خوشبو کی تلاش میں
وہ چپکے چپکے سب سے نظریں بچا کر اِدھراُدھر دیکھتی تھی مبادا کوئی اسے دیکھ نہ لے،خاموشی سے کبھی رات کے اندھیروں میں کبھی دن کے اجالوں میں زمین کھود کر مٹی کریدتی اوراسے سونگھتی ، کبھی آنکھوں کے دیے جل اُٹھتے کبھی ان میں مایوسی کا درد لہریں لیتا ،کبھی نا اُمید ہوکر روتی تو کبھی ...