آخری سیڑھی کا مسافر
’’پہچانا۔۔۔؟‘‘شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بے حد آہستہ سے اس نے یکایک سر گوشیوں کے انداز میں پوچھا تو میری آنکھیں اس کے چہرے پر روشنائی کے دھبّے کی طرح پھیل گئیں ۔ اس کے بال کھچڑی ہو رہے تھے ۔ آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں اور گال ٹین کے خالی ڈبّوں کی طرح پچکے ہوئے تھے ۔اگرچہ اس کے چہرے پر ...