قومی زبان

مزارِ بے مردہ

بشیر بھائی بہت زندہ دل آدمی تھے۔ ہمیشہ رکوع میں دکھائی دیتے تھے۔ کمر نے جواب دے دیا تھا۔ وہ زیادہ تر اپنے گھر کے دروازے کے قریب بنے ہوئے چبوترے پر بیٹھے آنے جانے والوں سے سلام و دعا بھی کر لیتے تھے اور بے تکلف ہم سِن دوستوں سے گالیوں کا تبادلہ بھی کر لیا کرتے تھے۔ ان کے گھر کے ...

مزید پڑھیے

بھیک

’’ہلو۔بھیکو۔میں یہاں غوثیہ مسجد کے پا س سے بول رہی ہوں۔تو کہاں ہے ؟‘‘ ’’ہاں۔منگی۔میں یہاں وہابیوں کی مسجدِ حمد قلعہ کے پاس ہوں۔یہ لوگ سورج ڈوبتے ہی فوراً روزہ کھول دیتے ہیں۔افطار میں بہت جلدی کرتے ہیں۔ان کے ہاں سائرن نہیں بجتا۔افطار کے وقت اذاں ہوتی ہے۔ان کی تو نماز بھی ...

مزید پڑھیے

حیرت !حیرت!

ذکر چوریوں کا تھا۔ کراچی میں قانون کے تحفظ کے ادارے بھی چوکس ہیں۔ پولیس چوکیاں بھی چوک چوک موجود ہیں۔ چوکیدار بھی گھر گھر تعینات ہیں، پھر بھی چوری چکاری، ڈاکے کھلے عام ہو رہے ہیں۔ حیرت!!۔۔۔۔۔ مگر لوگ کہتے ہیں کہ اپنے ملک کی کسی بات پرحیران ہونا ہی نہیں چاہیے کہ یہ ملک توسراسر ...

مزید پڑھیے

موذی جرثومہ

اس شخص کی مجھ سے یا میرے خاندان سے نہ کوئی رشتہ داری تھی نہ قرابتداری ہاں فقط نانہالی محلّہ داری ضرور تھی۔ پیرپورہمارےشہر کااچھاخاصا بڑا قصبہ ہے۔ ہم لوگ گرمیوں میں یہیں اپنےنانہال آئے ہوئے تھے۔ امّی محلّہ کی خالہ مہرن کے یہاں ان کی ساس کی تعزیت کے سلسلہ میں جارہی تھیں میں بھی ...

مزید پڑھیے

سلگتی راکھ

„شنکر۔شنکر۔شنکر۔ اف! بھگوان یہ مجھے کیا ہو گیا ہے؟“ شانتی کو اپنے آپ پر غصّہ آرہا تھا۔ مگر اس کی یہ سوچ ندی کی چنچل دھارا کی طرح رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔ „ میں اس کے خیال کو دل سےنکال پھینکنا چاہتی ہوں لیکن شاید اس کا یہ خیال بھی اسی کی طرح شوخ ہےکہ بس اک دم میرے دماغ میں ...

مزید پڑھیے

ماضی کے جھروکے سے

سنہ۱۹۴۔ کی دہائ کا زمانہ تھا۔ مدن پورشہر سے دور افتادہ مختصر آبادی پر مشتمل ایک گاؤں تھا ۔ ابھی نمازی یہاں کی اکلوتی مسجد سے نماز فجر پڑھ کےنکل ہی رہے تھےکہ تیز تیز ڈرم بجنے کی آوازاور اس کے بعد ایک منادی نے سبھوں کوچونکادیا۔ اس گاؤں کا دستور تھا کہ جب زمینداروں کےیہاں کسی اہم ...

مزید پڑھیے

سپنوں کا محل

ہفتہ بھر کی تھکن کے بعد میں دلھن کے ڈولےکے ساتھ جوں ہی گھرکے دروازےپر پہنچا تو میرے کچھ بے تکلف دوستوں کی ایک ٹولی نےمجھےگھیر لیا۔دروازہ پر کچھ رسمیں ہوئیں اور دلھن اندر پہنچادی گئی ۔ اندر جانے کے لئے میں نے بھی کئی بار ان کے چنگل سے نکلنے کی کوشش کی لیکن وہ سب تو جونک کی طرح ...

مزید پڑھیے

ستارے، چاندنی، مے، پھول، خوشبو

ہال کمرے کے سوئچ کا کنٹرول نوجوانوں کے گروپ نے سنبھال لیا تھا۔ لہٰذا پیلی نیلی سرخ ہر قسم کی روشنیاں ناچتے ہوئے جوڑوں کے براؤن بالوں اور مایوس چہروں کو دمکانے لگیں ۔وہ اپنے چوڑے کندھوں پر جھکی ناچتی اس شوخ لڑکی کے ساتھ راؤنڈ مکمل کرکے بڑی شائستگی بڑی احتیاط سے علیحدہ ہو گیا۔ ...

مزید پڑھیے

آخری صفحہ

چیئرنگ کراس کے طویل گھماؤ والے فٹ پاتھ پر اس نے ’’سالوس‘‘ سے ان کو نکلتے دیکھا۔ چابی کا چھلا انگلی میں انگوٹھی کی طرح گھماتے وہ سڑک کے پا ر پارکنگ لاٹ کی طرف آ رہے تھے۔ اس نے آنکھوں پر انگلیوں کے چھجے سے تیز دھوپ کی شعاعوں کو روکا۔ ہاں وہی تو تھے۔ یہ کب آئے بھلا اور دیکھو تو کسی ...

مزید پڑھیے

سورج زمین پر اترا تھا

سائمہ رحیم الدین کی ڈھیر ساری ریہرسلز تھیں۔ یوں تو سائمہ ہر فیشن شو کو سنجیدگی سے لیتی تھی لیکن اس فیشن شو کی ایک خاص بات بھی تھی۔ ایک تو یہی ایک شو تھا جو سیزن پرہو رہا تھا۔ لیکن بڑی بات وہ مغلیہ درباری کا رنگ ڈھنگ تھاجو پی سی کی سٹیج پر کمرشل آرٹس والوں نے عہد شاہجہاں یا عہد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5960 سے 6203