنسان جگہ کو سڑک سے چھپا رکھا تھا کہیں کہیں گھاس اُگ رہی تھی۔ جیسے جوانی سے ذرا پہلے کسی نوجوان کی مسیں بھیگ رہی ہوں۔ ایک طرف ہموار ڈھلوان چلی گئی تھی اور دوسری طرف ایک ٹیکرا تھا۔ جو ...

مزید پڑھیے

تلافی

وہ ایک لمحہ کے لیے رُکا اور ایک مٹھی چاول ہوا میں اُچھالتے ہوئے لاپرواہی سے آگے بڑھ گیا۔ غار سے چلتے وقت اس نے اکیس مٹھی چاول ہوا میں اچھالنے کی رسم پوری کردی تھی۔ اور اکیس بار چاول کی شراب کی بوندیں دھرتی پر گرا دی تھیں۔ اب ان مردود سپاہیوں کی روحیں اس کا پیچھا نہ کرسکتی ...

مزید پڑھیے

گٹاری کے انڈے

مُنھ میں کوئی کیڑا یا کوئی ننھّا مکوڑا یا ٹڈّا تھامے گٹاری اپنے گھونسلے میں گھس جاتی۔ گھونسلے کا دروازہ ایک گول سوراخ ہی تو تھا۔ اُوپر کی منزل میں کونے والے غسل خانے کی چھت پر جہاں ٹین کی چادر کا سِرا کاریگر نے باہر کو بڑھا رکھا تھا۔ بس وہیں اس ٹین کے نیچے دیوار کے آخری سرے میں ...

مزید پڑھیے

کفن میں ایک سو ایک سال

(ایک) ناگ دیو مر گیا۔۔۔ اب وہ لوٹ کر نہیں آئے گا۔ کل رات میں نے اس کی ارتھی دیکھی۔ سفید کفن میں رسیوں سے کس کر بندھا ہوا اس کا جسم ارتھی اٹھانے والوں کے کندھوں پر تیرتا ہوا نکل رہا تھا۔ میں ارتھی کے ساتھ نہ جا سکا۔ دماغ نے میرے جسم سے الگ ہو کر کہا۔ ’’جاؤ، ناگ دیوتا کو چِتا پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6085 سے 6203