قومی زبان

بیدل صاحب

میرے مکان کے برابر بیدل صاحب کا مکان تھا، بڑا خوبصورت کشادہ سا مکان جس کی چھتیں طوفانی بارش میں بھی ٹپکتی نہ تھیں۔ باہر دروازے کی چوڑی پیشانی پر ایک سیاہ تختی جھومر ی طرح لٹک رہی تھی جس پر جلی حروف میں ’’بیدل‘‘ لکھا تھا۔ شام ہوتے ہی وہ ہاتھ میں پانوں سے بھرا ہوا بٹوہ لیے باہر ...

مزید پڑھیے

ریت کے محل

وہ عجیب آدمی تھا۔ اُس کے جسم کے سارے کل پرزے مضحکہ خیز حد تک بگڑے ہوئے تھے، موٹی موٹی ابھری ابھری سی آنکھیں باہر یوں نکل آئی تھیں جیسے کسی نے اُس کا گلا دبا کر چھوڑ دیا ہو۔ کدّو کی طرح لمبوترا سر، دبی دبی سی پیشانی، چپٹی سی ناک، ہونٹ بھی عجیب طرح کے، نچلا ہونٹ جتنا باریک اور ...

مزید پڑھیے

سائے کا سفر

سہ پہر کی ساعتیں تیزی سے شام کے دھندلکے میں تبدیل ہو رہی تھیں او ر فضا میں ایک سوگوار سی اداسی رچی بسی تھی۔ پوسٹ مین ابھی تک نہیں آیا تھا۔ وہ بڑی بے چینی سے برآمدے میں ٹہل رہا تھا۔ گذشتہ ایک ہفتے سے وہ خط کے انتظار میں اپنی سدھ بدھ کھو چکا تھا، آج اسے احساس ہو رہا تھا کہ اگر خط نہ ...

مزید پڑھیے

گنبدِ بے در

پروفیسر اکرام نے خودکشی کر لی! یہ ایک ہولناک خبر کسی بہت بڑے دھماکے کی طرح اس کے کانوں سے ٹکرائی، وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ڈرائینگ روم کی کھڑکی کے قریب آ کر ٹھہر گئی۔ وہ گزرتے جاڑوں کی ایک طویل خوبصورت رات تھی، سرما کی برفیلی ہوائیں سائیں سائیں کر رہی تھیں، سامنے سرو کے لانبے ...

مزید پڑھیے

پہلی تنخواہ

عبدالصمد خیراتی ہاسپٹل میں کمپونڈر تھا۔ چھے سال پہلے وہ یہاں وارڈ بوائے کی حیثیت سے داخل ہوا تھا اور چھ سال کی مسلسل محنت کے بعد آج اُس نے ترقی کی یہ جست لگائی تھی، اس کا تعلیمی پس منظر میٹرک کلاس ہی میں الجھ کر رہ گیا، وہ آگے نہ پڑھ سکا۔ وہ آگے اپنی تعلیم کیوں جاری نہ رکھ سکا ؟ اس ...

مزید پڑھیے

نیکی کا بھوت

حرامی سے میری پہلی ملاقات گوپال چند بلڈنگ کے کمرہ نمبر ۶میں ہوئی جہاں وہ رتی لال سیٹھ کی طرف سے سٹّہ کی بٹنگ لیا کرتا تھا۔ پہلے پہل میری آمد پر رتی لال سیٹھ نے مسرت سے اپنے بد نما ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا ’’ اشفاق نواب ! مجھے خوشی ہے کہ آپ نے آج پہلی بار میری ’’ بکٹ ...

مزید پڑھیے

پرائے سائے

’’روشنی سے دشمنی ہے پر یہ دشمنی بے سبب نہیں’’ اس نے یہ کہا اور اٹھ کے چلی گئی۔ وہ چلی گئی پر میں اندھیرا ہونے تک پارک کے اسی بنچ پر تنہا بیٹھا رہا۔ میرے لئے یہ بات عجیب ضرور تھی، مگر بے معنی تھی۔ میری نہ تو روشنی سے دوستی تھی نہ دشمنی پھر بھی کئی گھنٹے یہی سوچتا رہا کہ روشنی سے، ...

مزید پڑھیے

ساکت وقت

دروغ نگر کی مشرقی فصیل کے باہر بیٹھا بوڑھا خاروت اب بھی جاگ رہا تھا۔ یہ دور پچھلے ادوار سے زیادہ تاریک تھا اوراب اپنے اختتام کا منتظر کا تھا۔ یہ وہی بوڑھا خاروت تھا جسے نابیناؤں کی بستی میں بسارت عطا ہوئی۔ ہر تاریک دور کے اختتام پر یہ بوڑھا نقارہ بجاتا اور اعلان کرتا ’’شفق ...

مزید پڑھیے

مچھیرا

میں جب ماں کے پیٹ میں تھا، پانی میں تھا۔ میرا بچپن اپنے باپ کیساتھ پانی پر گذرا۔ اور آج، میں اپنی آسودگی بھی پانی ہی میں تلاش کررہا ہوں۔۔۔۔ میں اپنا بچپن ماں کی ہڈیوں سے کشید کرتا رہا، یہاں تک کہ اُس کے جسم میں موجود ساری ہڈیاں بھربھری ہوگئیں اور پھر ایک دن ایسا بھی آیا کہ جب ...

مزید پڑھیے

نوحہ گر

ایک بوسیدہ مکان میں ہم چار ’’جاندار ‘‘ اکھٹے رہا کرتے تھے۔ اَبّا، اَمّاں، میں اور ایک سفید بکری۔ میں چارپائی سے بندھاہر روز۔۔۔ بکری کو مِمیاتے، ماں کو بڑبڑاتے اور اَبّا کے ماتھے پر موجود لکیروں کو سکڑتے پھیلتے دیکھا کرتا۔ میری ماں زیرلب کیا بڑبڑایا کرتی تھی۔۔۔؟ کبھی سن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6087 سے 6203