قومی زبان

ریت پر تیرتے جزیرے

’’انگریز بہادر بڑا مہربان رہا تھا تمہارے آغا جی کے دادا حضور پر۔ اور کیوں نہ ہوتا بھئی۔ وہ بھی آڑے وقتوں میں انگریز کے بڑے کام آئے تھے۔ سن ستاون میں جب انگریز کا بوریا بستر گول ہوتا نظر آرہا تھا تو تمہارے پڑدادا نے ان کی بڑی مدد کی۔ غدر کے موقع پر چھوٹے لاٹ صاحب کو فسادیوں سے ...

مزید پڑھیے

میں تجھے چاہتا نہیں لیکن۔۔۔

ہیگل اور مارکس کے تقابلی جائزے پر لیکچر روز کی طرح آج بھی بیزارکن تھا۔ میں کتنی دیر سے دانت بھینچ کر جمائیاں روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایک تو موضوع کی سنگینی، اس پر سر احمر کی بیزار سی تھکی تھکی مندی ہوئی آواز۔ وہ ڈائس پر دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں بھینچے چابی سے چلنے والے ...

مزید پڑھیے

دستک

رات کے کتنے پہر ہوتے ہیں اور یہ ان میں سے کونسواں پہر گزر رہا تھا،جانے؟ سفید کھدر کے لیمپ شیڈ کے نیچے وہ ابتدائے رات سے اپنے سے دگنی وزن کی کتاب لے کر بیٹھی تھی۔ گلاس میں رکھے دودھ پر یخ ہو کر کریم کی موٹی تہ جم گئی تھی۔ چوکیدار کی ڈرادینے والی سیٹی کبھی بہت دُور سنائی دیتی تھی ...

مزید پڑھیے

جو نگری نگری بھٹکائے

صائمہ نے تیسری منزل سے نیچے جھانک کر دیکھا۔ کیمپس سے ہوسٹل تک کی خالی سڑک پر نہر کے کنارے کنارے اکیلے چلنا نہایت بور کام ہے۔ اگر کہیں سے وہ کم بخت طوبیٰ مل جائے جس کی زندگی مصروفیات سے پُر اور وقت کم یاب تھا۔ لیکن وہ نیچے نہیں تھی۔ وہ کیفے ٹیریا بھی نہیں تھی۔ وہ ڈاکٹر غزنوی کے ...

مزید پڑھیے

زرد گلاب

ہاں یہ وہی تصویر ہے۔۔۔ وہی جو نہ جانے کب سے ہمارے کھانے والے کمرے میں لگی تھی۔۔۔ وہی جو نہ جانے کب سے ہمارے کھانے والے کمرے میں لگی تھی۔۔۔ یہ وہی ہے، بڑی سی بھاری تصویر جو تقریباً آدھے دیوار کو گھیرے تھی، یہی فریم اس وقت بھی تھا، یہی چوڑا سنہری فریم جس میں کٹاؤ کی جالی بنی تھی۔ ...

مزید پڑھیے

اللہ دے بندہ لے

جب فخرو سرسی سے سمبھل آیا تو اس نے دھوتی کی جگہ تہمد با ندھا۔ کمری اتار کے کرتا پہنا، سمبھل سے مراد آباد پہنچا تو تہمد کی جگہ پاجامے نے اور کرتے کی قمیض نے لے لی۔ سرسی میں وہ الف کے نام لٹھا نہیں جانتا تھا، سمبھل میں ہمارے ماموں نے اس کو اردو پڑھنا لکھنا سکھایا اور مراد آباد پہنچ ...

مزید پڑھیے

ماں

وہ اوندھے منہ زمین پر گر کر ہاتھ پاؤں مارنے لگا۔ جن بچوں کے ساتھ وہ کھیل کو د میں مشغول تھا وہ دوڑتے ہوئے اس کے گھر گئے اور اس کی ماں کو ساتھ لے آئے ۔ ماں نے جب روتے روتے اپنے دوپٹے سے اس کے جھاگ بھرے منھ کو صاف کیا تو وہ تھوڑی دیر بعد پھر سے اپنے حواس میں آگیا۔ ماں اسے گھرلے آئی اور ...

مزید پڑھیے

زہریلے ناخدا

اس کی جوانی ۔۔۔ زندگی اور موت کی آخری کشمکش میں مبتلا تھی۔ اسپتال میں خود کو پاکر اسے یک گونہ سکون محسوس ہوا لیکن جسم میں پھیل رہے زہر کو وہ کیسے روک پاتی۔ وہ حادثات اس کے ذہن میں گردش کرنے لگے جن کی وجہ سے آج وہ زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھیں۔ وہ ایک غریب دیہاتی گھرانے سے تعلق ...

مزید پڑھیے

سفید تابو ت

کالی کوٹھری کے اندھیرے تہہ خانے میں وہ جب اپنے بکھرے وجود کو سمیٹنے کی کوشش کرتا تو اندھیرے عالم کے خوفناک مناظر اس کی نیند پر شبخون مار نا شروع کردیتے اور اس کے ذہن میں شعور ، لاشعور اور تحت شعور کے بکھرے خیالات کے درمیاں تصادم شروع ہوجاتا ۔ بھیانک خوابوں کے وحشت ناک سائے اس کے ...

مزید پڑھیے

جنازے

وہ ایک آفت زدہ بستی تھی۔ وہاں طلو ع آفتا ب سے لیکر غروب آفتاب تک جنازے اٹھتے رہتے تھے۔ اس بستی میں موت کا رقص کئی برسوں سے جاری تھا ۔ کبھی بچے اپنے نرم و نازک ہاتھوں سے اپنے بزرگوں کی لاش پر مٹی ڈالتے اور کبھی بزرگ اپنے ناتواں کندھوں پر اپنے جوان بچوں کا جنازہ اٹھاتے رہتے ۔ ہر ایک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5961 سے 6203