قومی زبان

آخری سیڑھی کا مسافر

’’پہچانا۔۔۔؟‘‘شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بے حد آہستہ سے اس نے یکایک سر گوشیوں کے انداز میں پوچھا تو میری آنکھیں اس کے چہرے پر روشنائی کے دھبّے کی طرح پھیل گئیں ۔ اس کے بال کھچڑی ہو رہے تھے ۔ آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں اور گال ٹین کے خالی ڈبّوں کی طرح پچکے ہوئے تھے ۔اگرچہ اس کے چہرے پر ...

مزید پڑھیے

بگولے

قد آدم آئینے کے سامنے کھڑی لتیکا رانی اپنے برہنہ جسم کو مختلف زاویوں سے گھوررہی تھی ۔ اس کے ہونٹوں پر ایک مطمئن سی فاتحانہ مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں پر اسرار سی چمک۔ ایک ایسی چمک جو شکاری کی آنکھوں میں اس وقت آتی ہے جب وہ اپنا جال اچھی طرح بچھا چکاہوتا ہے اور ہونٹوں پر ایک مطمئن ...

مزید پڑھیے

آنگن کا پیڑ

دہشت گرد سامنے کا دروازہ توڑ کرگھسے تھے اور وہ عقبی دروازے کی طرف بھاگا تھا ۔ گھر کا عقبی دروازہ آنگن کے دوسرے چھور پر تھااور باہر گلی میں کھلتا تھالیکن وہاں تک پہنچ نہیں پایا ۔آنگن سے بھاگتے ہوئے اس کا دامن پیڑ کی اس شاخ سے الجھ گیا جو ایک دم نیچے تک جھک آئی تھی۔ یہ وہی پیڑ تھا ...

مزید پڑھیے

مصری کی ڈلی

راشدہ پر ستارہ زہرہ کا اثر تھا۔۔۔ وہ عثمان کے بوسے لیتی تھی! راشدہ کے رخسارملکوتی تھے۔ ہونٹ یاقوتی۔ دانت جڑے جڑے ہم سطح۔ اور ستار ہ زہرہ بُرج حوت میں تھا اور وہ سنبلہ میں پیدا ہوئی تھی۔ سنبلہ میں قمر آب و تاب کے ساتھ موجود تھا اور راشدہ کے گالوں میں شفق پھولتی تھی۔ آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

زندگی

کُوڑے کے ڈھیر پر بائیں کروٹ کے بل دائیں بازُو اور ٹانگ کو ایل کی شکل میں پھیلا کر بوڑھا ڈیوڈ اس طرح لیٹا تھا جیسے اُس کے پہلو میں جُوس کے خالی ڈبے ، بوتلیں ، سٹرا ، ٹِن اور پھلوں کے چِھلکے نہیں بلکہ گورے پاؤں والی خود لیٹی ہو ۔پاؤں کے دُودھیا پنجے سے پُھوٹتی مِلکی روشنی کے انعکاس ...

مزید پڑھیے

روشنی چاہیے،زندگی کے لیے

وہ خواب تھا یا گمان تھا یا دونوں کے درمیان کوئی ساعت مگر اندھیرا تھا کہ بڑھتا ہی جارہا تھا، خاص کر اس مقام پر جہاں روشنی کی ننھی سی کرن پھوٹنے کا ذرا سا بھی گمان ہوتا اندھیرا وہاں سب سے پہلے پہنچتااور اُمید کی کرن کو نکل کر پھیلنے سے پہلے نگل لیتا،روشنی سسک رہی تھی اور اندھیرا ...

مزید پڑھیے

اپنا اپنا قفس

’’ ماہی ،ما ہرہ، اے ماہرہ‘‘ ایک آ واز ہے جو میرے حافظے میں یوں رچ بس گئی ہے کہ میں چاہنے کے باو جود اس سے پیچھا نہیں چھڑا سکتی ۔ابا میاں کا سارا مرکز و محور میں ہی تھی، کبھی کبھی دل چاہتا سنی ان سنی کر دوں اور کہہ دوں: ’’ بابا خدا کے لیے آپ کی اور بھی اولادیں ہیں نا ۔۔۔آپ صرف مجھے ...

مزید پڑھیے

پسپائی

ایک عرصے کے بعددل میں پھر ایک ہوک سی اُٹھی اور وطن کی مٹی کی خوشبو نے سارے وجود کو لپیٹ میں لے لیا۔ ’’اتنے دنوں کے بعد جاکر کیا کروگی؟اب تو وہاں کوئی بھی نہیں ہے تمھارا۔‘‘میری دوستوں نے کہا تو میں رو پڑی۔ ’’سب کچھ تو ہے میرا وہاں،میرا شہر،اسکول ، کالج،یونیورسٹی،سمندر، میری ...

مزید پڑھیے

ایلس ونڈر لینڈ میں

ہسپتال آنا جانا میرا معمول بن گیا تھا، میں ہر روز اپنی بیٹی عینی کی واپسی سے پہلے استقبالیہ کے سامنے انتظار گاہ میں اس کی راہ دیکھتی رہتی، اس روز ایک بہت خوب صورت کم عمر سی لڑکی میرے قریب آکر بیٹھ گئی۔ اپنی طرف متوجہ دیکھ کر اس نے بڑی دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ ’’ہائے‘‘ کہا۔ میرے ...

مزید پڑھیے

ہم دونوں تنہا

میں جہاں بھی جاتی یا کوئی ملنے والا آتا ہمیشہ اسی بات پر آکر تان ٹوٹتی،’’ اتنے بڑے گھر میں تم دونوں تنہا ررہتے ہو؟‘‘میں بار بار وضاحت کرتی، ’’ اس گھر میں جب ہم دونوں ہیں تو تنہا کیسے ہوئے؟رہا تنہائی کا سوال تو بعض اوقات انسان مجمعے میں بھی تنہا رہ جاتا ہے، کبھی جی چاہتا کہہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5931 سے 6203